پاکستان میں پرائم منسٹر سے زیادہ اپوزیشن لیڈر کیوں بدلتے ہیں؟

 

 

 

ملکی سیاسی تاریخ میں اقتدار یا اپوزیشن کچھ بھی مستقل نہیں حتیٰ کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف کی چھٹی کی روایت مستقل مزاجی سے قائم ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی سیاست میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تبدیلی کی روایت وزرائے اعظم کی برطرفی سے بھی زیادہ پرانی اور مضبوط ہے ایوان کے اندر حکومتیں گرتی اور بنتی رہیں، مگر اس سے پہلے اپوزیشن کی قیادت اکثر بدلتی رہی۔ موجودہ قومی اسمبلی بھی اسی سیاسی تسلسل کا حصہ ہے، جہاں ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے اس کم زیرِ بحث مگر نہایت معنی خیز پہلو کو نمایاں کر دیا ہے۔

 

اس حوالے سے سینئر صحافی عبادالحق کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی میں قومی اسمبلی کی ایک ہی معیاد کے دوران وزرائے اعظم کی تبدیلی کے ساتھ اپوزیشن لیڈر بھی اکثر بدلتے رہے ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں بھی یہی روایت برقرار رہی، جب محمود خان اچکزئی کو عمر ایوب خان کی جگہ قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا گیا، کیونکہ عمر ایوب خان نو مئی کے مقدمے میں سزا کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل ہو گئے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا سلسلہ 1970 کے انتخابات کے بعد شروع ہوا، جب خان عبدالولی خان اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر نہ رہ سکے۔ اُس وقت قومی اسمبلی میں ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے، جبکہ ولی خان کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تھا۔ بعد میں یہ منصب سینیئر سیاست دان سردار شوکت حیات کے حصے میں آیا، جو قومی اسمبلی کی تحلیل تک یہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ یہ روایت آگے بڑھتی رہی اور 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر قائم ہونے والی قومی اسمبلی کو اُس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے 58-2 کے اختیار کے تحت تحلیل کر دیا۔ اس دوران وزیراعظم محمد خان جونیجو کو تو عہدے سے ہٹایا گیا، لیکن اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی تھی۔

 

قومی اسمبلی کے بعد محمد خان جونیجو وزیراعظم منتخب ہوئے، تو جنوبی پنجاب کے رکن اسمبلی حاجی سیف اللہ خان کو قائدِ حزب اختلاف مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں جب سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی، تو سبکدوش ہونے والے سپیکر سید فخر امام اپوزیشن لیڈر بن گئے۔

 

1988 میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی لگ بھگ 18 ماہ تک برقرار رہی۔ اس اسمبلی کے وزیراعظم کو گھر جانا پڑا لیکن اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تبدیلی رونما ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ غلام حیدر وائیں کے حصے میں آیا۔ اسی دوران بینظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں کا سی او پی کے نام سے پارلیمان کے اندر اتحاد بنا اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور رکن قومی اسمبلی غلام مصطفی جتوئی اپوزیشن لیڈر بن گئے۔بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد اپوزیشن لیڈر یعنی غلام مصطفی جتوئی کو ہی نگران وزیراعظم بنا دیا گیا۔ 1990 اور 1997 میں بینظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر رہیں جبکہ 1993 نواز شریف قائد حزب مخالف کے فرائض ادا کرتے رہے۔

 

2002 کی قومی اسمبلی نے تین وزرائے اعظم دیکھے لیکن اپوزیشن لیڈر ایک ہی رہے، البتہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی خاصی تاخیر سے ہوئی تاہم جب میر ظفر اللہ خان جمالی نے جون 2004 میں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑا تو اُس وقت تک اپوزیشن لیڈر کا منصب خالی تھا۔ پھر اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے اگست 2004 میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا اور پارلیمان میں دوسرے سیاسی اتحاد اے آر ڈی یا اتحاد بحالی جمہوریت کے نامزد رکن اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد نہیں کیا گیا۔اس پر اے آر ڈی میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اے آر ڈی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نہ دینے پر شدید احتجاج بھی کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کا موقف تھا کہ ایم ایم اے نے 2002 کے انتخابات ایم ایم اے پلیٹ فارم سے لڑا جبکہ اے آر ڈی میں شامل جماعتیں اپنے اپنے نشان سے انتخابی معرکے میں اتری تھیں۔ 2008 کے انتخابات میں پی پی پی نے حکومت بنائی اور دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ اس کی اتحادی تھی۔اسی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ق کے پاس چلا گیا اور پرویز الہی قائد حزب اختلاف بن گئے۔

 

مسلم لیگ ن کا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بحال نہ کرنے پر پیپلز پارٹی سے اختلاف ہوا اور وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن بنچز پر بیٹھ گئی۔یوں اپوزیشن لیڈر تبدیل ہو گئے۔ مسلم لیگ ق کے پرویز الہٰی کی جگہ ن لیگ کے چوہدری نثار علی خان کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مل گیا۔بعد میں سبکدوش ہونے والے اپوزیشن لیڈر ڈپٹی پرائم منسٹر بن کر وفاقی کابینہ میں شامل ہو گئے۔ ن لیگ حکومت میں آئی تو قائد حزب مخالف کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس چلا گیا اور سید خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بنے۔2013 کی اسمبلی میں صرف وزیراعظم کی تبدیلی ہوئی جب نواز شریف کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے، تاہم اسمبلی کی تحلیل تک اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ہی رہے۔2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی واحد قومی اسمبلی ہے جس میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں ہی تبدیل ہوئے۔

چیف الیکشن کمشنر مدت ختم ہونے کے 1 برس بعد عہدے پر موجود

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف وزیراعظم بن گئے جبکہ تحریک انصاف کے ناراض دھڑے کے راجہ ریاض احمد خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا جو بعد میں ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب خان کے بیٹے عمر ایوب خان اپوزیشن لیڈر بنے، لیکن 2025 میں نو مئی کے واقعات پر درج مقدمے میں سزا کی وجہ سے انہیں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔کچھ تاخیر کے بعد آخر کار 2026 میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مان لیا گیا۔ تاہم 2002 کی نسبت اس مرتبہ کم تاخیر ہوئی۔ یہ تمام مراحل واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا عمل حکومت کی تبدیلی سے بھی زیادہ مستقل اور تاریخی روایت رکھتا ہے، جو پارلیمانی سیاست کے اتار چڑھاؤ کا ایک لازمی اور دلچسپ پہلو بن چکا ہے۔

Back to top button