مریم کو کوسنے والے چاچے کو کھڑکی توڑ مقبولیت کیوں ملی؟

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وزیر اعلی کے خلاف بدتہذیبی اور گالم گلوچ پر مبنی ویڈیوز پوسٹ کرنے کا قطعاً کوئی جواز نہیں بنتا، لیکن لاہور میں موسلا دھار بارش کے دوران مریم نواز کے خلاف سرعام دشنام طرازی کرنیوالے’’چاچا‘‘ نے اس جرم کی پاداش میں گرفتاری کے بعد جو کھڑکی توڑ مقبولیت حاصل کی ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا جادو اب سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اگر ایک شخص نے سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ویڈیو میں مریم مخالف جذبات کا اظہار کر ہی دیا تھا تو اسے گرفتار کر کے معاملے کو اور بھی ذیادہ ہوا دی گئی، چاچے کی گرفتاری ایک ویڈیو بنانے پر کی گئی تھی جبکہ اس گرفتاری کے نتیجے میں ایسی لاکھوں ویڈیو بن کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ جہاں تک معاشرتی بگاڑ اور بد زبانی کا تعلق ہے تو شیخ ابوبکر ترمذی کا ایک قول یاد آرہا ہے۔ انہوں نے معاشرتی بگاڑ کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: "اُمرا بگڑیں تو رعیت کی معاش بگڑ جاتی ہے، علماء بگڑیں تو شریعت کا طریق بگڑ جاتا ہے اور جب فقراء بگڑیں تو لوگوں کے اطوار و اخلاق خراب ہو جاتے ہیں۔ امراء کا بگاڑ ظلم‘ علماء کا بگاڑ طمع اور فقراء کا بگاڑ ریا کاری ہے۔‘‘ لہٰذا بلال غوری کے بقول یہ نہیں ہوسکتا کہ اُمرا اور اشرافیہ کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ حاصل ہو، یہ لوگ پہلے چینی درآمد کرکے مال بنائیں اور پھر چینی درآمد کرکے دولت کمائیں، عوام پر ظلم و جبر کا سلسلہ بلا توقف جاری رہے اور انکے اخلاق واطوار نہ بگڑیں۔
معروف فلسفی ابن خلدون نے کہا تھا کہ: جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو اُنکے اخلاق بھی بگڑ جاتے ہیں۔ روسی دانشور اور ادیب دوستو فیسکی نے یہی بات ایک اور انداز میں کہی۔ اس نے لکھا کہ پہلے لوگوں کو کھانے کے لیے دو، پھر اُن سے نیکی اور فضیلت کی توقع کرو۔ گویا دونوں مفکر صدیوں پر محیط فاصلے کے باوجود ایک ہی حقیقت پر متفق نظر آتے ہیں کہ نہ تو بھوک کے سائے میں عزت نفس پروان چڑھتی ہے اور نہ ہی خالی پیٹ والے سے اخلاق کی توقع کی جانی چاہیے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ امیروں کو نوازنے والی حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی کا شکار ہونے والے عوام کا حکومت کے خلاف غصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا یے۔ سچ تو یہ ہے کہ روز بروز بلکہ لمحہ بہ لمحہ اس غصے کی شدت میں اضافہ ہو رہو ہے۔ ارباب اقتدار بھی اس غصے کو بڑھانے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ بجٹ میں ’’اُمرا‘‘ کے زیر استعمال 850 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں پر نہ صرف سیلز ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے بلکہ کلائمیٹ سپورٹ ٹیکس عائد ہونے کے بعد یہ گاڑیاں مزید مہنگی ہو جائینگی۔ اسکے برعکس بڑی اور پرتعیش گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اورایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کم کردی گئی ہے جس سے ان گاڑیوں کی قیمتوں میں پونے پانچ کروڑ روپے تک کی کمی ہوگئی ہے۔ یعنی امیروں کی گاڑیاں سستی کر دی گئی ہیں جبکہ غریبوں کی کاریں مہنگی کر دی گئی ہیں۔ شاید اس فراخ دلانہ فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی بھی بی ایم ڈبلیو جیسی بڑی گاڑیاں خرید سکے۔
اپنی طنزیہ تحریر میں بلال غوری کہتے ہیں کہ اس حکومتی فیاضی کے باوجود اگر عوام بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا ہونیکا شکوہ کرنے پر بضد ہیں تو یقینا ان کا تعلق فتنہ اور انتشار پھیلانے والے کسی گروہ سے ہوگا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا عوام بھول گئے کہ اس حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور کبھی احسان بھی نہیں جتلایا۔ جہاں تک ایک ماہ کے دوران مسلسل دوسری بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق ہے تو آپ کو یاد ہوگا جب عالمی منڈی میں تیل کے نرخ کم ہوئے تھے تو اسکا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا گیا تھا تاکہ اس سے اکٹھا ہونے والی رقم سے بلوچستان کی سڑکیں تعمیر کی جا سکیں۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں شدید بارشوں کا خدشہ : این ڈی ایم اے
بلال غوری کہتے ہیں کہ اب وہاں پنجابی مزدوروں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں سر عام بسوں سے اتار کر سڑکوں پر قتل کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف سکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانا ہے بلکہ مرنے والوں کے کفن دفن اور مالی امداد کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ان انتظامی و فلاحی اقدامات کیلئے پیسے کہاں سے لائے؟ ٹیکس بڑھائے جاسکتے ہیں مگر اس کیلئے متعلقہ محکموں کو سخت محنت کرنا پڑے گی اور حکومت یقینا انہیں اس مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی۔لہٰذا حکومتی آمدن بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بجلی ،گیس اور پیٹرول پرزیادہ سے زیادہ ٹیکس عائد کردیا جائے اور عوام کو نچوڑا جائے۔ گزشتہ برس مجموعی طور پر ٹیکس وصولی کا نظر ثانی شدہ ہدف 11900 ارب روپے رکھا گیا تھا جس میں سے 1289 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے جمع کیا جانا تھا، تاہم اس مد میں 1161 ارب روپے حاصل ہوئے۔ لیکن اب چونکہ ملکی معیشت کو بہتر بنانا ہے چنانچہ اس برس پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 1468 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، یعنی عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے پر بھی عوام کسی قسم کی اچھی خبر کی اُمید نہ رکھیں کیونکہ پیٹرول لیوی جتنی زیادہ ہوگی، انکے منتخب نمائندوں اور سرکاری افسروں کو اتنی ہی وافر مقدار میں مفت پیٹرول فراہم کیا جاسکے گا تاکہ وہ مزید جاں فشانی کیساتھ عوام کی خدمت کر سکیں۔
بلال غوری کے بقول عوام کیلئے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اورسابق وزیر اعظم میاں نوازشریف گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔اس سے پہلے جب پی ڈی ایم کی حکومت تھی تو وہ عوام کے حقوق کا مقدمہ پیش کیا کرتے تھے۔ بتایا گیا کہ ایک بار اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جب وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرول مہنگا کرنیکا فیصلہ کیا تو نواز شریف نے سخت خفگی کا اظہار کیا اور اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے۔ لیکن اب انکی عدم مداخلت کے بعد کسی قسم کی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
