8 جنگیں رکوانے والے ٹرمپ نے 9ویں جنگ خود کیوں چھیڑ دی؟

نامور تجزیہ کار اور صحافی وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ دنیا بھر میں آٹھ جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لیتے لیتے اچانک اپنے کندھے اسرائیل کے حوالے کر کے نویں جنگ چھیڑ بیٹھے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر خود امریکہ کے گلے ہی پڑنے کا امکان ہے۔ وسعت اللہ خان کے مطابق امریکی قیادت کے اپنے بیانات سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ موجودہ جنگ میں امریکہ کی شمولیت براہِ راست اپنے دفاع کے بجائے اسرائیل کی حمایت کے باعث ہے۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکی سرزمین کو فوری طور پر ایران سے کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ بھی مروتاً اس تنازع کا حصہ بن گیا۔ ان کے مطابق خدشہ تھا کہ ایران کا ردعمل گھوم پھر کر امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے امریکہ نے پیشگی طور پر جنگ میں شمولیت اختیار کر لی۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیا کہ ایران اس وقت امریکہ کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں۔ اسی طرح عالمی جوہری نگرانی کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رائے بھی اسی سے ملتی جلتی بتائی جاتی ہے۔
وسعت اللہ خان کے مطابق امریکی قیادت کے اندر بھی جنگ کے ممکنہ دورانیے پر اختلاف نظر آ رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ چار سے پانچ ہفتوں میں نتائج سامنے آ جائیں گے، تاہم امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ستمبر تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی حلقوں کے اندازوں کے مطابق اگر یہ جنگ تین ماہ تک جاری رہی تو امریکی ٹیکس دہندگان کو کم از کم 250 ارب ڈالرز کا بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے خلیجی اتحادی ممالک کو بھی بھاری معاشی نقصان کا خدشہ ہے کیونکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں رکاوٹ اور سرمایہ کاری کے تعطل کے باعث نقصانات کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ وسعت اللہ خان نے امریکہ کے عالمی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک حقیقی عالمی طاقت کو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے بار بار لڑائیوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، مگر امریکہ ایسا عالمی دادا بن گیا ہے جسے اپنی عظمت منوانے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی تنازع میں کودنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی جانب سے ہونے والے نائن الیون حملے کے بعد امریکہ اس قدر ردعمل میں آیا کہ اس نے دنیا کے مختلف خطوں میں وسیع فوجی کارروائیاں شروع کر دیں اور جو بھی ملک اس کی راہ میں آیا وہ کسی نہ کسی شکل میں جنگ یا بمباری کا نشانہ بنتا رہا۔
وسعت اللہ کے مطابق گزشتہ 26 برسوں کے دوران امریکہ چار بڑی جنگیں لڑ چکا ہے اور دس ممالک میں براہِ راست یا بالواسطہ بمباری کر چکا ہے جن میں افغانستان، ایران، یمن، عراق، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، شام، وینزویلا اور نائجیریا شامل ہیں۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن سمیت مختلف جنگی خطوں میں امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے نو لاکھ انسان جاں بحق ہوئے۔ اس تعداد میں وہ لاکھوں اموات شامل نہیں جو ان بحرانوں کے نتیجے میں بھوک، بیماری اور نقل مکانی کی شکل میں ہوئیں۔ اس تحقیق کے مطابق ان جنگی مہمات پر امریکہ نے مجموعی طور پر لگ بھگ 5.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ اس میں سے 2.1 ٹریلین ڈالر اسلحے اور فوجی نقل و حرکت کی مد میں پینٹاگون نے خرچ کیے جبکہ 884 ارب ڈالر اضافی دفاعی اخراجات کی صورت میں فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ 1.1 ٹریلین ڈالر داخلی سلامتی کے ادارے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی پر خرچ ہوئے۔
مختلف جنگی معرکوں میں زخمی اور معذور ہونے والے فوجیوں کے علاج اور دیکھ بھال پر 465 ارب ڈالر خرچ کیے گئے جبکہ جنگی قرضوں کے سود اور ادائیگیوں کی مد میں ایک ٹریلین ڈالر ادا کیے گئے۔ مزید یہ کہ آئندہ تیس برسوں میں جنگوں میں حصہ لینے والے فوجیوں کی طبی دیکھ بھال کے لیے ابھی سے 2.2 ٹریلین ڈالر مختص کر دیے گئے ہیں۔ وسعت اللہ خان کے مطابق نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی چار بڑی جنگوں میں سب سے طویل جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ یہ جنگ بیس برس تک جاری رہی اور اس میں چار امریکی صدور نے حصہ لیا۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر دو لاکھ اکتالیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں لیکن اس کے باوجود امریکہ کو شکست ہوئی اور آج طالبان افغانستان کے دوبارہ حکمران ہیں۔
افغان جنگ کی تفصیلات کے مطابق بیس برس میں 71344 عام شہری مارے گئے جن میں 24099 پاکستانی سویلین بھی شامل تھے۔ اس عرصے میں 3586 امریکی اور ناٹو فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 78314 افغان فوجی اور پولیس اہلکار مارے گئے جن میں 9314 پاکستانی سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ اسی طرح 84151 مخالف جنگجو ہلاک ہوئے جن میں 51191 افغانستان میں اور تقریباً 33000 پاکستان میں مارے گئے۔
وسعت اللہ خان کے مطابق بیس برس میں افغانستان کی جنگ پر 2.26 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کو آخرکار اقتدار دوبارہ طالبان کے حوالے کر کے وہاں سے انخلا کرنا پڑا۔ ان کے بقول عراق کو جمہوریت کا گہوارہ بنانے کے لیے لڑی جانے والی جنگ آٹھ برس تک جاری رہی مگر عراق جمہوریت کا گہوارہ تو نہ بن سکا البتہ اس جنگ کے نتیجے میں دو لاکھ دس ہزار عام شہری ہلاک ہو گئے۔ اسی دوران پاکستان، صومالیہ اور ایران ڈرون حملوں کا نشانہ بنتے رہے۔ سن 2011 میں امریکی قیادت میں نیٹو نے لیبیا میں فوجی مداخلت کی جس کے بعد سے ملک بدستور عدم استحکام کا شکار ہے اور وہاں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔
ایرانی مزاحمت نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذہنی مریض بنا دیا؟
وسعت اللہ خان کے مطابق جنگوں کے اثرات پورے خطے میں پھیلے، شام شدید تباہی کا شکار ہوا، صومالیہ تین حصوں میں تقسیم ہو گیا جبکہ یمن طویل جنگ کے باعث دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اب امریکہ خلیج میں ایران کے خلاف ایک نئی جنگی مہم کے اور اسی پرانے جذبے کے ساتھ دوبارہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔
