پاکستانی روپے کی ویلیوافغان کرنسی سےبھی نیچے کیوں گرگئی؟

عمومی طور پر جنگ زدہ، کم ترقی یافتہ یا عالمی نظام سے کٹے ہوئے ملک کو مالی طور پر بھی شدید عدم استحکام کا شکار سمجھا جاتا ہے تاہم افغانستان کی مثال اس تصور سے کسی حد تک مختلف نظر آتی ہے۔ حیران کن طور پر ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران مالی عدم استحکام اور کرنسی کے شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار ہیں، افغانستان پچھلی دو دہائیوں اور خصوصاً گذشتہ چار سالوں میں افغان کرنسی کی قدر کو ڈالر اور خطے کی دیگر کرنسیوں پاکستانی روپے اور ایرانی تومان کے مقابلے  میں مستحکم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ تقریباً 20 سالوں میں افغان کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں صرف 18 افغانی کم ہوئی ہے۔ 2005 میں جب افغانستان میں نئی کرنسی اور نوٹ متعارف کرائے گئےاس وقت ایک ڈالر کی قیمت 48 افغانی مقرر کی گئی۔دس سال بعد 2015 میں یہ رقم 57 افغانی تک پہنچی اور بالآخر رواں سال ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 66 افغانی ہو گئی ہے۔ افغان حکام کے مطابق 2025 میں کیے گئے حکومتی اقدامات کے سبب امریکی ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی کی قدر میں 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے مسلسل بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار افغانستان آخر اپنی کرنسی کو مستحکم رکھنے میں کیسے کامیاب رہا ہے؟معاشی ماہرین کے مطابق افغان کرنسی کے استحکام کے پیچھے کوئی ایک سبب نہیں بلکہ کئی معاشی، انتظامی، نفسیاتی اور ساختی عوامل کارفرما ہیں جو مل کر افغان کرنسی کو سہارا دیتے ہیں۔

سب سے اہم وجہ افغانستان میں کرنسی مارکیٹ پر سخت حکومتی کنٹرول ہے کیونکہ افغانستان میں مقامی افغانی کرنسی کو مکمل طور پر آزاد منڈی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ ڈالر کی خرید و فروخت، غیر قانونی حوالہ ہنڈی، اور کرنسی کی اسمگلنگ پر سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کنٹرول کی وجہ سے قیاس آرائی اور سٹے بازی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں، جو عموماً کمزور معیشتوں میں کرنسی کی قدر کو تیزی سے گرا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ڈالر کی کھلی مانگ، سیاسی بے یقینی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل روپے کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے، جبکہ ایران میں بلیک مارکیٹ ریاستی کنٹرول سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے، جس سے تومان کی قدر مزید متاثر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے افغانی کرنسی کی قدر پاکستانی روپے اور ایرانی تومان کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق افغان کرنسی کے استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کی محدود درآمدی معیشت بھی ہے۔ افغانستان میں صنعتی سرگرمیاں کم ہیں، بھاری مشینری، گاڑیوں، الیکٹرانکس اور لگژری اشیاء کی درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر کی مجموعی طلب کم رہتی ہے۔ جب کسی معیشت کو بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی درکار نہ ہو تو اس کی اپنی کرنسی پر دباؤ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان تیل، گیس، ادویات، مشینری اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جس سے ڈالر کی طلب مسلسل بڑھتی رہتی ہے اور روپیہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں بیرونی ترسیلات اور انسانی امداد کا کردار بھی افغانی کرنسی کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لاکھوں افغان شہری بیرون ملک کام کر کے ترسیلات زر اپنے وطن بھیجتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ، عالمی ادارے اور این جی اوز انسانی امداد کی صورت میں بڑی مقدار میں ڈالر افغانستان میں لاتے ہیں۔ یہ ڈالر اگرچہ براہ راست معیشت میں استعمال ہوتے ہیں، مگر بالواسطہ طور پر افغانی کی طلب کو سہارا دیتے ہیں اور مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ پاکستان میں بھی ترسیلات زر اہم ہیں، مگر وسیع تجارتی خسارہ، قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے اخراجات ان ترسیلات کے مثبت اثر کو بڑی حد تک زائل کر دیتے ہیں۔ جس سے روپیہ مسلسل دباؤ  میں رہتا ہے۔

پاکستانی تجارتی روٹ بائی پاس کرنے کی انڈین سازش ناکام

حکومتی اخراجات اور بجٹ خسارے کا فرق بھی کرنسی کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ افغان حکومت نہ تو بڑے ترقیاتی منصوبے چلا رہی ہے اور نہ ہی مہنگے انتظامی یا فوجی ڈھانچے پر بے تحاشا اخراجات کر رہی ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضے بھی محدود ہیں، جس کی وجہ سے نوٹ چھاپنے یا افراطِ زر پیدا کرنے کا دباؤ کم رہتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان مسلسل بجٹ خسارے میں ہے، جہاں اخراجات پورے کرنے کے لیے اکثر قرض یا کرنسی چھاپنے کا سہارا لیا جاتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے۔ ایران میں بھی سبسڈیز اور ریاستی اخراجات تومان پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اقتدا میں تسلسل، سخت پالیسیاں، کرنسی کنٹرول، کم درآمدات، بیرونی امداد، محدود حکومتی اخراجات، سادہ معاشرت اور نفسیاتی عوامل نے مل کر افغانی کرنسی کو پاکستانی روپے اور ایرانی تومان کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بنارکھا ہے جبکہ پاکستان میں مسلسل سیاسی بحران، حکومتوں کی تبدیلی اور پالیسیوں کا عدم تسلسل روپے پر منفی اثر ڈال رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران میں احتجاج، بیرونی دباؤ اور عالمی تناؤ کی وجہ سے ہر گزرت دن کے ساتھ ایرانی تومان کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔

Back to top button