فیض حمید پر فرد جرم لگنے کے بعد PTI مذاکرات کیوں چاہتی ہے؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ٹی آئی کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر فردِ جرم عائد ہونے اور ان پر تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ رابطوں اور ملک کو انتشار کا شکار کرنے کے الزامات تحریک انصاف اور اس کی قیادت کیلئے مزید مشکلات کھڑی کرنے جا رہے ہیں۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف تحریک انصاف نے 15 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا پلان بنا رکھا ہے وہیں اب اچانک صرف مقتدرہ سے بات چیت کرنے کے لئے مُصر یوتھیے رہنما مخالف سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے بھی تیار نظر آتے ہیں، تحریک انصاف یہ مذاکراتی عمل ایک ایسے وقت میں شروع کرنا چاہتی ہے جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے معاملے پر تفتیش شروع ہو چکی ہے اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سیاسی سرگرمیوں‘ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیوں اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچانے اور اختیارات کے غلط استعمال پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔اور اب وہ مرحلہ آن پہنچا کہ ان پر فرد جرم عائد کی جائے، اس کے بعد یہ معاملہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگرچہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر الزامات کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے مگر ان پر سب سے بڑا الزام بعد از ریٹائرمنٹ سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ بدامنی اور پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونا ہے، معاملہ صرف 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کا نہیں بلکہ 25 مئی 2022ء کو اسلام آباد پر یلغار اور نومبر 2022ء میں آرمی چیف کی تقرری کے عمل پر اثر انداز ہونے کے لئے راولپنڈی مارچ کے تانے بانے بھی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے مل رہے ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو اندازہ ہو چکا ہے کہ یہ کارروائی صرف فیض حمید تک محدود نہیں رہے گی بلکہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں بانی پی ٹی آئی سمیت کئی شخصیات کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، ایسے میں تحریک انصاف نے ریاست پر دباؤ ڈالنے کے لئے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، بانی پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی کال سے متعلق اپنا پیغام پارٹی قیادت کو بھجوا دیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یومِ سوگ 14 کے بجائے 15 دسمبر کو منایا جائے گا اور اُسی روز پارٹی قیادت کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، سول نافرمانی کی تحریک میں پہلے مرحلے میں سمندر پار پاکستانیوں کو بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر بھیجنے سے روکا جائے گا، شرط رکھی جائے گی کہ تحریک انصاف کے سیاسی قیدیوں کو چھوڑا جائے اور نو مئی اور 26 نومبر کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔
جنرل فیض حمید کا سخت ترین سزاؤں سے بچنا ممکن کیوں نہیں؟
سول نافرمانی کی تحریک میں سمندر پار پاکستانیوں کو ملک میں زرِمبادلہ نہ بھجوانے کی تحریک کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے، اس بات کا جائزہ ترسیلاتِ زر کے حالیہ اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے، تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں میں بڑی تعداد ان کے فالورز کی ہے اور پارٹی کی اپیل پر وہ بیرونِ ملک سے رقم بھجوانا بند کر دیں گے مگر گزشتہ ایک سال کے ڈیٹا پر نظر دوڑائیں تو سمندر پار پاکستانیوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں پہلے سے زیادہ رقم پاکستان بھجوائی۔۔ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک سے پاکستان رقوم بھجوانے کا معاملہ سیاست سے ہٹ کر ضرورت پر مبنی ہے جو بیرونِ ملک رہ کر ملک کی خدمت کرنے والوں کے گھروں کو چلانے کے لئے ناگزیر ہے۔تحریک انصاف کی سول نافرمانی کی تحریک کئی مراحل پر مشتمل دکھائی دیتی ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ ان حقائق کی روشنی میں پہلا مرحلہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
