پی ٹی آئی پنجاب عمران کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنانے سے انکاری کیوں؟

 

 

 

بانیِ تحریکِ انصاف عمران خان اور عسکری قیادت کے درمیان کشیدگی اور محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے۔ ایک جانب عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الزام تراشی اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی ریلیوں کے ذریعے سیاسی ماحول کو گرما رکھا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں پی ٹی آئی کے کیمپوں پر گہرا سکوت چھایا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کے خاتمے اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد صوبے میں پارٹی کی قیادت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق پنجاب میں پی ٹی آئی کی سرگرمیاں تو 9 مئی کے بعد ہی ماند پڑ گئی تھیں، تاہم پارٹی رہنماؤں کے بیانات اور سیاسی دعوے پھر بھی جاری تھے۔ البتہ اب صورتحال اس حد تک بدل چکی ہے کہ تحریکِ انصاف کی پنجاب میں پارلیمانی پارٹی نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب نے حکومت و اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات دینے سے پکی توبہ کر لی ہے تاکہ زیر عتاب آنے سے بچا جا سکے۔

 

 

پنجاب میں پی ٹی آئی کی قیادت اس حد تک مقدمات اور گرفتاریوں کے خوف میں مبتلا دکھائی دیتی ہے کہ چند روز قبل عمران خان کی جانب سے ایکس پر کی جانے والی ایک پوسٹ—جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا—پر بھی کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس پوسٹ کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے عمران خان پر سخت الزامات عائد کیے اور انہیں ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فوجی ترجمان کے اس قدر شدید بیان کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت مکمل خاموش رہی۔ نہ تو کسی صوبائی رہنما نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے مؤقف کی تردید کی اور نہ ہی اس پر کوئی احتجاجی یا وضاحتی بیان سامنے آیا۔ حتیٰ کہ صحافیوں کی جانب سے اس بارے میں مؤقف لینے کی کوششوں پر بھی صوبائی قیادت نے جواب دینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔

 

اس معاملے پر پی ٹی آئی کی پنجاب پارلیمانی پارٹی کے متعدد اراکینِ اسمبلی سے رابطہ کیا گیا مگر وہاں خاموشی ہی خاموشی نظر آئی، متعدد رہنماؤں نے اس حوالے سے بات کرنے کے حوالے سے معذرت کر لی۔ تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کچھ ایم پی ایز نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کے ٹوئٹس اور ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں جنہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ایک ایم پی اے نے مختصراً کہا کہ ہم کسی کی طرف نہیں ہیں بس خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

اقتدار اور اختیار کی جنگ فوج کی قیادت جیتے گی یا عمران؟

مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹس اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بارے پارٹی رہنماؤں کے خاموشی اختیار کرنے سے پتا چلتا ہے عمران خان کی ناکام سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا پنجاب سے صفایا ہو چکا ہے، پی ٹی آئی کی صورت میں کمزور اور لاغر اپوزیشن نے مریم نواز کو پنجاب کی مضبوط ترین وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پنجاب میں تحریک انصاف کی قیادت منظر عام سے غائب ہے وہیں دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اراکین بھی خاموشی کی طنابوں میں جکڑے نظر آتے ہیں پی ٹی آئی کی کمزور پوزیشن اور معنی خیز خاموشی کی وجہ سے نہ تو انھیں ایوان میں ٹف ٹائم مل رہا ہے اور نہ ہی سڑکوں پر کوئی احتجاجی تحریک نظرآتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد تحریکِ انصاف کے ’’انقلابی‘‘ رہنما صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ عملی میدان میں پنجاب سے پی ٹی آئی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق مریم نواز کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے پہل تو پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت مخالف آوازیں سنائی دیتی تھیں تاہم اب تو تحریک انصاف کی اختلافی آوازیں اور بیان بازی بھی محدود ہوگئی ہے‘ ’ملک احمد خان بھچر نے بطور اپوزیشن لیڈر ن لیگ کو تھوڑا بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔ تاہم جب سے وہ نااہل ہوئے ہیں اس وقت سے اب تک اپوزیشن کا پنجاب اسمبلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب سے نئے اپوزیشن لیڈر معین قریشی آئے ہیں، پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی میں کمپرومائزڈ نظر آرہی ہے۔ ’گزشتہ  کئی ماہ کے دوران پنجاب حکومت کے خلاف اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے قانون سازی ہو یا قراردادوں کی منظوری حکومت تمام امور بغیر کسی رکاوٹ کے سرانجام دے رہی ہے، کسی پالیسی یا منصوبے میں تبدیلی کرانے میں اپوزیشن تاحال ناکام نظر آتی ہے۔‘ مبصرین کے بقول پی ٹی آئی بطور جماعت اس وقت پنجاب میں نہ ہونے کے برابر ہے، پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن وہ بھی موجودہ قیادت سے مایوس ہوتا جارہا ہے۔

Back to top button