پاکستان میں دہشت گردوں نے واردات کا طریقہ کیوں بدل لیا؟

ایک جانب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف دہشت گردوں نے اپنا طریقہ واردات بھی تبدیل کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دہشت گردوں کے حملے زیادہ تر سیکیورٹی فورسز تک محدود تھے۔ لیکن اب انہوں نے اپنی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان، بینک ڈکیتیوں اور اہلکاروں کو نوکریاں چھوڑنے کی دھمکیاں دینے جیسے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں پولیس، لیویز اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں کے اغوا کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ زیادہ قابل شرم بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو رہا کروانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بجائے جرگوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ حال ہی میں تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجو پاکستان اٹامک انرجی کے اہلکاروں کو بندوق کی نوک پر اغوا کر چکے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مختلف عمائدین کی کوششوں سے ٹی ٹی پی والوں کے ساتھ جرگے کی کئی نشستیں منعقد ہو چکی ہیں، تاہم صورتِ حال بدستور تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے حساس اور شورش زدہ علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال پر پھر سوال اُٹھا دیے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں اور سرحدی علاقوں میں رات کے اوقات میں شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت ریاستی عمل داری کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی واپسی اور اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باعث شدت پسندوں کو پنپنے کا موقع ملا ہے۔
سنگاپور میں شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالباسط کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے طریقہ واردات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ عبدالباسط کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے سابقہ قبائلی علاقوں میں پیٹرولنگ نے مقامی رہائشیوں کے خوف و ہراس کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے جو کہ ریاستی رٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام عوامل شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ان کے دائرہ کار کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے ٹی ٹی پی کی کارروائیاں سابقہ قبائلی علاقوں تک محدود تھیں۔ لیکن اب انہوں نے جنوبی اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان علاقوں میں شدت پسند کھلے عام حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں جو کہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ خطے میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو حکومت کی غیر واضح اور غیر مؤثر پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی میں تسلسل اور وضاحت کا فقدان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں کی مقامی آبادی کا حکومت اور ریاست پر بداعتمادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر ٹی ٹی پی نے نہ صرف اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں بلکہ نئے علاقوں تک اپنے اثر و رسوخ کو بھی بڑھا رہی ہے۔ چنانچہ پاکستانی حکومت ابتدا ہی سے اس مخمصے کا شکار رہی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی جائے یا مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔
اُن کے بقول موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان جاری کشمکش اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند ان تمام اندرونی اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے ریاستی ادارے ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ٹی ٹی پی اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں ہے کیوں کہ اسے طالبان حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ اُن کے بقول موجودہ حالات میں اگر مذاکرات کا راستہ اپنایا جاتا ہے تو ٹی ٹی پی فاٹا انضمام کو واپس لینے اور شریعت کے نفاذ جیسے سخت مطالبات کے ساتھ سامنے آئے گی۔ اُن کے بقول زمینی حالات اس قدر گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں کہ محض فوجی آپریشن کےساتھ شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کو صرف آپریشنز پر انحصار کرنے کے بجائے بلوچستان لبریشن آرمی اور ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لیے ایران اور افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشنز اپنی سرحدوں کے اندر تو مؤثر ہو سکتے ہیں، لیکن سرحد پار آپریشن صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں جیسا کہ حالیہ واقعات میں دیکھنے کو ملا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو فضائی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اگرچہ پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی، تاہم دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس بات کا عندیہ دیا کہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ہدف بناتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان ایرانی سرحد کے اندر بھی مبینہ شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کالعدم تنظیم نے 2024 میں مجموعی طور پر 1758 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹی ٹی پی نے ایک نیا بیان جاری کرتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے فوج کے ذیلی اداروں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر احمد کا کہنا ہے کہ شدت پسند پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دو دہائیاں گزار چکا ہے، لیکن گوریلا جنگوں کی نوعیت ہمیشہ طویل اور پیچیدہ ہوتی ہے۔
تاہم وہ شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ میں سست روی یا ناکامی کی بنیادی وجہ نیشنل ایکشن پلان کا مکمل طور پر نافذ نہ ہونا اور سیاسی چپقلش کو قرار دیتے ہیں۔
بریگیڈیئر (ر) سید نذیر احمد کا کہنا ہے کہ اسوقت خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع شدت پسندوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ اُن کے بقول صوبائی حکومت فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے رہی جب کہ مقامی افراد بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے سیکیورٹی ادارے ایک محدود دائرے میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
بریگیڈیئر (ر) سید نذیر احمد کہتے ہیں کہ سیکیورٹی ادارے صرف انٹیلی جینس آپریشنز پر انحصار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان آپریشنز کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں شہادتیں ہو رہی ہیں جو صورتِ حال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ باسط کے مطابق ٹی ٹی پی کے مسئلے کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات، مہاجرین کا مسئلہ اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شخصیات جو طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان مسائل کے حل کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ اس تاریخی پس منظر سے ناآشنا تھیں۔
افغان طالبان پاکستان سے دوستی بھلا کر انڈیا کی گود میں کیوں جا بیٹھے؟
عبدالباسط کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے حکمتِ عملی محض ‘امید’ پر مبنی تھی۔ اُن کے بقول جب یہ امید ٹوٹ گئی تو پھر غصے میں بارڈر کی بندش، فضائی حملے، مہاجرین کی بے دخلی اور سرحدی تجارت پر سختی جیسے اقدامات اپنائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو بڑھا دیتے ہیں جس سے مسئلے کا حل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
