پاکستان پر پابندیاں لگانے والا امریکہ عمران کی رہائی کیوں چاہتا ہے؟

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عمرانڈو مشیر رچرڈ گرینیل کے مسلسل واویلے کے بعد یوتھیے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ٹرمپ اقتدار سنبھالنے ہی عمران خان کی رہائی کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دے گا تاہم مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے عمران خان کو رہائی دلانا نا ممکن ہے۔پاکستان کا میزائل پروگرام ہو یا بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملٹری کورٹس کے فیصلے، ان سب پر بیرونی ممالک کے بیانات کی نہ کوئی اہمیت ہے نہ ریاست پاکستان ایسے بیانات سے کبھی مرعوب ہوگی۔ بلکہ بعض ممالک کی طرف سے ایسے بیانات کو پاکستان کی آزادی اور خودمختاری میں مداخلت ہی سمجھا جائے گا اور اس پر کھل کر ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
ناقدین کے مطابق یوتھیوں کو شدید غلط فہمی ہے کہ 20جنوری کو امریکی نومنتخب صدر ٹرمپ کے حلف کے فوری بعد امریکہ سے فون کال آئے گی اور پاکستان ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوراً رہا کر دے گا ۔ نہ صرف ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لیکر ختم کر دیئے جائیں گے بلکہ 9مئی کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانے کا تصور ہی ختم کر دیا جائے گا، چاہے پھر کوئی فوجی دفاتر کے اندر بھی جاکر فوجی افسران پر حملے کیوں نہ کر دے۔ یوتھیوں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بعد اگلا مرحلہ نئے انتخابات کا ہوگا جس کیلئے موجودہ الیکشن کمیشن کو ختم کر کے مرضی کا کمیشن بنا دیا جائے گا۔ انتہائی اہم عہدوں پر متعین افراد کو ہٹا کر ہم خیال افراد کو تعینات کر دیا جائے گا اور پھر مرضی کے ’’شفاف‘‘ انتخابات کراکے ہاتھ جوڑ کر اقتدار عمران کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ناقدین کے مطابق پاکستان سے فرار چند افراد اور گولڈ اسمتھ منصوبے کے تحت جو لابنگ ہو رہی ہے اس کا حاصل یہی تصوراتی خاکہ ہے۔ جس کو پیش کر کے یوتھیوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس خاکے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اسرائیل بھی بذریعہ گولڈ اسمتھ شامل ہے اور اس کیلئے بہت بھاری رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیل کے علاوہ بعض امریکی اور یورپی حلقے بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے پہلے پاکستان کے میزائل پروگرام بارے بیانات داغے گئے ہیں جس کے بعد اگلے مرحلے میں پاکستان پر معاشی پابندیاں لگنے کے بیانات آئیں گے اور پاکستانی قوم کو ان پابندیوں کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے ڈرانے اور حسب روایت ورغلانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہن مبصرین کے مطابق عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے یوتھیوں کی منصوبہ بندی اپنی جگہ موجود ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمرانڈوز کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مقتدر قوتیں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کسی دباو کو نہ ماننے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہیں۔ریاست پاکستان کا اس حوالے سے مؤقف بڑا واضح ہے کہ وہ کسی بھی طرح کا بیرونی دباؤ قبول کئے بغیر ملکی قوانین کے مطابق اپنے فیصلے خود کرے گی پاکستان کسی بھی طرح ملکی دفاع اور قوانین پر سودے بازی نہیں کرے گا نہ کوئی اس غلط فہمی میں رہے کہ ملٹری کورٹس کے فیصلے اور ملکی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر کسی کو رہائی ملے گی۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین جاری مذاکرات بھی محض ایک دکھاوا اور وقت گزاری نظر آرہی ہے۔ کیونکہ جو مطالبات پی ٹی آئی کی طرف سے سامنے آئے ہیں وہ خود بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ ناقابل عمل ہیں۔ مبصرین کے مطابق حقیقت میں یوتھیے بھی یہ جانتے ہیں کہ ریاست پاکستان کبھی بیرونی دباؤ میں آنیوالی ہے نہ ہی پاکستانی قوانین پر عمل کئے بغیر ایسا ممکن ہے کہ ان کے مطالبات ماننے کیلئے ریاست تمام قوانین اور ملکی وقار کو پس پشت ڈال کر بیرونی دباؤ کے آگے سرتسلیم خم کرلے۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ بانی پی ٹی آئی کو حسب سابق اندھیرے میں رکھنے اور دکھاوے کی جھوٹی تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
اگر امریکیوں نے کلنٹن کو معاف نہیں کیا تو عمران کیلیے معافی کیسے؟
مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اب مذاکرات کیلئے ٹائم فریم کا بھی مطالبہ کر دیا ہے کیونکہ عمران خان جیل میں شدید ڈپریشن کا شکار ہیں عمران خان قطعا یہ نہیں چاہتے کہ وہ ایک عرصے کیلئے جیل میں رہیں اور باقی لوگ باہر مزے لوٹتے رہیں کیونکہ وہ نیلسن منڈیلا تو ہیں نہیں جو انتیس سال سلاخوں کے پیچھے چپ کر کے گزار لیں ،وہ تو ظالم یوتھیوں نے نعرے لگائے تھے کہ ’’ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان، نہ ڈرنے والا نہ جھکنے والا پاکستان کا نیلسن منڈیلا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ہی لوگوں نے بانی کو ورغلا کر پھنسادیا جو اب جیل کھ اندر سے چیخیں مار رہا ہے۔
