‘اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ’ والی بجلی بلنگ کی ایپ ناکام کیوں ہو گئی ؟

’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ کا نعرہ لگا کر متعارف کرائی گئی پاور سمارٹ ایپ بجلی کے بلوں میں جاری لوٹ مار کو روکنے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت پاور سمارٹ ایپ کو عوامی ریلیف اور اصلاحات بارے انقلابی قدم اور اوور بلنگ کے خاتمے کا حل قرار دے رہی ہے وہیں دوسری جانب زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں، جہاں بجلی کے نظام کی جڑیں بدعنوانی، تکنیکی نااہلی، اور ادارہ جاتی کمزوریوں میں پیوست ہیں، وہاں صرف ایک ایپ اوور بلنگ جیسے دیرینہ مسئلے کا مکمل حل کیسے بن سکتی ہے؟ پاکستان کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، لاکھوں صارفین اب بھی سمارٹ فون یا ایپ کے استعمال سے ناواقف ہیں، ایسے میں ایک ایپ متعارف کروا کر میٹر ریڈنگ کے پورے نظام کی شفافیت اور "ڈیجیٹل انقلاب” کے دعوے کرنا صرف خام خیالی ہے۔ ناقدین کے مطابق ’پاور سمارٹ ایپ‘ ایک اچھی شروعات ضرور ہو سکتی ہے، لیکن جب تک نظام میں شفافیت، احتساب اور تربیت شامل نہیں ہوتی، اوور بلنگ کا خاتمہ محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔
ناقدین کے مطابق میٹر ریڈنگ کی شفافیت صرف تصویر اپلوڈ کرنے سے حاصل نہیں ہوتی، جب تک پورا نظام احتساب اور صلاحیت پر مبنی نہ ہو۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتاہے کیا حکومتی دعوؤں کے مطابق ’پاور سمارٹ ایپ‘ متعارف ہونے کے بعد اوور بلنگ کے نام پر پاکستان میں جاری لوٹ مار کا خاتمہ ممکن ہے؟ کیا واقعی ایپ کے آنے کے بعد بجلی کی قیمتوں اور زائد بلوں سے تنگ صارفین کے بجلی کے بل کم آئیں گے؟
خیال رہے کہ پاور ڈویژن نے 29 جون کو ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ کے سلوگن کے تحت ’پاور سمارٹ ایپ‘ متعارف کروائی ہے، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ’انقلابی قدم‘ قرار دیا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اب صارفین اپنی ریڈنگ خود لے سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ’200 یونٹ کے استعمال پر بجلی کا بل 2000، 2200 روپے ہوتا ہے لیکن میٹر ریڈر ایک دن بھی ریڈنگ تاخیر سے کرے تو یونٹ 201 یا اس سے زیادہ ہونے پر آٹھ ہزار تک پہنچ جاتا ہے، لہذا اب ہر صارف اپنی ریڈنگ، ایپ کے ذریعے مقررہ وقت پر کرے گا۔ اس سے بجلی کا کم بل آئے گا اور پروٹیکٹڈ صارفین کو سہولت ملے گی۔‘انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اب میٹر ریڈر کے ساتھ صارف خود بھی ریڈنگ تقسیم کار کمپنیوں کو بھجوا سکیں گے۔ اس طریقے سے یونٹ وہی تسلیم ہوں گے جو پہلے ریکارڈ ہوں گے۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے انجینیئر رمضان بٹ بھی اس ’پاور سمارٹ ایپ‘ کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق موبائل ایپ کے ذریعے صارفین کے خود ریڈنگ لینے سے کمی بیشی کا چانس کم ہو جائے گا۔ اس سے میٹر ریڈروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس ہوگا۔‘ تاہم دوسری جانب نیپرا حکام کے مطابق پاکستان کے پاور سیکٹر میں ساختی مسائل جیسا کہ بجلی چوری، لائن لاسز اور اضافی پیداواری منصوبے قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں، اور ان مسائل کے حل کے بغیر صرف ایپ لانچ کرنے سے کبھی بھی بجلی سستی نہیں ہو گی اور نہ ہی صارفین کی اوور بلنگ سے جان چھوٹے گی۔ ان کے مطابق بجلی چوری اور ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے ریڈنگ میں فرق آتا ہے، جس کا تدارک کئے بغیر ‘ڈیجیٹل شفافیت’ کے دعوے کھوکھلے ہی رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کا نظام اتنا خراب ہے کہ لوڈ شیڈنگ، اووربلنگ اور کرپشن پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں، اور ایپ جیسے اقدامات بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں لوٹ مار کرنے والے ان گروہوں کی طاقت کو کم نہیں کر سکتے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بجلی چوری، خراب میٹرنگ نیٹ ورک، غیر معیاری ادائیگیاں یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جنہیں صرف ایپ سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔جب تک نظام کے اندر احتساب کو پروان نہیں چڑھایا جائے گا پاکستان میں اوور بلنگ کے خاتمے اور شفافیت کے دعوے صرف خواب ہی رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق پاور سمارٹ ایپ ایک قابلِ تعریف قدم ضرور ہے تاہم جب بجلی کا پورا نظام بداعتمادی، کرپشن اور تکنیکی نااہلی میں جکڑا ہو، وہاں صرف ایک ایپ ان تمام خرابیوں کی دوا نہیں بن سکتی کیونکہ ’پاور سمارٹ ایپ‘ ایک اوزار ضرور ہے لیکن پورا حل نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت واقعی اوور بلنگ کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے صرف نعرے نہیں، نظام کی ری کنسٹرکشن کرنی ہوگی ورنہ پاور سمارٹ ایپ بھی ماضی کی دیگر "ڈیجیٹل اصلاحات” کی طرح صرف ایک اچھی خبر بن کر رہ جائے گی، جس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
