PTI فوج مخالف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپنا ماننے سے انکاری کیوں؟

بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف چلنے والی تضحیک آمیز مہم نے پاکستان تحریکِ انصاف کو براہِ راست دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ سول و عسکری قیادت کے عتاب سے بچنے کیلئے پی ٹی آئی قیادت نے پہلی بار دوٹوک انداز میں فورسز اور شہداء کو نشانہ بنانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اعلان لا تعلقی کر دیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جو سوشل میڈیا بریگیڈ کل تک پی ٹی آئی کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، وہ آج عملاً پارٹی قیادت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔ یہی بے لگام ڈیجیٹل قوت نہ صرف پارٹی کو سیاسی بند گلی میں دھکیل رہی ہے بلکہ خود پی ٹی آئی کے لیے ایک سنجیدہ اور اندرونی سیاسی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ بنیادی طور پر امریکہ سے آپریٹ کرتا ہے اور اس کی نگرانی براہِ راست عمران خان کی شدت پسند ہمشیرہ علیمہ خان کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹی کے اندر موجود معتدل حلقوں کی فوج مخالف اور ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش بارآور ثابت نہیں ہو پاتی۔ علیمہ خان کی آشیر باد سے بیرونِ ملک بیٹھے اس سوشل میڈیا نیٹ ورک نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر خود کو ایک آزاد اور طاقتور پلیٹ فارم کی صورت دے دی ہے، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بریگیڈ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ خود تحریکِ انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی کے لیے بھی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان پارٹی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی نگران ہیں اور وہ بھی فوج مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ناقدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ فوج مخالف اور انتہا پسندانہ بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، حالانکہ پارٹی کے اندر سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ علیمہ خان اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ کا یہی رویہ عمران خان کی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

 

تحریکِ انصاف کے معتدل رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر عمران خان کو جیل سے باہر لانے کا کوئی عملی راستہ موجود ہے تو وہ فوج مخالف بیانیے کے خاتمے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ و حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر موجود سخت گیر عناصر اور سوشل میڈیا بریگیڈ کی مزاحمت کے باعث یہ مؤقف اب تک فیصلہ کن شکل اختیار نہیں کر سکا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان خود ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنی سوشل میڈیا طاقت کو محدود کریں، خصوصاً جب وہ ماضی میں اسی پلیٹ فارم کو اپنی سب سے بڑی سیاسی قوت اور مخالفین کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کے سیاسی سفر میں سوشل میڈیا کو ججوں، سرکاری افسران، صحافیوں، سیاسی مخالفین اور حتیٰ کہ عسکری قیادت کے خلاف بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا اور وقتی طور پر سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اب یہی سوشل میڈیا ان کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکا ہے، جو اگر قابو میں نہ آیا تو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کو باقاعدہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر منظم کیا۔ 2014 کے دھرنے سے لے کر 2018 کے انتخابات اور پھر حکومت کے خاتمے کے بعد کی مزاحمتی سیاست تک، پارٹی کا ڈیجیٹل نیٹ ورک اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا رہا۔ یہی نیٹ ورک بیانیہ بناتا، مخالفین کو دفاعی پوزیشن میں لاتا اور پارٹی قیادت کے لیے ایک متحرک سیاسی دباؤ پیدا کرتا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہی طاقت ایک بے لگام قوت میں تبدیل ہو گئی، جس پر نہ پارٹی ڈسپلن لاگو رہا اور نہ ہی قیادت کی ہدایات مؤثر ثابت ہوئیں۔

 عمران نے بسنت پر مریم نواز کے لیے کونسی پریشانی کھڑی کر دی؟

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد جب سوشل میڈیا پر فورسز، شہداء اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلنا شروع ہوا تو اس کا براہِ راست نقصان پی ٹی آئی کو پہنچا۔ ریاستی اداروں کے خلاف اس نوعیت کی مہم نے نہ صرف پارٹی کو قومی سطح پر تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا بلکہ پی ٹی آئی کے اس دیرینہ مؤقف کو بھی کمزور کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے کا حصہ ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پارٹی قیادت کو پہلی بار کھل کر اپنے ہی ڈیجیٹل کارکنوں سے فاصلہ اختیار کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے لاتعلقی کا اعلان دراصل ایک سیاسی مجبوری تھا، نہ کہ محض ایک اخلاقی مؤقف۔ پارٹی کو بخوبی اندازہ ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر ابہام یا دوغلا پن اسے مزید تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت نے واضح الفاظ میں کہا کہ فورسز اور شہداء پر تنقید ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم اس اعلان کے باوجود اصل مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے، پارٹی کے پاس اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو کنٹرول کرنے کا کوئی مؤثر طریقہ باقی نہیں رہا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت خود اس بات سے خائف ہے کہ اگر ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تو ردِعمل میں یہی ڈیجیٹل گروہ پارٹی قیادت کے خلاف ہی محاذ کھول سکتا ہے۔ اس خدشے نے قیادت کو ایک عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے۔

 

Back to top button