پنجابی اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو اصل پاکستان کیوں سمجھتی ہے؟

معروف تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ ایک مرتبہ پھر اسی خطرناک مغالطے کا شکار ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ پنجاب ہی پاکستان ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ٹوٹنے کی بنیادی وجہ بھی یہی غلط سوچ تھی۔ ان کے مطابق افسوسناک امر یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھی ہماری اشرافیہ نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور چھوٹے صوبوں کے بارے میں اس کا رویہ تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں بلال غوری وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ لاہور میں ان کے ساتھ حکومت پنجاب کی جانب سے کیے گئے ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء کے دورِ حکومت میں پنجاب کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کا ایک جملہ اسٹیبلشمنٹ کی اجتماعی سوچ کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ وہ سیدہ عابدہ حسین کی کتاب ’پاور فیلیئر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جنرل غلام جیلانی خان، جنرل سوار خان کے بعد پنجاب کے گورنر بنے، جنرل جیلانی کی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ہی جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا خاتمہ کر کے مارشل لا لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہی جنرل جیلانی حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان اور بلوچ رہنماؤں کے خلاف شواہد پیش کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔
بلال غوری کے مطابق سیدہ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ ان کے گھر بلوچ اور پختون رہنما اکثر قیام کرتے تھے، جن میں خان عبدالولی خان بھی شامل تھے۔ ایک موقع پر جنرل غلام جیلانی خان نے سیدہ عابدہ حسین کو طلب کر کے بتایا کہ ان کے گھر کے باہر دو گاڑیاں کھڑی ہیں، ایک انکے شوہر سید فخر امام کے پروٹوکول کے لیے اور دوسری عبدالولی خان کی نگرانی کے لیے۔ اس پر سیدہ عابدہ حسین نے واضح کیا کہ ولی خان ان کے معزز مہمان ہیں اور وہ ایک پکے جمہوریت پسند ہیں، جبکہ ان کے شوہر فوجی حکومت میں وزیر ہونے کے باوجود فوج کے سیاسی کردار سے اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔ اسی ملاقات کے دوران جنرل غلام جیلانی خان نے سخت لہجے میں کہا، ’میں نے سرحد، سندھ حتیٰ کہ بلوچستان میں بھی ڈیوٹی کی ہے، یہ چھوٹے صوبوں والے کچھ بھی نہیں ہیں، پنجاب ہی پاکستان ہے، یہ کبھی مت بھولیے گا۔‘
بلال غوری کہتے ہیں کہ یہ جملہ سنتے ہی سیدہ عابدہ حسین شدید غصے میں آ گئیں۔ انہوں نے جنرل جیلانی کو جواب دیا کہ بلوچستان، سرحد، سندھ اور پنجاب سب پاکستان ہیں اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد تو یہ بات کسی کو بھی نہیں بھولنی چاہیے۔ غوری کے مطابق یہی تلخ یادیں تب تازہ ہو گئیں جب حال ہی میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کے ہمراہ لاہور آمد کے دوران افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ خیبر پختونخوا کے بعض وزرا کی جانب سے وزیر اعلی مریم نواز کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کی گئی، لیکن اسکے باوجود پنجاب حکومت کو وسعتِ قلبی اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ان کے بقول پنجاب کے عوام اپنی مہمان نوازی اور فراخدلی کے لیے مشہور ہیں، مگر وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی حکومت کا رویہ منفی تاثر چھوڑ گیا۔
بلال غوری کے مطابق صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جانب سے ’جانگلی‘ جیسے الفاظ اور منشیات فروش جیسی پھبتیوں نے وفاق کی اکائیوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی سیاست پر تنقید ایک الگ بات ہے، مگر گزشتہ چند ماہ سے پختون معاشرے کو اجتماعی طور پر ہدف بنایا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ شرپسند، ملک دشمن یا غدار ہیں، جو نہایت خطرناک رجحان ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ ایک طرف تحریک انصاف پختونوں کو بہادر اور غیرت مند قرار دے کر اپنی سیاست کا ایندھن بناتی ہے، جبکہ دوسری طرف ہماری اشرافیہ انہیں بے وقوف اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، جسکے نتیجے میں قوم کے اندر خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہمارا حکمران طبقہ ایک بار پھر اسی مغالطے کا شکار ہو رہا ہے کہ پنجاب ہی پاکستان ہے؟ اپنے تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بے شمار اسباب بیان کیے جا سکتے ہیں، مگر ان کی دانست میں سقوطِ ڈھاکہ کی بنیادی وجہ یہی سوچ تھی کہ بنگالی جاہل، اجڈ اور گنوار ہیں اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اس لیے انہیں الگ کر دینا بہتر ہے۔ وہ میجر جنرل راؤ فرمان علی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بنگالیوں کو اقتدار آبادی کی بنیاد پر ملنا تھا، لیکن پاکستان میں ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو انہیں کسی صورت اقتدار دینا نہیں چاہتا تھا۔
بلال غوری کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اکبر، جو بعد میں برطانیہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے، انہوں نے خود تسلیم کیا کہ فوج کے اندر بنگالیوں کے بارے میں انتہائی تحقیر آمیز سوچ پائی جاتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی اپنی ڈائری میں کئی مواقع پر بنگالیوں کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا۔
پنجاب میں بسنت کی اجازت لوگوں کے قتل کا لائسنس قرار
بلال غوری کہتے ہیں کہ یہی سوچ مشرقی پاکستان کے عوام تک بھی پہنچی اور حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بنی۔ بلال غوری خبردار کرتے ہیں کہ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا اور چھوٹے صوبوں کو مسلسل حقیر سمجھنے کا رویہ برقرار رہا تو یہ طرزِ فکر ملکی یکجہتی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان صرف پنجاب کا نام نہیں بلکہ چاروں صوبوں، ان کے عوام اور باہمی احترام سے مل کر پاکستان بنتا ہے۔
