بنگلہ دیش کی جنریشن زی بھارت سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے؟

ڈھاکہ کی دیواروں، یونیورسٹی کی راہداریوں اور سڑکوں پر گونجتے نوجوانوں کے نعروں میں آج ایک جملہ بار بار سنائی دیتا ہے: ’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘۔ یہ جملہ محض ایک نعرہ یا وقتی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کے بدلتے سیاسی شعور، غصے اور خود مختاری کے مطالبے کی علامت بن چکا ہے۔ وہ نسل جو کبھی انڈیا کو قریبی اتحادی اور خطے میں استحکام کی ضمانت سمجھتی تھی، آج اسے ایک بالادست، مداخلت پسند اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے والی طاقت کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔
مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی، سیاسی شمولیت اور ہمسایہ تعلقات میں توازن کا نیا دور شروع ہو گا۔ مگر زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ نوجوانوں کی قیادت میں اُبھرنے والی سیاسی بیداری نے نہ صرف ملک میں ایک لمبے عرصے سے پنپنے والی اندرونی آمریت پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ سرحد پار دہلی کے کردار کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ بنگلہ دیشی نوجوانوں کے نزدیک حسینہ حکومت کی پشت پناہی، متنازع انتخابات کی خاموش حمایت اور بعد ازاں جلاوطنی میں پناہ دینا اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ انڈیا نے بنگلہ دیش میں جمہوری سفر کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بنگلہ دیشن کی جنریشن زی کے لیے ’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘ کا نعرہ صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اپنی شناخت، وقار اور فیصلوں کی خود مختاری کا اعلان بن چکا ہے۔ اس نعرے کے پیچھے وہ سوالات پوشیدہ ہیں جو آنے والے وقت میں بنگلہ دیش کے مستقبل، خطے میں طاقت کے توازن اور انڈیا کے ساتھ تعلقات کی نئی سمت کا تعین کریں گے۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں انڈیا مخالف جذبات کیوں اور کیسے بڑھتے جا رہے ہیں؟
مبصرین کے مطابق بنگلہ دیشی نوجوانوں کے نزدیک انڈیا کا رویہ ایک ایسے بڑے ہمسائے کا ہے جو بنگلہ دیش کو برابر کا شریک سمجھنے کی بجائے ایک تابع ریاست کے طور پر دیکھتا ہے۔ سرحدی اموات، پانی کی تقسیم کے تنازعات، تجارتی رکاوٹیں اور انڈین سیاستدانوں و میڈیا کی اشتعال انگیز زبان نے اس احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب بنگلہ دیش کی جنریشن زی بھارت سے اندھی نفرت کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات کی بنیادی وجہ صرف حسینہ کی حمایت نہیں بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ دہلی جمہوریت کے معاملے میں دوہرا معیار کیوں اپناتا ہے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اگر واقعی انڈیا خطے میں جمہوری اقدار کا داعی ہے تو اسے بنگلہ دیش میں ایک ہی جماعت اور ایک ہی قیادت پر انحصار کی بجائے ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات پر اصرار کرنا چاہیے تھا۔ تاہم بھارت نے حسینہ واجد کی پشت بناہی کر کے بنگلہ دیش میں جمہوریٹ کو شدید زد پہنچائی ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارتی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے آج بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات کئی دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ویزا پابندیاں، سفارتی سرد مہری اور ثقافتی فاصلے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیشی نوجوانوں کے انڈیا مخالف جذبات محض سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ ثقافتی اور معاشی سطح پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیلیں، آئی پی ایل کی نشریات سے لاتعلقی اور سوشل میڈیا پر انڈین اثر و رسوخ کے خلاف مہمات اسی ردعمل کا حصہ ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر نوجوان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کا اختلاف انڈیا کی حکومت اور پالیسیوں سے ہے، نہ کہ بھارتی عوام سے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان آج بھی سرحد کے آرپار خاندانی، ثقافتی اور لسانی رشتوں کو مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کا نعرہ ’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘ محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ نئی نسل کا واضح اور دوٹوک اعلان ہے۔ یہ نعرہ اس اجتماعی خواہش کی ترجمانی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی سیاست، اپنی جمہوریت اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرے گا اور کسی بھی صورت میں بھارتی بالادستی یا مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر اس پیغام کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والے وقت میں انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ پورے خطے میں ایک نئی سیاسی اور اسٹریٹجک کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
