شہباز حکومت نے بھٹو دور کے عوامی یوٹیلٹی سٹورز کیوں بند کر دیئے؟

بھٹو دور میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے بعد ارزاں نرخوں پر غریب عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کیلئے بنائے گئے یوٹیلیٹی سٹورز کو شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے بند کر دیا ہے۔ جولائی 1971 میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم کردہ یوٹیلیٹی سٹورز کو 54سال بعد حکومتی نجکاری اور رائٹ سائز نگ پالیسی کے تحت ختم کرنے کے فیصلے پر عوام سراپا احتجاج ہیں اور انھوں نے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
جمعرات کو وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں باضابطہ طور پر بتایا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی تمام سرگرمیاں 31جولائی سے بند کر دی گئی ہیں۔‘۔ تاہم، اسٹورز کا سامان گوداموں میں منتقل کرنے، وینڈرز کو واپس کرنے اور انوینٹری کی حوالگی کا عمل جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے خلاف اسلام آباد میں ادارے کے ہیڈ آفس کے باہر 10 روز سے برطرف کیے گئے ملازمین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے، تاہم اس دوران ہی وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے بندش کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کو خسارے کا شکار ادارہ قرار دیتے ہوئے اسے نجکاری کی تیاری کے تحت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کو رواں برس بھی آٹھ ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے ، لہٰذا یہ مالی بوجھ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘ حکام کے مطابق اس حوالے سے حکومت نے ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے یوٹیلیٹی سٹورز کے اثاثوں کی مالیت، نجکاری کے ڈھانچے، اور رضاکارانہ علیحدگی کی سکیم پر غور کیا تھا۔اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے بعد ادارے کے ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی کی سکیم متعارف کرائی۔
اس سکیم کے تحت ریگولر ملازمین کو اُن کی بنیادی تنخواہ کے مطابق دو سے تین ماہ کی رقم بطور پیکج ادا کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ملازم کی بنیادی تنخواہ 30 ہزار روپے ہے، تو اسے 60 ہزار سے 90 ہزار روپے کے درمیان ایک مرتبہ کی ادائیگی کی جائے گی۔
تاہم دوسری جانب وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث یوٹیلیٹی سٹورز کے ملازمین اسلام آباد میں بدستور سراپا احتجاج ہیں۔مرکزی رہنما جوائنٹ ایکشن کمیٹی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان سید عارف شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہم یوٹیلیٹی سٹورز کی زبردستی بندش اور ملازمین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو تسلیم نہیں کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کا یہ فیصلہ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے، اور اگر اسے فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو اسلام آباد میں ہمارا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔‘یوٹیلیٹی سٹورز ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ عدالتوں سے باہر نکالے گئے تمام ملازمین کو دوبارہ بحال کیا جائے اور اُن کی روکی گئی تنخواہیں فوری جاری کی جائیں۔جب تک حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر پیکج کا فائنل نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتی، ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
نہ پاکستانی شناخت نہ پاسپورٹ ،عمران کے بچے برطانوی شہری نکلے
خیال رہے کہ بندش سے قبل ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز کی کل تعداد 3700 تھی، جسے پہلے مرحلے میں کم کر کے 1700 کر دیا گیا تھا جبکہ اب بندش کے آغاز کے وقت فعال سٹورز کی تعداد صرف 600 رہ گئی تھی، جبکہ 31 جولائی تک ملک بھر میں تقریباً تمام سٹورز بند ہو چکے تھے، کیونکہ حکومت پہلے ہی مرحلہ وار بندش کا عمل شروع کر چکی تھی۔ اگر ملازمین کی بات کی جائے تو بندش سے قبل یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن میں تقریباً 6000 ملازمین کام کر رہے تھے، جبکہ ایک وقت میں یہ تعداد 12 ہزار سے بھی زائد تھی۔کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین کو پہلے ہی فارغ کیا جا چکا ہے، جبکہ ریگولر ملازمین کے مستقبل سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
