طالبان دہشت گردوں نے بابائے طالبان کے بیٹے کو کیوں ٹارگٹ کیا؟

پاکستان کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ایک خودکش دھماکے میں مارے جانے والے مولانا حامد الحق حقانی نے صرف دو ہفتے قبل وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک اجلاس میں تحریکِ طالبان پاکستان سے مطالبہ تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گرد حملے روک دے۔ اجلاس میں مولانا حامد الحق حقانی کی سربراہی میں ایک وفد کابل بھجوانے کا فیصلہ بھی ہوا تھا تاکہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے روکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ تاہم طالبان دہشت گردوں نے مولانا حامد الحق کو ہی ختم کر دیا حالانکہ ان کے والد مولانا سمیع الحق مرحوم کو بابائے طالبان کہا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے والے دونوں خودکش بمباروں نے بھی واردات سے ایک رات پہلے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہی قیام کیا تھا۔

یاد رہے کہ مولانا حامد الحق حقانی 2 نومبر 2018 کو اپنے والد مولانا سمیع الحق کے پراسرار قتل کے بعد جمعیت علمائے اسلام (سمیع گروپ) کے سربراہ بنے تھے۔ مولانا سمیع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی تھے جنہیں چند برس قبل راولپنڈی میں ان کی خواب گاہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش حملہ نمازِ جمعہ کے بعد ہوا جب مولانا وہاں سے نکل رہے۔ مولانا حامد الحق کے کمسن بیٹے عبدالحق ثانی اور انکے بھتیجے سمیت پانچ افراد بھی دھماکے میں مارے گے۔ مولانا حامد الحق حقانی شادی شدہ تھے اور اُن کے چار بچے ہیں۔

مولانا حامد الحق دراصل مولانا عبدالحق کے پوتے تھے۔ حامد الحق 1968 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں اکوڑہ خٹک کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے دارالعلوم حقانیہ سے مزید دینی تعلیم حاصل کی۔

مولانا حامد الحق حقانی نے 2002 کے عام انتخابات میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا اور رُکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ ضلع نوشہرہ کے اس حلقے سے مولانا حامد الحق کے دادا مولانا عبدالحق 1977 اور 1985 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے تھے ۔ تاہم 2002 کے بعد اسی خاندان کا کوئی فرد عام انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

سابق فوجی صدور ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں مولانا سمیع الحق دو مرتبہ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے رُکن بنے۔ ایک زمانے میں ایک خاتون کی جانب سے الزامات کی زد میں آنے کے بعد مولانا سینڈ وچ کا خطاب پانے والے مولانا سمیع الحق کو فادر آف دی طالبان بھی کہا جاتا تھا کیونکہ ان کے افغان طالبان کی مرکزی قیادت سے ذاتی مراسم تھے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ موجودہ طالبان حکومت کی مرکزی کابینہ کے کئی وزراء دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل ہیں۔

1947 میں قیامِ پاکستان کے فوری بعد جمعیت العلماء ہند اور دارالعلوم دیوبند سے منسلک مکاتبِ فکر کے علما میں شمار ہونے والے مولانا عبدالحق نے 23 ستمبر 1947 کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی برسوں میں برِصغیر پاک و ہند کے دیگر مدرسوں کی طرح دارالعلوم حقانیہ بھی ایک عام سا مدرسہ تھا تاہم بعدازاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ یہاں آنے لگے۔ خاص طور پر افغانستان سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے دارالعلوم حقانیہ میں داخلہ لیا۔ افغانستان میں 1979 میں سوویت افواج کی آمد کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے کئی افغان مہاجرین نے اس درس گاہ میں داخلہ لیا جن میں سے کئی بعد میں افغان طالبان کے مرکزی قائدین بن کر ابھرے۔

افغان جنگ شروع ہونے سے قبل افغانستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم حقانیہ کے طلبہ میں مولوی جلال الدین زدران سر فہرست تھے جو بعد میں نہ صرف عالمی سطح پر مولوی جلال الدین حقانی کے نام سے جانے پہچانے لگے بلکہ انہوں نے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف حقانی نیٹ ورک قائم کر دیا۔ حقانی نیٹ ورک پر امریکہ اور اتحادی افواج پر حملوں کے الزامات لگتے رہے۔ جب کہ یہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں بھی متحرک رہا۔

جلال الدین حقانی کے صاحبزادے اور حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ سراج الدین حقانی اس وقت افغان طالبان حکومت میں وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ نے جہاں ایک جانب مذہبی انتہا پسندی کے رجحان کو فروغ دیا، وہیں مختلف اسلامی ممالک کے طلبہ بھی دینی تعلیم کے حصول میں دلچسپی لینے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد مختلف وسط ایشیائی ممالک سے بھی کئی طلبہ نے اس مدرسے میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم حقانیہ طالبان کے لیے ایک طرح سے ‘یونیورسٹی’ ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ پاکستان اور افغانستان میں مذہبی اور سیاسی تحریکوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس مدرسے نے مولانا سمیع الحق کے دور میں زیادہ شہرت حاصل کی جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں مولانا سمیع الحق کو ‘بابائے طالبان’ بھی کہا جاتا رہا ہے۔

سابق افغان رہنما پروفیسر برہان الدین ربانی، مولای یونس خالص، مولوی جمیل الرحمان اور مولانا محمد نبی محمدی سمیت دیگر کئی افغان طالبان رہنما بھی اسی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

خودکش بمبار نے مولانا حامد الحق کے گلے لگنے کے بعد دھماکہ کیا

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث دو خودکش بمباروں نے بھی حملے سے ایک رات پہلے دارالعلوم حقانیہ اکوڑا خٹک میں ہی قیام کیا تھا۔ ان دونوں کو تحریک طالبان پاکستان کے بانی امیر بیت اللہ محسود نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے لیے روانہ کیا تھا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مکافات عمل کے اصول کے تحت انہی طالبان نے اب مولانا حامد الحق حقانی کو بھی قتل کر دیا ہے۔

Back to top button