UAEنے فوجی فاؤنڈیشن کے ایک ارب ڈالر مالیت کے شیئرز کیوں خریدے؟

 

 

 

متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے فوجی فاؤنڈیشن کے شئیرز کی خریداری کا معاملہ ملکی سیاسی و معاشی حلقوں میں زیر بحث ہے جہاں ایک طرف اس پیشرفت کو عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستانی معیشت پر بھرپور اعتماد کا غماز قرار دیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب بعض تجزیہ کار اسے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی حکومتی چال قرار دے کر ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق یو اے ای حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان پر واجب الادا ایک ارب ڈالر کی رقم ختم ہو گئی ہے، جسے ملکی معاشی حالات کے تناظر میں ایک اہم مالی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے اپنے تین ارب ڈالرز میں سے ایک ارب ڈالر کے بدلے شیئرز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اس سرمایہ کاری منصوبے کے تحت متحدہ عرب امارات کو فوجی فاؤنڈیشن کی کمپنیوں کے ایک ارب ڈالر مالیت کے شیئرز فروخت کیے جائیں گے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک میں موجود تین ارب ڈالرز میں سے ایک ارب ڈالر کی واپسی کی ذمے داری پاکستان پر باقی نہیں رہے گی۔اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں رکھوائے گئے ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو فوجی فاؤنڈیشن سے منسلک کمپنیوں کے شیئرز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد یہ رقم پاکستان کے قرضوں کی کتاب سے خارج ہو جائے گی۔

یو اے ای حکومت کی جانب سے فوجی فاؤنڈیشن کے شئیرز خریدنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جہاں صارفین اس معاہدے پر سوالات اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔ بعض صارفین معترض ہیں کہ فوجی فاؤنڈیشن حکومتی ادارہ نہیں تو پھر وزیر خارجہ اس معاہدے کی بات کس حیثیت میں کر رہے ہیں؟ معاشی ماہرین کے مطابق یو اے ای کی جانب سے  فوجی فاؤنڈیشن کے شئیرز خریدنے کا معاملہ بنیادی طور پر ایک ’اکاؤنٹنگ ٹریٹمنٹ‘ ہو گی یعنی کھاتے میں ایک ارب ڈالرز امارات کو واپس کیے جائیں گے اور یہ رقم فوجی فاؤنڈیشن کی کمپنیوں کے حصص کی خریداری کی صورت میں سرمایہ کاری میں ظاہر ہو گی۔ تاہم حکومت پاکستان فوجی فاؤنڈیشن کو ایک ارب ڈالر کے بدلے روپوں میں ادائیگی کرے گی اس طرح اس کے ذمے ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔ معاشی ماہرین کے بقول اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ماڑی انرجیز اور فوجی فرٹیلائزر جیسی کمپنیوں کے حصص یو اے ای کو فروخت ہوں گے کیونکہ فوجی فاونڈیشن کے پورٹ فولیو میں یہ بڑی کمپنیاں ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری کی اصل وجہ کیا؟خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ایکس پر لکھا کہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کے بدلے حکومت فوجی فاونڈیشن کے حصص دے گی۔ سوال یہ ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن تو حکومت پاکستان کی ملکیت نہیں۔ تو اس کے بدلے حکومت فوجی فاؤنڈیشن کو کیا دے گی؟ صحافی فرحان ملک نے سوال اُٹھایا کہ تو کیا نئی سرمایہ کاری کے بجائے امارات اب کیش ڈیپازٹ سے ایک ارب ڈالرز نکالے گا اور اسے فوجی گروپ میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرے گا؟

 

کچھ صارفین اس معاملے کو سمجھنے کے لیے مزید سوالات بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں جن میں سے سرفہرست تو یہی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے فوجی فاؤنڈیشن کے شئیرز خریدنے کا ہی فیصلہ کیوں کیا؟۔ ماہرِ معیشت ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ حکومتِ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو صرف فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ حکومت نے یو اے ای حکام کے سامنے زراعت، مائننگ، توانائی سمیت وہ تمام شعبے رکھے ہوں گے جن میں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم یو اے ای حکام نے فوجی فاؤنڈیشن میں دلچسپی ظاہر کی اور اسی شعبے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا کیونکہ عالمی کمپنیوں کو کسی بھی مارکیٹ میں جو چیز زیادہ منافع بخش نظر آتی ہے اسی میں  سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی ہیں۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن کے شئیرز کی خریداری کیلئے یو اے ای کے سٹیٹ بنک میں رکھوائے گئے تین ارب ڈالرز میں اسے ایک ارب ڈالر نکلنے سے معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے 15ارب ڈالرز کے زر مبادلہ کے ذخائر میں سے 12 ارب ڈالر ان ڈیپازٹس پر مشتمل ہیں جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی جانب سے مرکزی بینک کے پاس رکھوائے گئے ہیں۔ ان میں پانچ ارب ڈالر سعودی عرب، چار ارب ڈالر چین اور تین ارب ڈالر متحدہ عرب امارات کی جانب سے رکھوائے گئے تھے۔ پاکستان کے بیرونی قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کی وجہ سے ملک کو بیرونی خسارے کا سامنا رہتا ہے اور یہ ڈیپازٹس ملک میں ایکسچینج ریٹ کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کی جانب سے یہ ڈیپازٹس مفت میں نہیں رکھے گئے بلکہ اس پر پاکستان ہر سال ان ڈیپازٹس پر تین سے چار فیصد سود کی ادائیگی کرتا ہے۔ تاہم اب یو اے ای کو فوجی فاؤنڈیشن کی کمپنیوں کے شیئرز کی فروخت کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالرز پر سود کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی تاہم امارات کی جانب سے فوجی فاونڈیشن کے حصص کی خریداری کے بعد فوجی فاؤنڈیشن کو اس پر سالانہ منافع ڈالرز کی شکل میں یو اے ای کو دینا پڑے گا۔

 

واضح رہے کہ پاکستان میں فوجی فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن کی انتظامیہ فوج کے ریٹائرڈ افراد پر مشتمل ہے اور فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کا شمار ملک کے بڑے کاروباری گروپوں میں ہوتا ہے۔رواں سال اگست میں جاری کیے جانے والے اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ سروے کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن 5.90 ارب ڈالر کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا کاروباری گروپ ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کا کاروباری پورٹ فولیو کئی بڑی کمپنیوں پر مشتمل ہے جن میں تیل و گیس کی تلاش اور مائننگ کے شعبے میں ماڑی انرجیز، کھاد بنانے میں ملک کی سب سے بڑی کمپنی فوجی فرٹیلائزر، فوجی سیمنٹ اور عسکری بینک شامل ہیں۔فاؤنڈیشن کے تحت 30 سے زائد صنعتی یونٹس کام کر رہے ہیں جبکہ یہ ادارہ خوراک، بجلی کی پیداوار، ایل پی جی کی مارکیٹنگ و تقسیم اور سکیورٹی سروسز کے شعبوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

Back to top button