سردیوں کے موسم میں سولرپینلزکی قیمتوں میں اضافہ کیوں؟

موسم سرما کے آف پیک سیزن میں سولر پینلز کی قیمتوں میں فی واٹ 8 سے 11 روپے تک غیر متوقع اضافے نے عوام کے چھکے چھرا دئیے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں سولر سسٹمز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صرف گھریلو صارفین بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، ایسے وقت میں جب سردیوں کے دوران سولر مارکیٹ عموماً سست روی کا شکار رہتی ہے، یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آف سیزن میں سولر پینلز کیوں مہنگے ہو رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں سولر سسٹمز کی قیمتیں کہاں تک پہنچ سکتی ہیں؟

خیال رہے کہ مقامی مارکیٹ میں 585، 645 اور 720 واٹ کے درآمدی چینی سولر پینلز کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 585 واٹ کا سولر پینل جو چند ہفتے قبل 16 سے 17 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 20 سے 21 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 645 واٹ کے پینل کی قیمت 20 ہزار سے بڑھ کر 24 سے 25 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جبکہ 720 واٹ کے سولر پینلز 22 سے 25 ہزار روپے کے بجائے اب 30 سے 35 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ درآمد کنندگان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران سولر پینلز کی فی واٹ قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آئندہ چند ماہ میں فی واٹ قیمت 40 روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

سولر انڈسٹری ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ چینی حکومت کی جانب سے سولر ماڈیولز کی برآمد پر دی جانے والی وی اے ٹی یعنی ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی ہے، جو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کے باعث چینی مینوفیکچررز کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر درآمد کرنے والے ممالک، بشمول پاکستان، پر پڑ رہا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ برس عالمی سولر انڈسٹری کو طویل عرصے تک مالی نقصانات کا سامنا رہا، جس کے بعد اب بڑے مینوفیکچررز اپنی لاگت پوری کرنے اور منافع میں بہتری کے لیے قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بری خبر، کاروں کی امپورٹ پر پابندی

ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال، جیسے پولی سیلیکون، ایلومینیم، سلور اور کاپر، عالمی منڈی میں تیزی سے مہنگا ہو رہا ہے۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سولر ماڈیولز کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب صارفین تک منتقل ہو رہا ہے اور سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سولر انڈسٹری میں پرانی اور کم مؤثر پروڈکشن ٹیکنالوجی کو جدید، زیادہ بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران پرانی ٹاپ کون ماڈیولز کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، جس کے باعث ان کی دستیابی محدود اور قیمتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں پہلے ہی 20 سے 25 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ جس کے بعد 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم جو پہلے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 6 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 3 کلو واٹ کے سسٹمز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سولر بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے بقول اگر عالمی خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور چینی پالیسیوں میں تبدیلی کا یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

 

Back to top button