زرداری شہباز شریف کو وزیراعظم کیوں بنوانا چاہتے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کی بھر پور کوشش ہے کہ وفاقی حکومت نواز لیگ کے سپرد کر کے سال ڈیڑھ سال کا جو عرصہ باقی بچا ہے اسے پورا کیا جائے اور پارلیمنٹ کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ لہذا شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ آفر کر پیپلز پارٹی کی جانب سے نہایت فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن سیٹھی کے مطابق زرداری جانتے ہیں کہ آگے چل کر حکومتی محاذ پر جو مشکل ترین فیصلے آنے ہیں اور معیشت کی حالت اور بھی خراب ہونی یے اس کے ردعمل میں گالیاں نواز لیگ کو ہی پڑیں گی۔ لہذا وزارت عظمی کے لئے شہباز شریف کو آگے کیا جا رہا ہے۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ نواز شریف اگر وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی سو فیصد کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں تو انھیں کچھ معاملات میں پیچھے ہٹنا پڑے گا اور سمجھوتے کرنا ہوں گے ورنہ عمران کو نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال اب اپنے کلائمیکس پر آنے والی ہے۔ سب فیصلے ہو چکے ہیں۔
ہماری چڑیا کی خبر یہی تھی کہ اگلے ہفتے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائے گی۔ مگر اب ایک نیا ایشو کھڑا ہو چکا ہے۔ سیٹھی نے کہا کہ میری انڈرسٹینڈنگ یہ تھی کہ اپقزیشن نے دو مراحل میں یہ سارا کام کرنا ہے۔ پہلے مرحلے میں سب کو اکھٹا کرکے تحریک عدم اعتماد پر اتفاق رائے پیدا کرنا جبکہ دوسری سٹیج میں نمبرز گیم پوری کرکے تحریک عدم اعتماد پیش کرنا شامل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جو جماعتیں تحریک انصاف کے خلاف صف آرا ہیں، ضروری نہیں کہ وہ مستقبل میں بھی اکھٹی رہیں کیونکہ ان کا عمران خان کو نکالنے میں تو مفاد ایک ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی طور پر سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور ان جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں حصہ لینا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہر جماعت کی اپنی سیاسی سمجھ بوجھ ہے۔ کوئی چاہتا ہے کہ عمران کو اقتدار سے نکالنے کے بعد فوری الیکشن ہو جائیں تو کوئی اس کا انعقاد اپنے وقت پر چاپتا ہے۔ کوئی اسمبلیوں کی تحلیل کا حامی تو کوئی ان کی مدت پوری کرنے کا خواہشمند ہے۔
روس کے حملے سے تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا خدشہ
لہذا بقول نجم سیٹھی اپوزیشن جماعتوں نے اب آخری سٹیج پر کچھ چیزوں پر لازمی اتفاق کرنا ہے جو کہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی سوچ کو ریفلیکٹ کرتے ہیں اور اسی لیے انیوں نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر یہ سٹینڈ لیا ہوا ہے کہ عمران کو نکالنے کے فوری بعد نئے الیکشن کرائے جائیں تاہم شہباز شریف نے آج تک ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ وہ اپنے پتے چھپا کر سیاسی کھیل کھیلنے کے عادی ہیں اور وزارت عظمی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
ملک میں جاری سیاسی جوڑ توڑ پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب سندھ حکومت گنوانا نہیں چاہیں گے۔ وہ کبھی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ان کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں جو ہوتا ہے وہ ہو لیکن سندھ حکومت قائم رہے۔ وہ پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال کرانے کی سوچ رہے ہیں۔
اس کیلئے انھیں دو چیزیں درکار ہیں، ایک یہ کہ انھیں کوئی ایسی حکومت مل جائے جو خود کے علاوہ انکی پارٹی پوزیشن کو بھی مضبوط کرے۔ ظاہری بات ہے کہ یہ حکومت مسلم لیگ ن کی نہیں ہو سکتی۔ مسلم لیگ ن بھی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ زرداری صاحب اگلے الیکشن میں صوبہ پنجاب سے زیادہ نشستیں حاصل کر جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد آصف زرداری کیلئے چودھری پرویز الٰہی ہی سوٹ کرتے ہیں کہ وہ پنجاب میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوں تاکہ ان کیساتھ مل کر یہاں اپنی سیاسی ساکھ کو مضبوط کیا جا سکے۔ ان کی کوشش ہے کہ چودھری برادران کیساتھ اتحاد بنا کر پنجاب کو اپنے قبضے میں لیا جائے تاکہ ڈیڑھ سال میں پوری کوشش کرکے یہاں اپنے پائوں مضبوط کر لئے جائیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں ن لیگ ہی سوئپ کرے گی۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ بھی کبھی نہیں چاہے گی کہ ن لیگ الیکشن میں سوئپ کر جائے۔ چودھری برادران اور پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے اثاثے تو ہیں ہی، اب ٹی ایل پی کو بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ اس لئے سب کو ملا کر اگر ن لیگ کا زور توڑ دیا جائے تو اس سے بہتر کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی یہی کوشش ہے کہ وفاق ن لیگ کے سپرد کرکے سال ڈیڑھ سال کا جو عرصہ بچا ہے اسے نکال لیا جائے۔ اس معاملے میں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی آفر کرکے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے کیونکہ انھیں پتا ہے کہ آگے جو حالت خراب ہونے ہیں ان پر گالیاں بھی انھیں ہی پڑیں گی۔
