امریکی FBI نے پاکستان میں ایرانی سفیر کو اغوا کار کیوں بنایا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ مارچ 2007 میں اغواء ہونے والے ایک امریکی ایجنٹ کے اغواء کے 18 برس بعد اچانک امریکی ایف بی آئی نے پاکستان میں ایرانی سفیر کو اس اغوا کا ذمہ دار قرار دے کر ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی ہر برس اپنے ایجنٹ کے اغوا کی برسی پر ایک پریس ریلیز جاری کرتی یے جس میں دو ہی ایرانی عہدے داروں کا ذکر ہوتا تھا، لیکن 18 برس 2025 کے بعد اس نے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کو بھی مبینہ اغوا کاروں میں شامل کر دیا ہے۔ انکے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ایف بی آئی کا سربراہ ایک بھارتی نزاد امریکی شہری کاش پٹیل ہے۔

 

نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیہ میں کہتے ہیں کہ 25 جون 2025ء کو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی پریس ریلیز میں ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم کو تصویر سمیت ان 3 افراد میں نام لے کرشامل کیا گیا ہے جو مارچ 2007 میں سیاحت کے مرکز جزیرہ کیش سے ایک امریکی شہری کے اغواء کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔ جو امریکی ایجنٹ اغواء ہوا وہ منشیات فروشی کا سراغ لگانے والی امریکی ایجنسی کے علاوہ ایف بی آئی کا بھی ملازم رہا تھا۔ ایف بی آئی کا دعویٰ ہے کہ کئی برس قبل وہ اپنے کام سے ریٹائر ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے اغوا کے بعد امریکہ ہی کی مشہور خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ نے چند برس قبل یہ دعویٰ کیا کہ مارچ 2007ء میں اسے سی آئی اے نے ایران میں ایک نامعلوم مشن کے لئے ’’ٹھیکے‘‘ پر مامور کیا تھا۔

 

ایران کا جزیرہ کیش سیاحت کے لئے بہت پرکشش ہے۔ اسے ’’فری ٹریڈزون‘‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔ امریکی پاسپورٹ کے حامل افراد بھی اس جزیرے میں بآسانی جاسکتے ہیں۔ ’’فری ٹریڈزون‘‘ اور سیاحت کے لئے پرکشش ہونے کی وجہ سے دنیا کے دیگر سیاحتی مراکز کی طرح اس جزیرے میں بھی جرائم پیشہ گروہ بہت متحرک ہیں۔ ایسے گروہوں میں روس کے مافیا نما گروہ سرفہرست ہیں۔ جو امریکی شہریی اغواء ہوا اس کا نام  رابرٹ لیونسن Levinson Robert ہے۔ اس کے قریبی لوگ اسے باب (Bob)پکارتے ہیں۔ اپنی آسانی کے لئے ہم بھی اسے باب ہی پکاریں گے۔ امریکی خبر ایجنسی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ باب خود کو روس کے جرائم والے مافیا کا ماہر گردانتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے نے اسے جزیرہ کیش میں ایسے ہی کسی گروہ کے اراکین و طریقہ واردات کا سراغ لگانے کے لئے بھیجا ہو۔ ایرانی حکومت غالباَ اس کی ’’جاسوسی مہارت‘‘ کا براہِ راست نشانہ نہیں تھی۔ بہرحال کیش نامی جزیرے میں کچھ دن گزارنے کے بعد وطن لوٹنے کے ارادے سے اس نے وہ ہوٹل 9مارچ 2007ء کے دن چھوڑ دیا جہاں وہ تعطیلات گزارنے کے دوران قیام پذیر تھا۔ لیکن وہ ہوٹل سے نکل کر ایئرپورٹ نہیں پہنچا اور اب تک کسی کو اسکا اتہ پتہ معلوم نہیں ہے۔

باب کی بیوی کو 26 سال قبل 54 سکینڈ کی ایک ویڈیو وصول ہوئی تھی جس میں وہ کسی کاغذ سے پڑھ کر ’’غلط‘‘ انگریزی میں اپنی رہائی کے لئے مدد کی اپیل کررہا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ باب کے خاندان نے اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے میں بہت دیر لگائی۔

 

