مولانا فضل الرحمن اس وقت عمران سے ہاتھ کیوں نہیں ملانا چاہتے ؟

عمران خان کی تحریک انصاف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو حکومت مخالف مجوزہ سیاسی اتحاد کا سربراہ بنانے کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اس سمت کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مولانا خیبر پختونخواہ کو جمعیت علماء اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں، لہٰذا اگر وہ عمران سے ہاتھ ملا لیتے ہیں تو ان کا اپنا ووٹ بینک مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس حوالے سے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف کے درمیان پہلے ایک سال میں دوریاں تو کم ہوئیں مگر بات ابھی قربت تک نہیں پہنچ پائی۔ ذرائع کے مطابق اتحاد نہ ہو سکنے کی ایک وجہ دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات ہیں۔ چونکہ دونوں کی اصل طاقت کے پی ہے، لہٰذا معاملات اب تک حل طلب ہیں۔ ماضی میں لفظوں کی ’’گولہ باری‘‘ نے دونوں کو ہی زخمی کیا لیکن مولانا کو بہت زیادہ ذلیل کیا گیا۔ چنانچہ جب تک تحریک انصاف کی جانب سے مولانا کے زخموں پر ’’مرہم‘‘ نہیں رکھا جاتا ان دونوں جماعتوں کا ہاتھ ملانا ناممکن نظر آتا ہے۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ جے یو آئی پاکستان کی اہم ترین مذہبی سیاسی جماعت ہے جو اب ایک مکمل سیاسی جماعت کے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ جماعت کے ذرائع کے مطابق پچھلے دو تین انتخابات میں اُنکی جماعت نے دوسرے مسلک کے لوگوں کو بھی پارٹی ٹکٹ دیئے اور اب بات پارٹی کے عہدوں تک بھی آ رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کے مولانا اور جے یو آئی کو اصل تھریٹ مذہبی شدت پسند گروپ ’’داعش‘‘ سے ہے جس نے ایک کتاب پشتو زبان میں شائع کرتے ہوئے پارلیمانی جمہوریت کو کفر کا نظام قرار دیا ہے۔ لہٰذا کے پی میں بشمول سابقہ فاٹا کے علاقوں میں شدت پسندوں کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ خود جے یو آئی اور مولانا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ 2013ء سے 2025ء تک کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سیاسی طور پر پی ٹی آئی نے صوبہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں جے یو آئی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شکست دی ہے۔ گزشتہ دو الیکشنز میں تو پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی۔ تاہم مولانا مرکز اور پنجاب کی طرح کے پی، بلوچستان اور کراچی میں بھی الیکشن کو فارم 47کا انتخاب قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی پر صرف مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی طرف سے طالبان اور مذہبی شدت پسندوں کی خاموش حمایت کا الزام نہیں بلکہ مولانا کو بھی اس پر شکوک و شبہات ہیں۔ تاہم مولانا نے اُس وقت ایک بڑا سیاسی فیصلہ کیا جب انہوں نے 2022ء میں سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی۔ مولانا کے قریب ترین ذرائع کا کہنا ہے غالباً 2021ء اور 2022ء میں بھی اُس وقت کے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں مولانا لانگ مارچ کے ذریعے عمران حکومت پر دباؤ بڑھانے اور نئے الیکشن کے حامی تھے۔ مولانا سمجھتے تھے کہ اُس وقت حکومت کمزور تھی اور سڑکوں پر اسمبلیوں سے استعفیٰ دیکر دباؤ بڑھایا جا سکتا تھا۔ مگر مولانا اسٹیبلشمنٹ کے ذریعہ عدم تحریک کے حق میں نہیں تھے جس نے عمران کو ایک نئی سیاسی زندگی دے دی۔

مولانا اور خود مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف 2022 میں تحریک کے فوراً بعد الیکشن کے حق میں تھے مگر ’’نئے اتحادیوں‘‘ جن میں ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی شامل تھی حکومت بنانے اور چلانے کے حق میں تھے۔

