سہیل وڑائچ کو اسٹیبلشمنٹ کی نئی شادی پر اعتراض کیوں ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر دور میں فیصلہ سازوں نے اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق نظام بنانے کے لیے آئینی ترامیم کیں، مگر ان تجربات سے ریاست اور عوام کو فائدے کے بجائے مسلسل نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ لہذا انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 28ویں ترمیم کے نام پر ایک اور سیاسی تجربہ مسلط کیا گیا تو کوئی بعید نہیں کہ شادی کے ڈھول پر رقص کے بجائے باراتی آہ و بکا کرنے لگیں اور یہ شادی خوشی کے بجائے اجتماعی غم میں بدل جائے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی صورتحال کو ایک تاریخی اور استعاراتی قصے کے ذریعے واضح کیا ہے۔ انہوں نے خوشاب کے علاقے شاہپور سے منسوب ایک روایت کا ذکر کیا، جس میں برطانوی دور کے بااثر جاگیردار جنرل سر عمر حیات ٹوانہ ہر ہفتے ایک ہی خاتون سے نئی شادی کی رسم کرنے بینڈ باجے اور بارات کے ساتھ اس کے گاؤں جایا کرتے تھے۔ خاتون کو جمعرات کو اس کے گھر بھجوا دیا جاتا اور جمعہ کو ٹوانہ صاحب بارات لے کر ا جاتے۔ ڈھول تاشے، باراتی اور دولہا وہی ہوتے تھے، مگر ہر بار شادی کو نیا قرار دیا جاتا تھا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق یہ قصہ پاکستانی سیاسی تاریخ کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بار بار وہی نظام، وہی کردار اور وہی وعدے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج کا پاکستان اسی دائرے میں گھوم رہا ہے۔ ہر نئی حکومت اقتدار میں آتے ہی نئے نظام کا اعلان کرتی ہے، ڈھول تاشے بجتے ہیں، عوام میں امیدیں جنم لیتی ہیں، مگر کچھ ہی عرصے بعد بتایا جاتا ہے کہ اب حالات سنبھالنے کے لیے ایک اور بڑی تبدیلی ضروری ہے۔ یوں فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایک کے بعد دوسری سیاسی شادی رچائی جاتی ہے۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ المیہ یہ ہے کہ اب باراتی یعنی عوام اس تماشے سے اکتا چکے ہیں۔ نظام بدلنے کی بات اب خوشی نہیں بلکہ بے یقینی اور خوف کو جنم دیتی ہے، کیونکہ ناکام تجربات کے نتائج ہر بار یکساں نکلتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 27ویں ترمیم کی شادی کی رسومات ابھی مکمل نہیں ہوئیں تو 28ویں ترمیم لانے کی تیاری کس منطق کے تحت کی جا رہی ہے؟ سہیل وڑائچ نے پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ قیام پاکستان کے بعد کئی برس تک آئین پر اتفاق نہ ہو سکا تھا، اس کے بعد 1956ء کا آئین آیا، جسے زیادہ دیر چلنے نہ دیا گیا اور 1958ء میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے صدارتی نظام نے اس کی جگہ لے لی۔ اسکے بعد جنرل یحییٰ خان کا دور، 1971ء کا سانحہ، 1973ء کا متفقہ آئین، جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا، اور پھر مختلف جمہوری و نیم جمہوری ادوار آئے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ دراصل مختلف سیاسی شادیاں تھیں جن کے باوجود گھر بسنے کی بجائے بار بار اجڑ جاتا ہے اور خاندان یعنی پاکستانی عوام کو استحکام نصیب نہیں ہو سکا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں عوام کو بااختیار بنانے کے لیے نظام بدلنے کے جھوٹے دعوے کیے گئے، مگر نتیجی صفر نکلا۔ بعد ازاں آنے والی جمہوری حکومتیں بھی عوام کی توقعات پر پوری نہ اتر سکیں، جبکہ ہائبرڈ نظام کے تجربے نے سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کیا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اب جبکہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک نئی آئینی تبدیلی کی بات ہو رہی ہے تو حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام مزید تجربات کے متحمل نہیں رہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ایک اور شادی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے تو کم از کم کھانے کا مینیو ہی بدل دیا جائے، کیونکہ وہی پرانا ذائقہ، وہی رسومات اور وہی نتائج اب باراتیوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔
کیا 860 ملاقاتیں کرنے والے عمران خان قید تنہائی میں ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ نئی شادی وقتی جوش تو پیدا کر سکتی ہے، مگر ایک ہی تجربے کو بار بار دہرانے سے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ سہیل وڑائچ نے انتباہ کیا کہ اگر 28ویں ترمیم کے ڈھول بے سوچے سمجھے بجائے گئے تو یہ شادی خوشی کے بجائے اجتماعی تھکن اور غم کی علامت بن سکتی ہے۔
