خلیجی ممالک پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنے سے انکاری کیوں؟

خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پالیسی سخت تر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ رواں سال سعودی عرب نے 24 ہزار پاکستانیوں کو جبکہ متحدہ عرب امارات نے 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ حکام کے مطابق رواں سال آذربائیجان سے بھی ڈھائی ہزار پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب بھیک مانگنے کے جرم میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہو۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں مختلف ممالک سے پانچ ہزار سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 4850 افراد جبکہ مئی 2025 تک 552 پاکستانی شہری مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے جرم میں واپس بھیجے گئے ہیں۔ اس دوران سب سے زیادہ شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر سعودیہ سے 56ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جاچکاہے جن میں سے  24 ہزار پاکستانیوں کو صرف بھیک  مانگنے کی وجہ سے سعودیہ سے ملک بدر کیا گیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان نے ائیرپورٹس پر سخت سکروٹنی کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد رواں سال کے دوران 51 ہزار پاکستانیوں کو آف لوڈ کیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کے جرم میں ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں پر سفری پابندی بڑھانے کے علاوہ اِن افراد کے خلاف پاکستان میں بھی فوجداری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو پانچ سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے اوران کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے احکامات بھی جاری کر رئیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران بیرون ملک بھیک مانگنے، ڈنکی لگا کر جانے اور انسانی سمگلنگ جیسے واقعات میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق مجموعی طور پر 32ہزار 500کے لگ بھگ پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق حالیہ کچھ عرصے کے دوران عمرہ ویزے کے نام پر یورپ جانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ائیرپورٹس پر ہونے والی حالیہ کارروائیوں کے دوران کئی مسافروں کے پاس سے عمرے کے ساتھ یورپ کی سفری دستاویزات کی موجودگی بھی پائی گئی ہے جس پر انہیں شواہد کے ساتھ آف لوڈ کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سیروسیاحت کے نام پر بھی پاکستانیوں کے بیرون ملک غائب ہونے کا سلسلہ جاری ہے، ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق رواں سال 24 ہزار افراد سیاحت کیلئے کمبوڈیا گئے جن میں سے 12 ہزار تاحال واپس نہیں آئے جبکہ برما کے سیاحتی ویزے پر جانے والے چار ہزار افراد میں سے ڈھائی ہزار واپس نہیں لوٹے۔ تاہم اب ائیرپورٹس پر مسافروں کی سکروٹنی سخت کر دی گئی ہے، ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے آف لوڈنگ اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے اور یہ 118 سے بڑھ کر 92 نمبر پر آ گئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ برسوں میں پاکستان غیر قانونی طور پر یورپ جانے والوں میں ٹاپ فائیو ممالک میں شامل تھا تاہم مؤثر پالیسیوں کے باعث اب پاکستان اس فہرست سے نکل چکا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان سے 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے تھے جبکہ رواں سال سخت حکومتی اقدامات کی وجہ سے یہ تعداد کم ہو کر 4 ہزار سے بھی نیچے آ گئی ہے

شدید بارشوں کے باعث دبئی–پاکستان فلائٹ آپریشن متاثر، 18 پروازیں منسوخ

ہزاروں مسافروں کو آف لوڈ کرنے بارے سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے مسافروں کی آف لوڈنگ کا فیصلہ ’دستاویزات، ڈیٹا اور آن لائن ویریفکیشن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔‘جن مسافروں کو آف لوڈ کیا جاتا ہے ان میں اکثریتی مسافروں کے پاس کورس، یونیورسٹی یا ملازمت سے متعلق مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔ متعدد کیسز میں مسافر ایجنٹس کے ذریعے نامکمل یا غلط معلومات کے ساتھ سفر کی کوشش کررہے تھے۔‘جنھیں بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا ہے، ان کے مطابق مختلف ائیرپورٹس سے مجموعی طور پر 66 ہزار مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد لاہور اور کراچی ایئرپورٹ سے تھی۔ آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی اکثریت وزٹ، عمرہ اور ورک ویزا کی کیٹیگری سے تھی۔ایئرپورٹس پر پوری طرح سے اس بات کو ممکن بنایا جارہا ہے کہ کوئی بھی شخص قانونی دستاویزات کے بغیر سفر نہ کر سکے۔‘ ’آف لوڈ کرنے کے علاوہ ہر مسافر کا ایک ’پروفائل تجزیہ‘ کیا جاتا اور اس میں اگر کسی چیز میں بھی شک نظر آتا ہے کہ یہ پاسپورٹ اور دستاویزات کا غلط استعمال کرے گا تو ایسے مسافروں کو روک لیا جاتا ہے۔‘انھوں نے بتایا کہ ’تمام بڑے ایئرپورٹس کو آئی ڈی ایم ایس ٹو اور نادرا کے آن لائن ڈیٹا سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹس کے امیگریشن کاؤنٹرز پر کیمرے نصب اور کنٹرول ہیڈ کوارٹر سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ امیگریشن نظام میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مشتبہ کیسز کی پیشگی نشاندہی کی جا رہی ہے۔‘ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کی سہولت کیلئے جنوری کے وسط میں’’ایمی ایپلی کیشن‘‘لانچ کردی جائے گی جس کے تحت بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل امیگریشن کلیئرنس حاصل کر سکیں گے۔

Back to top button