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ اپریل 2021ء میں جب یہ ویڈیو منظر عام پر آئی تو باب کی فیملی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے پائی کہ اس نے اتنے دنوں تک ویڈیو اور تصاویر کو میڈیا اور لوگوں سے مخفی کیوں رکھا۔ لیکن اے پی کی خبر میں یہ دعویٰ بھی تھا کہ باب کی بیوی کا منہ بند رکھنے کے لئے سی آئی نے اسے اڑھائی لاکھ امریکی ڈالر دئے تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی کا یہ دعویٰ مان لیا جائے کہ اسے سی آئی اے نے ’’ٹھیکے‘‘ پر روسی جرائم پیشہ گروہوں کا سراغ لگانے ایران کے جزیرہ کیش بھیجا تھا تو یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسے ایسے ہی کسی جرائم پیشہ گروہ نے اغواء کرلیا ہوگا جن کی جاسوسی کے لئے اسے مامور کیا گیا تھا۔ لیکن اس امکان کو امریکی حکومت زیر غور لانے کو آمادہ ہی نہیں۔ ایف بی آئی ہر برس کے مارچ میں باب کے اغواء کی ’’برسی‘‘ کے دن اس کا ذکر کرتی ہے۔ مذکورہ روایت پر عمل کرتے ہوئے ایف بی آئی نے ایرانی انٹیلی جنس کے دومبینہ ایجنٹوں -محمد بصیری اور احمد خزاعی- کو اس کے ’’اغواء ‘‘ کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا۔ بتدریج ان کے نام اور تصاویر بھی باب کے اغواء کی برسی کے دن چھپنا شروع ہوگئیں۔

 

مگر نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ اس روایت سے ہٹ کر 25جون 2025ء کے دن باب کے اغواء کے بارے میں ایک مختلف پریس ریلیز جاری ہوئی جس میں محمد بصیری اور احمد خزاعی کے بجائے رضا امیری مقدم، غلام محمد نیا اور تقی دانشور کو باب کے اغواء کا ذمہ دار ٹھہرا گیا۔ باب کے اغواء کے ذمہ داروں اور طریقہ کار کا سراغ لگانے میں مدد دینے والوں کے لئے 2 کروڑ امریکی ڈالر کے انعام کا وعدہ بھی ہوا ہے۔ مارچ 2007ء میں اغواء ہوئے امریکی شہری کے اغواء کا جو وہاں کی مختلف سراغ رساں ایجنسیوں کا باقاعدہ ملازم رہا ہے اتنے برس بعد پاکستان میں مقیم ایرانی سفیر کو ذمہ دار ٹھہرانا حیران کن امر ہے۔ میری ان سے ایک بھی ملاقات نہیں رہی۔ ان کے بیک گراؤنڈ سے بھی قطعاََ ناآشنا ہوں۔

ایف بی آئی کا مگر یہ دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی انٹیلی جنس کے اعلی افسر رہے ہیں اور اس کے لئے یورپ پر نگاہ رکھتے تھے۔ فرض کیا پاکستان میں متعین ایرانی سفیر واقعی ایرانی انٹیلی جنس کے افسر رہے ہیں تب بھی ’’یورپی امور‘‘ کے مبینہ طور پر نگران ہوتے ہوئے ان کا امریکی شہری کے اغواء سے تعلق جوڑنا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ باب کے اغواء کے ایک اور ذمہ دار ٹھہرائے غلام محمد نیا البانیہ میں ایران کے سفیر رہے ہیں۔ مارچ 2007ء کے بعد سے باب کے اغواء کی برسی پر ایف بی آئی نے جتنی بھی پریس ریلیزیں 25 جون 2025ء  سے قبل جاری کیں ان میں سے ایک میں بھی رضا امیری مقدم کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ 25 جون 2025ء کے روز ان کی باب کے اغواء  کے مبینہ ذمہ داروں میں شمولیت میرے وسوسوں بھرے دل کو کئی سوالات اٹھانے کو مجبور کررہی ہے۔

 

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ امریکی ایف بی آئی کا سربراہ ان دنوں ایک بھارتی نڑاد کاش پٹیل ہے۔ وہ اور اس کا ادارہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل دباؤ میں ہے۔  آج کل کاش پٹیل کا استعفیٰ مانگا جارہا ہے لہذا اس دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لئے اس کے محکمے نے ایک نئی کہانی کھولتے پاکستان میں ایرانی سفیر کو امریکی شہری کے اغوا میں ملوث کر دیا ہے۔

Back to top button