حکمران بچوں کی شادیوں پر شاہانہ خرچ کی نمائش کیوں کرتے ہیں؟

عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے حکمران جب اپنے بچوں کی شادیوں پر بے پناہ دولت کی بے جا نمائش کریں اور پھر ان پرائیویٹ تقریبات کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کر دیں تو پھر انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے حاسدانہ تبصروں کا سامنا کرنے کیلئے بھی تیار رہنا چاہیئے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں بالعموم اور ہمارے ہاں بالخصوص شادی کے موقع پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کا چلن نیا نہیں۔ گزشتہ برس بھارت میں اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ کی شادی کی تقریبات نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی، جہاں نہ صرف عالمی سطح کی بااثر شخصیات نے شرکت کی بلکہ اسے دنیا کی مہنگی ترین شادی قرار دیا گیا، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی۔ اسی طرح ماضی میں شاہی خاندانوں کی شادیوں میں لیڈی ڈیانا اور بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی شادیوں کے بھی بڑے چرچے رہے۔
بلال غوری کے مطابق پاکستان میں بھی ماضی میں شاہانہ شادیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ 15 جولائی 1968ء کو فوجی حکمران ایوب خان کے دور میں اردن کے بادشاہ شاہ حسین کے چچا شریف حسین پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اکرام اللہ کی بیٹی ثروت کے لیے اردن کے ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال کا رشتہ لے کر پاکستان آئے۔ 27 اگست 1968ء کو بارات آئی تو طیارہ خود اردن کے فرمانروا شاہ حسین اُڑا کر لائے اور کراچی ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے صدر ایوب خان موجود تھے۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں لیاری کے ککری گراؤنڈ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی بھی ایک بڑے عوامی اور سیاسی واقعے کے طور پر یاد کی جاتی ہے، مگر ان شادیوں پر اس وقت عوامی خفگی یا ناپسندیدگی کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا۔
بلال غوری کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے یہ رجحان نمایاں ہوا ہے کہ شادیوں پر ہونے والے اخراجات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ خواتین کی آرائش و زیبائش تک زیر بحث آ جاتی ہے۔ یوں خوشی اور مسرت کے یہ مواقع زہر آلود سیاسی تبصروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جب بھی کسی بااثر خاندان میں بڑی شادی ہوتی ہے تو یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جس معاشرے میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، جہاں دو وقت کی روٹی، مناسب لباس اور بیٹی کو سادہ طریقے سے رخصت کرنے کی استطاعت بھی نہ ہو، وہاں عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان اس نوعیت کی نمود و نمائش کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں۔
بلال غوری سوال کرتے ہیں کہ کیا کبھی اقتدار اور دولت کے حامل طبقات نے اس پہلو پر غور کیا کہ عام آدمی کا دل بھی انہی کی طرح دھڑکتا ہے، اس کے بھی خواب اور تمنائیں ہوتی ہیں۔ ایک ایسی ماں جس کی بیٹی جہیز نہ ہونے کے باعث برسوں شادی کی منتظر ہو، جب وہ مہنگے ملبوسات اور رنگین شادیوں کے مناظر دیکھتی ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔ ایک طرف غربت، افلاس اور تنگدستی کے مناظر اور دوسری جانب اربابِ اقتدار کی شاہانہ تقریبات، یہی تضاد خوشیوں کو غارت کرنے کا سبب بنتا ہے۔
بلال کے مطابق شادیوں پر بے پناہ خرچ کرنے والے امرا کی جانب سے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ جب عام لوگ اپنی حیثیت کے مطابق شادیوں پر خرچ کرتے ہیں تو بے پناہ دولت رکھنے والوں کو کیوں روکا جائے۔ بلال غوری کے مطابق اگر مکیش امبانی جیسے صنعتکار یا کاروباری شخصیات یہ دلیل دیں تو کسی حد تک اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ عوام کی نمائندگی یا خدمت کے دعوے نہیں کرتے۔ تاہم اگر وہ بھی محض عوامی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے نمائش سے گریز کریں تو ان کی نیک نامی میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن سیاستدانوں کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔
انکا کہنا ہے کہ وہ حکمران جو خود کو عوام کا ہمدرد، قوم کا باپ یا ماں قرار دیتے ہیں اور لوگوں کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہونے کا تاثر دیتے ہیں، اگر وہ اپنے بچوں کی شادیوں پر اس نوعیت کی شاہانہ نمود و نمائش کریں تو محرومی کا شکار عوام کی جانب سے تنقید ایک فطری ردعمل ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان جیسے نعرے لگانے والے اگر عملی طور پر عوامی جذبات سے کھیلیں تو پھر اعتراضات اور سوالات کیوں نہ اٹھیں۔
بلال غوری ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر سیاستدان سادگی اختیار نہیں کرنا چاہتے اور بچوں کی شادیوں پر اپنی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم ان تقریبات کو مکمل طور پر نجی رکھا جائے۔ پرائیویسی کا اہتمام کیا جائے اور تصاویر یا ویڈیوز منظر عام پر نہ آئیں۔ حالیہ ہفتوں میں چند شادیوں کا تذکرہ ہوا، جن میں آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور ان کے شوہر منور تالپور کی لے پالک بیٹی عائشہ کی شادی، اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی سے شادی شامل ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ جب اہم عہدوں پر فائز افراد یا عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان بچوں کی شادیوں پر اپنی دولت کی نمائش کریں اور ان نجی تقریبات کے مناظر میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنیں تو پھر سیاسی مخالفین اور عوامی حلقوں کی تنقید سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں انہیں یہ سب برداشت کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
