بگٹی مریم کی طرح بلوچستان کو پولیس سٹیٹ بنانے کے خواہاں کیوں؟

مریم نواز کی پنجاب حکومت کی طرح وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حکومت بھی بلوچستان کو پولیس سٹیٹ بنانے کی جانب گامزن ہے۔ بلوچستان حکومت نے بیوروکریسی کو مزید طاقتور بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت اضلاع میں تعینات انتظامی افسران کو پولیس افسران کے برابر اختیارات دے دئیے ہیں۔ جس کے بعد صوبے کے اعلیٰ سول بیوروکریٹ پولیس کی طرح جرم میں ملوث ہونے کے شبہ میں کسی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کے علاوہ پولیس حکام کو متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج کی ہدایت بھی جاری کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبائی حکومتوں کی جانب سے سول بیوروکریسی کو غیر معمولی انتظامی اور نیم عدالتی اختیارات دینے کے رجحان پر پہلے ہی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے کی ضلعی انتظامیہ، خصوصاً ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو زمینوں پر قبضوں کے خلاف براہِ راست کارروائی کے وسیع اختیارات دئیے گئے تھے، جنہیں انتظامی اصلاحات کے نام پر نافذ کیا گیا۔ تاہم اس اقدام پر عدالتی سطح پر شدید تحفظات سامنے آئے،جس کے نتیجے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب حکومت کے اقدام پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے زمینوں پر قبضے چھڑانے کے لیے نافذ کیا گیا آرڈیننس معطل کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے مطابق اس آرڈیننس کے ذریعے انتظامیہ کو ایسے اختیارات سونپے گئے تھے جو آئینی طور پر عدلیہ یا باقاعدہ قانونی فورمز کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
اسی تناظر میں اب بلوچستان حکومت کی جانب سے پنجاب کی طرز پر سول بیوروکریسی کو پولیس کے اختیارات دینے کا فیصلہ ایک نئے قانونی اور آئینی تنازع کو جنم دیتا نظر آتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی افسران کو پولیس کے مساوی اختیارات دینا نہ صرف اختیارات کی آئینی تقسیم کے اصول سے متصادم ہے بلکہ اس سے طاقت کے ارتکاز، شفافیت کے فقدان اور شہری آزادیوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے صوبے میں انتظامیہ، پولیس اور عدلیہ کے اختیارات کی حدود پر ایک نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومتیں اس طرح کے اقدامات کو گورننس میں بہتری اور فوری انصاف کی فراہمی سے جوڑتی ہیں، تاہم اختیارات کی غیر متوازن تقسیم اکثر انتظامی زیادتیوں اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ بلوچستان کی صوبائی عدلیہ اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ آیا وہ انتظامی اختیارات میں اس توسیع کو آئینی و قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتی ہے یا پنجاب کی طرح بلوچستان میں بھی عدالتی مداخلت کے ذریعے انتظامی فیصلوں کو محدود کر دیتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں سول بیوروکریسی، پولیس اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی حدود کے تعین کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ گورنر کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے 30 دسمبر بروز منگل کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ ڈویژن، ضلع اور سب ڈویژن کے دائرہ اختیار میں ’جسٹس آف پیس‘ مقرر کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مقرر کردہ جسٹس آف پیس کو ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے اور 22 بی میں دیے گئےتمام اختیارات حاصل ہوں گے تاہم نوٹیفکیشن میں افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی گاڑی پر جسٹس آف پیس کے عہدے کی نشانی یا علامت استعمال نہیں کریں گے۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے دئیے گئے نئے اختیارات کے تحت اب ضلعی انتظامی افسران پولیس اہلکاروں کو مدد کے لیے طلب کر سکیں گے تاکہ امن عامہ برقرار رکھا جا سکے اور جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔ مزید برآں جسٹس آف پیس، کسی بھی مجسٹریٹ کی طرح کسی بھی شخص کی شناخت کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کرنے، کسی بھی دستاویز کی تصدیق یا ایسی دستاویزات کی توثیق کرنے کے بھی مجاز ہونگے۔
پی ٹی آئی سے وابستہ اشتہاری صحافیوں کو 35 برس قید کی سزا
تاہم ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ انتظامی افسران کو پولیس افسران کے مساوی اختیارات دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افسران کا کردار محدود اور قانون کے دائرے میں ہو گا، اور بنیادی طور پر ان کی ذمہ داری صرف یہ ہو گی کہ اگر کوئی شہری ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایت لے کر آئے تو وہ قانون کے مطابق متعلقہ پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست ارسال کر سکیں۔ حمزہ شفقات کے مطابق اس انتظام کا مقصد پولیس کی جگہ لینا نہیں بلکہ شہریوں کو فوری اور مؤثر قانونی ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
