سوشل میڈیا بریگیڈ والوں کو جلاب کی طرح انقلاب کیوں آتا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئی تبدیلی یہ آئی ہے کہ جس بھی نوجوان کے سوشل میڈیا پر چند سو فالوورز بن جائیں، اسے جلاب کی طرح انقلاب آنا شروع ہو جاتا ہے جو کہ روکے نہیں رکتا۔
ان کے مطابق ایسا شخص صبح سویرے اٹھ کر ٹوائلٹ کی طرح ٹویٹر یا فیس بک کا رخ کرتا ہے اور اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ انصاف کے لیے انقلاب لانا کتنا ضروری ہے۔
سینیئر صحافی کہتے ییں کہ انقلاب ضرور لائیں لیکن اگر کوئی آپ کے انقلاب سے متاثر نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بزدل ہے اور آپ بہت بہادر ہیں۔ اگر آپ نے انقلاب لانا ہے تو اس کے لیے قربانی بھی آپ خود دیں کیونکہ اس انقلاب سے فائدہ اٹھانے والے بھی آپ ہی ہوں گے۔ انقلاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے سر دینا بھی پڑتا ہے اور لینا بھی پڑتا ہے، لہذا انسانی سروں کی تجارت آپ خود کریں کیونکہ یہ آپ کا انقلاب ہے۔ ان کے بقول آپ اتنے سمجھدار ہیں کہ اس سے پہلے عام لوگ آپ کے خلاف انقلاب لائیں، آپ نے خود ہی انقلاب کا نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے، یعنی چور بھی کہے چور چور۔
اپنے سیاسی تجزیے میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا پر چند سو فالوورز بنانے والا نام نہاد انقلابی چند دن تک سوشل میڈیا پر لوگوں کو قائل کرتا رہے گا کہ وہ اس کے انقلاب کے لیے آواز اٹھائیں۔ وہ صرف معاشرے کی برائیاں گنوائے گا جنہیں پڑھ کر یہ لگے گا کہ ابھی تک ہم زندہ کیوں ہیں۔ اسے اپنے اردگرد کچھ اچھا نظر نہیں آتا اور وہ ہر وقت جلتا کڑھتا رہتا ہے۔ کچھ دن بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ جو لوگ اس کے انقلاب کا حصہ نہیں بن رہے وہ یا تو بک گئے ہیں یا ٹاؤٹ ہیں یا ملک دشمن ہیں۔ اس کے بعد وہ گالی گلوچ پر اتر آتا ہے اور لوگوں کو بزدلی کے طعنے دیتا ہے۔
رؤف کلاسرا کے بقول سوال یہ ہے کہ کسی کے انقلاب کی تعریف کو کیوں مان لیا جائے اور اپنی ساری توانائی اس انقلاب کے لیے کیوں صرف کی جائے۔ اگر انقلاب کا بخار کسی ایک کو چڑھا ہے تو دوسرے لوگ اس کا ساتھ کیوں دیں۔ اگر تبدیلی کسی کے ذہن میں ہے اور دوسروں کے ذہن میں نہیں تو کیا وہ سب قابلِ گردن زدنی ہو جاتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ اس کے نظریات کے لیے قربانی نہیں دے رہے۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ اگر کسی نے ان کے نظریات کے لیے قربانی دینی ہے تو وہ خود ہیں، لیکن جب سوشل میڈیا برگیڈ والوں کو نظر آتا ہے کہ ان کا چورن نہیں بک رہا تو وہ دیگر لوگوں کو گالی گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا نے بہت سے لوگوں کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک یا انسٹاگرام پر فالو کرنے کے آپشن نے یہ صورتحال پیدا کی کہ اگر کسی صحافی کو چند سو لوگ بھی فالو کر لیں تو اسے لگتا ہے کہ وہ بہت بڑی چیز بن گیا ہے، اسے سنا اور دیکھا جا رہا ہے اور اس کی باتوں پر واہ واہ ہو رہی ہے۔ پھر وہ خود کو قوم کا مسیحا سمجھنے لگتا ہے۔ مارکیٹوں یا ایئرپورٹس پر چند افراد کی جانب سے سیلفی کی درخواستیں اور تعریفیں اسے مزید بانس پر چڑھا دیتی ہیں اور وہ خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق ایسا شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ حکومتیں بنانے اور بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر وہ ٹی وی اور یوٹیوب پر بدتمیزی کرتا ہے تاکہ دلیر نظر آئے اور یہ محسوس کرے کہ دنیا اب اس کی ہاں اور ناں سے چلے گی۔ اس کے نزدیک اب وہی فیصلہ کرے گا کہ ملک کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ ان کے مطابق صورتحال اس وقت مزید بگڑتی ہے جب وزیراعظم چند اینکرز یا یوٹیوبرز کو بلا کر ان سے حکومت چلانے کے مشورے کرتا ہے، جہاں ایسی گفتگو ہوتی ہے کہ سننے والے حیران رہ جاتے ہیں، مگر درباری ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے انہیں انہی مشوروں کی ضرورت تھی۔
انکے مطابق یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دماغی خرابی شروع ہوتی ہے جس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
صحافی کا کام خبر دینا، تجزیہ کرنا یا پروگرام ہوسٹ کرنا ہے تاکہ مختلف سیاسی نظریات عوام تک پہنچیں، لیکن جب وہ خود کو لیڈروں سے بھی بالاتر سمجھنے لگے اور انقلاب لانے کا دعویٰ کرے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس طبقے کے خلاف عوام کو بھڑکایا جا رہا ہوتا ہے، خود یہ لوگ بھی اسی طبقے کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر انقلاب آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا شکار بھی یہی ہوں گے، مگر عوام کے سامنے خود کو سب سے بڑا ہمدرد ظاہر کیا جاتا ہے۔
رؤف کلاسرا نے سابق صدر پرویز مشرف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس لیے دبئی سے پاکستان واپس آئے تھے کہ ان کے فیس بک پیج پر دس لاکھ فالوورز ہو گئے تھے۔ انہیں لگا کہ پاکستان دن رات انہیں یاد کر رہا ہے، حالانکہ اس وقت کی عسکری قیادت نے انہیں پیغام دیا تھا کہ حالات سازگار نہیں، مگر انہوں نے واپسی کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں سب نے دیکھا کہ ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے چند درجن لوگ بھی موجود نہیں تھے اور وہ مرتے دم تک یہ تسلیم نہ کر سکے کہ سوشل میڈیا فالوورز نے انہیں دھوکا دیا۔
ہزاروں پاکستان تاجر افغان سرحد پر کیسے پھنس گئے
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فالو کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لوگ گھر بار چھوڑ کر کسی کے لیے جان دینے کو تیار ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر لائک کرنا ایک بات ہے اور جان داؤ پر لگانا بالکل دوسری۔ انکے مطابق سوشل میڈیا نے نہ صرف صحافیوں بلکہ سیاستدانوں کے دماغ بھی خراب کیے۔ اس کے ساتھ یوٹیوبرز کی ایک نئی کلاس پیدا ہو گئی جنہیں لگا کہ انقلاب کی باتوں سے ان کی مالی حالت بدل جائے گی۔ نتیجتاً صحافت سے ہٹ کر جو زبان اور لہجہ اختیار کیا گیا، اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں نے ایف آئی اے کے ذریعے گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔
