عمران خود ریحام کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کرتے؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنا حساب چکانے کے لئے مراد سعید کو استعمال کیا ہے ورنہ ریحام خان کی کتاب شائع ہوئے چار سال گزر گئے لیکن انہوں نے اسکے خلاف کسی عدالت میں کوئی کیس دائر نہیں کیا۔ صافی کہتے ہیں کہ اب جب ریحام خان کی کتاب کی آڑ میں محسن بیگ کو گرفتار کیا گیا ہے تو ریحام خان بھی پاکستان میں موجود ہیں لیکن انکے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں ریحام خان کی کتاب چھپنے سے پہلے ہی موضوع بحث بن گئی تھی اور شائع ہونے کے بعد بھی موضوع بحث بنی رہی لیکن میں نے کبھی ان موضوعات سے متعلق قلم اٹھایا اور نہ ٹی وی پروگرام کیا۔ افسوس کہ آج میں مراد سعید کے ایشو اور ریحام خان کی کتاب کو موضوع بحث بنانے پر مجبور ہوا ہوں کیونکہ کتاب اور مراد سعید کے ایشو کو بنیاد بنا کر نہ صرف محسن بیگ کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ اسی کا سہارا لے کر پیکا قانون میں ترمیم کرکے ایک ڈریکونین آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے بعد پاکستان عملاً پاکستان نہیں رہے گا بلکہ شمالی کوریا بن جائے گا اور عمران خان امیرالمومنین نہیں رہیں گے بلکہ کم جونگ ان بن جائیں گے۔ یوں اب یہ سیاست کا نہیں بلکہ آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کا ایشو بھی بن گیا ہے۔
بقول سلیم صافی، حقیقت یہ ہے کہ جب ریحام خان نے اپنی کتاب کا مسودہ تیار کر لیا اور وہ پبلشر ڈھونڈ رہی تھیں تو ترکی میں ایک بندے کو پبلشر بنا کر عمران خان کو سپورٹ کرنے والی ایک ایجنسی نے ان سے کتاب کا اسکرپٹ حاصل کر لیا۔ تب رمضان کا مہینہ تھا اور دوپہر کو عمران خان نے بنی گالہ میں اس حوالے سے اپنے میڈیا منیجروں کا اجلاس طلب کیا جس میں حمزہ علی عباسی کو بھی بلایا گیا۔
صدارتی آرڈیننس کے بعد الیکشن کمیشن اور حکومت کا پھڈا
فرسٹ اٹیک کا عمران خان کا جو کلیہ ہے اس کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ حمزہ عباسی اس کتاب کے مندرجات کو لیک کرے گا اور پھر باقی اینکرز اور ترجمان ریحام کے خلاف اس انداز میں بولیں گے کہیہ کتاب چھپنے سے پہلے غیرموثر ہو جائے۔ ہم جیسے لوگوں کو بھی کیاتب کی سافٹ کاپی پی ٹی آئی کی طرف سے ملی۔
اس سافٹ کاپی میں بھی مراد سعید وغیرہ کا ذکر ہے اور پھر ریحام کی طرف سے باقاعدہ شائع ہونے والی کتاب میں بھی ذکر موجود ہے لیکن اس سافٹ کاپی پر صفحہ نمبر درج نہیں ہے۔ اب نہ جانے ایف آئی اے میں محسن بیگ کی شکایت کے خلاف مراد سعید نے کس بنیاد پر صفحہ 273کا حوالہ دیا ہے کیونکہ ریحام خان کی جو طبع شدہ کتاب ہے اس میں اس صفحے پر سرے سے مراد سعید کا ذکر ہی نہیں ہے۔
اصل کتاب میں وہ ذکر صفحہ نمبر 4 اور 5 سو صفحے کے درمیان میں کہیں آتا ہے اور تنہا مراد سعید کا نہیں بلکہ اسی انداز میں علی امین گنڈاپور، پرویز خٹک کا بھی ذکر ہے۔ اسی طرح کتاب کے مندرجات میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جن کو کسی صورت مناسب نہیں کہا جا سکتا لیکن ریحام خان کے خلاف قانونی کارروائی باقاعدہ شائع شدہ کتاب کی بنیاد پر ہو سکتی ہے نہ کہ اشاعت سے پہلے لیک ہونے والی سافٹ کاپی کی بنیاد پر۔ اب حمزہ علی عباسی وغیرہ نے ان باتوں کی تشہیر اس وقت ٹی وی پر کردی جب باقاعدہ کتاب چھپی ہی نہیں تھی۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ یوں مراد سعید وغیرہ کے پہلے مجرم تو حمزہ علی عباسی اور خود عمران خان بنتے ہیں لیکن عمران ان کے لیڈر جبکہ حمزہ قریبی دوست ہیں۔ اسی طرح ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے محسن بیگ نے صرف ریحام کی کتاب کا حوالہ دیا جو میرے نزدیک نامناسب تھا، لیکن مراد سعید نے اپنی طرف سے صفحہ 273 کا بھی حوالہ دے دیا جبکہ ریحام خان کی اصل کتاب میں اس صفحے پر ان کا ذکر بھی نہیں ہے۔
بقول صافی، ریحام خان نے مراد سعید وغیرہ کے خلاف جو باتیں کی ہیں وہ غیرمناسب ضرور ہیں لیکن قانونی چارہ جوئی کے لیے وہ جواز نہیں بنتیں جبکہ عمران کے خلاف مراد سعید وغیرہ کی نسبت ہزار گنا زیادہ باتیں لکھی گئی ہیں اور ان میں بعض باتیں قانونی چارہ جوئی کے لیے اچھا جواز بن سکتی ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ مراد سعید کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے عمران خان خود ریحام خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتے؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ریحام خان کے خلاف برطانیہ کی کسی عدالت میں کتاب کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیوں نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ان کی کتاب کے تذکرے کی بنیاد پر محسن بیگ کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس وقت ریحام خان خود پاکستان میں موجود ہیں تو کتاب کی مصنفہ کے خلاف پاکستان میں قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی جاتی؟