بات 2024ءکے الیکشن تک آئی تو عمران خان مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے اور مولانا اِس کا الزام مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی ناقص پالیسیوں کو دے رہے تھےجسکی وجہ سے خود جے یو آئی کے ہاتھ سے ایک بار پھر کے پی نکلتا نظر آ رہا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب الیکشن کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مولانا سے ملاقات میں اُن کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تاہم انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اس ملاقات میں ایک ایسا لمحہ آیا تھا جب میاں صاحب نے خود ’’سر پکڑکر‘‘ مولانا کے فیصلے سے اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ مولانا 2018ء کے الیکشن کے وقت بھی اسمبلیوں سے استعفیٰ دیکر تحریک چکانے کی بات کرتے تھے۔ 2024ء میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ تحریک انصاف اور خود عمران کے اندر مولانا کے حوالے سے بڑی تبدیلی لے کر آیا اور اُنکے لیے ایک ’’نرم گوشہ‘‘ پیدا کیا۔ یہ ابتدا تھی دونوں جماعتوں کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی اور بات چیت شروع کرنے کی۔ بعد میں 26ویں آئینی ترمیم کے وقت دونوں جماعتیں اور قریب آئیں اور خود عمران خان نے اپنی جماعت کے رہنمائوں کو مولانا کی حمایت کا پیغام دیا۔ مولانا نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کی پیش کردہ ترامیم اور تجاویز کو حکومت کی ٹیم سے منوایا تاہم آخری وقت میں پی ٹی آئی نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم وہ مولانا کی کا وشوں سے خوش تھی۔

اڈیالہ جیل میں قید کاٹنے والے عمران خان کا اصل قصور کیا ہے ؟

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب خود پی ٹی آئی کے اندر کی ’’ٹوٹ پھوٹ‘‘ سے کسی حکومت مخالف اتحاد اور تحریک کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں جسکا کم ازکم وقتی فائدہ تو حکومت کو ہی ہو رہا ہے، رہ گئی بات ’’گیٹ نمبر 4‘‘ کی تو جس طرح اعظم سواتی صاحب اچانک متحرک ہوئے ہیں اور ’’گیٹ نمبر4‘‘ کے دروازے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں اُس نے تحریک یا اتحاد کو مزید تاخیر کا شکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف اُنکی کوششوں کو خود پی ٹی آئی کے رہنما انفرادی کاوش قرار دے رہے ہیں۔ نظر یہی آرہا ہے کہ پارٹی نے ’’دیکھو اور انتظار‘‘ کرو کی پالیسی اختیار کرلی ہے ایسے میں پارٹی کے جو لوگ زیر زمین سے منظر عام پر آئے تھے جیسا کہ مراد سعید وہ واپس پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اگر کچھ ملاقاتوں اور ریلیف کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اشارے واضح ہو سکتے ہیں۔ ’’گیٹ کھولنے‘‘ کے بیک ڈور پیغامات تو چلتے رہتے ہیں۔ اس کا انتظار خود قیدی نمبر 804 کو بھی ہے اور مولانا فضل الرحمان کو بھی۔ موجودہ صورت حال میں تاحال عمران، شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد وغیرہ کو کوئی ریلیف ملنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ خود حکومت اور فوج کیلئے اہم سوال یہ ضرور ہے کہ آخر کب تک پاکستان کی سیاست عمران اور اینٹی عمران کے گرد گھومتی رہے گی؟ شائد مولانا کو بھی اِسی سوال کے جواب کا انتظار ہے۔ مولانا اپنے والد مولانا مفتی محمود کی طرح پاکستان کی سیاست کا اہم ترین کردار ہیں۔ مولانا کئی سیاسی اتحادوں کے سربرا ہ رہے ہیں چاہے وہ متحدہ مجلس عمل ہو یا پی ڈی ایم اور اب اگر کوئی حکومت مخالف اتحاد بنتا ہے تو زیادہ امکان مولانا کی سربراہی میں ہی بننے کا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں کیا ایسا کوئی اتحاد بن پائے گا کیونکہ اس وقت کسی بھی حکومت مخالف تحریک کے چلنے کا مطلب محض حکومت مخالف نہیں بلکہ فوج مخالف بھی سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی عمران خا  اور انکی تحریک انصاف ابھی تک 9 مئی اور 26 نومبر کے جھٹکوں سے ہی باہر نہیں آ پائی۔

Back to top button