پاکستان نے تنقید کرنی ہے تو افغان طالبان پر کرے، افغانیوں پر نہیں

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ 2016 میں صدر اشرف غنی افغان طالبان کی وجہ سے پاکستان پر الزامات لگاتا تھا اور آج پاکستان کالعدم تحریک طالبان کی وجہ سے افغان طالبان پر الزامات لگاتا ہے۔ دراصل یہ دو قوموں کی لڑائی نہیں بلکہ برسر اقتدار گروہوں کی لڑائی ہے۔ اسلیے میں سمجھتا ہوں کہ افغان طالبان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن افغانوں کی بطور قوم تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ طالبان پر تنقید کرنے والے مت بھولیں کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ آج پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے جو دوستوں کو دشمن بنانے کی ماہر ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ یہ تقریباً 9 برس پرانی بات ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگا رہے تھے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے راستے بھارتی مداخلت کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ پاک افغان بارڈر پر سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ پاکستان کی طرف سے طورخم بارڈر پر ایک گیٹ بنایا جا رہا تھا۔ افغان حکومت اس گیٹ کی تعمیر پر اعتراض کر رہی تھی کیونکہ اس کے خیال میں گیٹ کی تعمیر سے قبل افغانستان سے اجازت نہیں لی گئی۔ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ گیٹ پاکستانی حدود میں تعمیر کیا جا رہا ہے لہٰذا افغانستان سے اجازت لینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جب معاملہ طے نہ ہوا تو افغان نیشنل آرمی نے گیٹ تعمیر کرنے والے عملے پر فائرنگ کردی۔ پاکستانی فورسز نے جوابی فائرنگ کی تو افغان فوج بھاگ گئی۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ اگلے دن پاکستانی فوج کے افسر میجر علی جواد چنگیزی اپنی نگرانی میں گیٹ تعمیر کروا رہے تھے۔ افغان فوج نے ان پر براہ راست فائرنگ کی جس کے باعث وہ شہید ہوگئے۔ان کی شہادت سے دونوں ممالک میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور افغان فوج کے جوان بھی مارے جانے لگے۔ پاکستان نے چند ہفتوں کے اندر طور خم بارڈر پر گیٹ کی تعمیر مکمل کرکے اسے باب پاکستان کا نام دیااور کراسنگ ٹرمینل کو میجر علی جواد چنگیزی ٹرمینل کا نام دے دیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اشرف غنی باب پاکستان کی تعمیر پر زخمی سانپ کی طرح تڑپ رہے تھے اور ادھر پاکستانی حکام کو افغانستان پر فضائی حملوں کے مشورے دیئے جا رہے تھے۔ پاکستانی میڈیا پر افغانوں کو احسان فراموش قرار دیا جا رہا تھا۔ انہی دنوں میں نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا: ’’کیا افغان احسان فراموش ہیں؟‘‘ میں نے لکھا کہ افغان حکومت کے ساتھ شکوہ شکایت ضرور کیا جائے لیکن پوری افغان قوم کو احسان فراموش قرار دے کر اس کی تحقیر نہ کی جائے کیونکہ حضرت علی ہجویریؒ سمیت کئی صوفیا افغانستان سے آکر ہمارے اجداد کو مسلمان کرتے رہے۔ میں نے لکھا کہ ہماری رعونت آمیز حب الوطنی دوست کم اور دشمن زیادہ پیدا کرتی ہے۔
بقول حامد میر انکی اس تحریر پر تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ان کے کچھ متکبر ساتھی سخت ناراض ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر میرے خلاف ایک مہم شروع کردی حالانکہ میں نے واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ افغان حکمران یاد رکھیں اصل مسئلہ نہ کابل میں ہے نہ اسلام آباد میں ہے بلکہ اصل مسئلہ دہلی میں ہے جہاں پرتھوی راج چوہان کے پیروکاروں کو محمد غوری کے لئے خواجہ معین الدین چشتیؒ کی حمایت نہیں بھولتی اور شاہ ولی اللہ کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو لکھا جانے والا خط نہیں بھولتا جس میں برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیں گے؟
حامد میر کہتے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بھی ان کا یہی موقف تھا کہ پاک افغان تعلقات بہتر نہیں ہو پائیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز دوستوں کو دشمن بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے کماری اشرافیہ ہے جو دوستوں کو دشمن بنانے کی ماہر ہے۔
