عمران خان کی موت کی افواہ نے اچانک زور کیوں پکڑ لیا؟

وفاقی حکومت نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ’موت‘ کو افواہوں کو بے بنیاد اور گمراہ کن تو قرار دے دیا ہے، لیکن ان افواہوں کے تیزی سے پھیلنے کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ 4 نومبر 2025 کے بعد سے نہ تو عمران خان کے وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت ملی ہے اور نہ ہی اہلخانہ کو۔ اسی غیر معمولی پابندی نے سازشی عناصر کو جھوٹی کہانیاں پھیلانے کا موقع فراہم کر دیا۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ کے بل گیٹ نامی ایک سرگرم ٹرول نے اسی صورت حال کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ جھوٹی خبر چلوائی کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں انتقال کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی اپنے اہلخانہ سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔ اس جھوٹ نے سوشل میڈیا پر مزید ہنگامہ برپا کر دیا۔
سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی کہانی پھیلنی شروع ہوئی تو کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جب کہ بعض نے یہ افواہیں پھیلائیں یہ دراصل عمران کو نہیں بلکہ ان کی ڈیڈ باڈی کو جیل سے شفٹ کیا گیا ہے اور اب اس بات کو چھپایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان گزشتہ دو سال سے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں دی گئی سزا کے تحت قید ہیں۔ جیل حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور انہیں جیل قوانین اور عدالتی احکامات کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی اپنے بھائی کے انتقال سے متعلق تمام افواہوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں جب عمران خان کی صحت یا موت سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں، تاہم اس بار صورتحال اس لیے بگڑتی دکھائی دی کہ گزشتہ تین ہفتوں سے اہلخانہ اور وکلا کی عمران خان تک رسائی مکمل طور پر بند ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے افواہوں کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ بار بار درخواست کے باوجود انکی خان صاحب سے ملاقات نہیں کرائی گئی، اس معاملے پر عمران کے اہلخانہ اور پارٹی قائدین اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ ہفتہ وار ملاقات کے دن بھی کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہی لیکن اس کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر عمران کی ایک پرانی تصویر گردش کرنے لگی جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹے دکھائی دیتے ہیں۔ بی بی سی نے اس تصویر کی ریورس سرچ کے ذریعے تصدیق کی تو پتہ چلا کہ یہ تصویر دراصل نومبر 2022 کی ہے، جب وزیرآباد میں لانگ مارچ کے دوران ان پر فائرنگ ہوئی تھی۔ اس تصویر کو ان کی موت کی جھوٹی کہانی کے ساتھ جوڑ کر پھیلایا گیا، جس نے عوام میں مزید غلط فہمیاں پیدا کیں۔
دوسری جانب ایکس پر #WhereIsImranKhan ٹرینڈ کرنے لگا اور مختلف صارفین عمران کی خیریت بارے سوال اٹھانے لگے۔ پی ٹی آئی کے لندن میں موجود رہنما زلفی بخاری نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان افواہوں کو مزید ہوا دی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیدِ تنہائی روز بروز بدتر ہو رہی ہے اور کئی ہفتوں سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران کو کہیں اور منتقل کیا گیا ہے تو عدالتی احکامات کے باوجود خاندان کو کیوں نہیں بتایا گیا؟ ان کے مطابق یہ خاموشی غیر قانونی بھی ہے اور انتہائی تشویشناک بھی۔
ادھر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی جمعرات کو عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے لیکن ان کی ملاقات اس مرتبہ بھی ممکن نہ ہو سکی۔ انہوں نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور اگر معاملات ایسے ہی رہے تو حالات کسی بڑے ردعمل کی طرف جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کیا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں عمران کی موت کی افواہوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟
ادھر پنجاب حکومت نے عمران خان کی اڈیالہ سے کسی اور مقام پر منتقلی کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل حکومت پنجاب کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں، انہیں تمام سہولیات فراہم ہیں اور ڈاکٹرز ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل حکام کے مطابق عمران اپنی قید کے دوران سیاسی ملاقاتیں بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھار احتجاج سے متعلق ہدایات بھی جاری کرتے ہیں، اس لیے تمام امور قانون کے مطابق نمٹائے جا رہے ہیں۔
