دھیمے لہجے والے احمد ندیم قاسمی کو جیل کیوں بھگتنا پڑی؟

معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کا شمار ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار بھی ہوئے اور پابند سلاسل بھی رہے۔ دھیمے لہجے اور سنجیدہ شخصیت والے قاسمی صاحب نے اپنی 90 سالہ زندگی میں پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

پاکستانی ادب کی ہمہ جہت ادبی شخصیات میں شمار ہونے والے احمد ندیم قاسمی ایک بے مثل شاعر بھی تھے جبکہ اُن کے قلم سے نکلے ہوئے افسانوں نے اردو فکشن پر بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں. شاعری کو اپنا پہلا عشق ماننے والے قاسمی کے الفاظ کی بےساختگی نے ادب کی دنیا میں کبھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑے ہیں۔ 20 نومبر 1916 کو وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیرغلام نبی کے گھر پیدا ہونے والے احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا۔ گورنمنٹ اسکول کیمبل پور میں ابتدائی تعلیم کے بعد۔ 1931 میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک اور 1935 صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کیا۔ قاسمی صاحب کی ابتدائی زندگی کافی مشکلات بھری تھی۔ جب وہ اپنے آبائی گاؤں کو خیرباد کہہ کر لاہور پہنچے تو ان کی گزر بسر کا کوئی سہارا نہ تھا۔ کئی بار فاقہ کشی کی بھی نوبت آ گئی لیکن ان کی غیرت نے کسی کو اپنے احوال سے باخبر کرنے سے انہیں باز رکھا۔ انھی دنوں ان کی ملاقات اختر شیرانی سے ہوئی جنہوں نے انہیں لاہور میں سیٹل کرنے میں کافی مدد کی۔ قاسمی بھی اختر شیرانی کی شاعری کے گرویدہ تو پہلے ہی سے تھے، لیکن ان کے مشفقانہ رویے نے قاسمی کو ان سے شخصی طور پر بھی بہت قریب کر دیا۔

یاد رہے کہ اختر شیرانی اپنی کثرت مہ نوشی کی وجہ سے جانے جاتے تھے لیکن ان کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کے باوجود قاسمی نے کبھی بھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ان کی طبیعت میں لاابالی پن آیا۔ اس سے ان کے مزاج کی استقامت اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھی دنوں احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے ماہانہ رسالے پھول کی ادارت کی پیش کش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔ پھول بچوں کا رسالہ تھا۔ اس کی ایک سالہ ادارت کے زمانے میں قاسمی صاحب نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں جو بچوں میں بہت پسند کی گئیں۔

قاسمی کی شاعری کی ابتدا 1931 میں ہوئی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی۔ قاسمی نے لفظوں کی بے ساختگی سے ادبی دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے۔سعادت حسن منٹو ،راجندر سنگھ بیدی ، کرشن چندر ، عصمت چغتائی ، غلام عباس جیسے افسانہ نگاروں اور چوٹی کے ہم عصر شعراء کی موجودگی میں ان دونوں اصناف میں اپنی پہچان بنانا معمولی بات نہیں تھی۔ ان کی نظم ” نہ محبت نہ صباحت فانی، یہ سمندر ہیں صدا طوفانی” کو روبینہ بدر نے نہایت خوبصورت انداز میں گا کر لافانی بنا دیا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کی غزلیں ایک نئی کیفیت سے دوچار کرتی ہیں تو ان کی نظمیں بھی پڑھنے والوں پرسوچ کے نئے دریچے کھول دیتی ہیں۔

شاعری احمد ندیم قاسمی کا پہلا عشق تھی، لاتعداد خوبصورت غزلوں اعر نظموں کے خالق انکے کچھ اشعار تو اس قدر زبان زد خاص وعام ہیں کہ انہیں ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہوئی۔ جیسے کہ یہ شعر کہ:

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا

احمد ندیم قاسمی کاانتقال 10جولائی 2006 کو 90 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہو جانے سے لاہور میں ہوا۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ تمام عمر قلم کی خدمت کرنے والے قاسمی صاحب نے 50 سے زائد کتب، کتابیں، 17 افسانوی مجموعے اور 6 شعری مجموعے لکھے۔ تنقید و تحقیق کی 3 کتابوں کے علاوہ ترتیب وترجمہ کی 6 کتابیں اور بچوں کے لئے بھی بہت کچھ لکھا جسکا انتخاب تین کتابوں کی صورت شائع ہوا۔

بھارتی فلم انڈسٹری کے کئی سُپرہٹ گانے لکھنے والے مقبول ترین شاعرگلزار، احمد ندیم قاسمی کو اپنا استاد مانتے تھے اور ان کی وفات پر گلزار کی ہی گئی نظم “بابا” واقعی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا حق ادا کردیتی ہے۔ گلزار نے لکھا کہ:

حواس کا جہان ساتھ لے گیا

وہ سارے بادبان ساتھ لے گیا

بتائیں کیا وہ آفتاب تھا کوئی

گیا تو آسمان ساتھ لے گیا

کتاب بند کی اور اٹھ کے چل دیا

تمام داستان ساتھ لے گیا

میں سجدے سے اٹھا تو کوئی بھی نہ تھا

وہ پاﺅں کے نشان ساتھ لے گیا

Back to top button