دوسروں کا سخت ناقد کپتان خود پر تنقید کیوں نہیں سنتا؟

موجودہ وزیر اعظم اور کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے اپنی 25 برس کی سیاسی زندگی میں دوسروں کے لیے تو بہت سخت اخلاقی معیار مقرر کیے ہوئے ہیں لیکن اپنی سیاست اور اپنی پارٹی میں وہ وہی کرتے ہیں جو کوئی بھی موقع پرست سیاستدان کرتا ہے، اپنے سیاسی مخالفین پر زہریلی تنقید کرنے والے خان صاحب خود پر تنقید بالکل برداشت نہیں کرتے حتیٰ کے خود سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو پارٹی سے بے دخل کرنے میں دیر بھی نہیں لگاتے۔ عمران خان کے کرکٹ دور کے دیرینہ ساتھی جاوید میاںداد کا کہنا ہے کہ عمران اکثر اوقات سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے اپنے دوستوں بارے غلط فہمی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور بعض باتوں کو تو بڑی طرح سے دل پر لے لیتے ہیں۔
25 نومبر 1952 کو لاہور میں پیدا ہونے والے عمران خان میانوالی کے پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے ہیں، بطور کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ٹیم میں اپنی مرضی کے کھلاڑیوں کی شمولیت کے لیے کرکٹ بورڈ سے لڑ بھر جاتے تھے اور اس وقت تک ٹیم کی تشکیل پر متفق نہیں ہوتے تھے جب تک ان کی پسند کے کھلاڑی اس میں شامل نہ کیے جائیں اور انکے ناپسندیدہ پپئیرز نکال نہ دیے جائیں۔ جب عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت بنائی تو شروع میں ان کی پارٹی میں دانشور، صحافی، سماجی کارکن اور معاشرے کے دیگر طبقوں کی نمائندگی موجود تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ عمران خان کی اپنے پرانے ساتھیوں سے دوریاں بڑھتی گئیں اور آج اسی لیے ان کی حکمران پارٹی میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، جو پہلے روز سے ان کے ساتھ تھے۔ عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ٹیم میں بھی کئی تبدیلیاں کر چکے ہیں، جن کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ جو کارکردگی نہیں دکھائے گا اس کی ان کی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔
ماضی میں عمران خان کے قریب رہنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران خان ذاتی دوستوں کو کبھی بھی خود سے دور نہیں کرتے اور ان کی تنقید بھی برداشت کرتے ہیں لیکن سیاست اور پارٹی میں وہ وہی کرتے ہیں جو ان کے ہم عصر سیاستدان کرتے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ وہ عمران خان کے بہت سے ایسے قریبی دوستوں کو جانتے ہیں جو کئی سال سے ان کے ساتھ ہیں اور وہ ان پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن عمران انکو سنتے ہیں۔ تاہم وہ پارٹی کے اندر خود پر تنقید برداشت نہیں کرتے۔ حامد میر کے مطابق سیاست میں عمران خان وہی کر رہے ہیں جیسا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کر رہے ہیں۔ وہ ان سے مختلف نہیں ہیں۔
حامد میر کے مطابق 2013 اور 2018 کے انتخابات میں جہانگیر ترین بہت زیادہ ایکٹو تھے لیکن اب وہ کہیں نہیں ہیں بلکہ ایف آئی اے کی انکوائریاں بھگت رہے ہیں۔ اسی طرح اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان ملک ریاض کے سخت خلاف تھے، لیکن اب ان کے قریب ہو گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کو انہوں نے خود مقرر کیا تھا لیکن فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی میں تیزی آنے کے بعد اب ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔ ماضی میں خان صاحب ایم کیو ایم کے سخت خلاف تھے، لیکن اب یہ جماعت انکی حکومتی اتحادی ہے۔ اسی طرح ماضی میں خان صاحب گجرات کے چوہدریوں کو پاکستان کے سب سے بڑے چور اور ڈاکو قرار دیتے تھے لیکن اب وہ بھی انکے اتحادی ہیں۔
حامد میر کے مطابق سیاست کا عمران خان اور ذاتی زندگی کا عمران خان دوستوں کے حوالے سے مختلف ہے۔ عمران خان کی 25 سالہ سیاسی جدوجہد میں ان کے ساتھ کئی لوگ آئے اور ان کے ہمرکاب رہنے کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں چھوڑ گئے۔ ان میں بہت سے نمایاں لوگ بھی شامل ہیں جیسے کہ جسٹس وجہیہ الدین، جاوید ہاشمی، حامد خان، اکبر ایس بابر، نسیم زہرہ، انعام اللہ نیازی، فوزیہ قصوری، ایاز صادق، آئی بی کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک اور سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی۔ انکے علاوہ جہانگیر ترین بھی اب ان سے دور ہو چکے ہیں۔ حامد میر کا خیال ہے کہ عمران خان سیاست میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو دوسری جماعتوں کے قائدین کرتے ہیں اور سیاسی ضرورت کے تحت ساتھی بھی بدل لیتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ عادت اسلیے زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے بہت زیادہ اخلاقی معیار مقرر کیے ہوئے ہیں اور ہمیشہ ان کا پرچار کرتے ہیں۔ خان صاحب جب اعلیٰ اخلاقی معیار کی بات کرتے ہیں تو پھر لوگ انکی موقع پرستانہ سیاست کو دیکھتے ہیں اور اس بات کو دوسری جماعتوں کے برعکس زیادہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت اپنے ساتھی بھی بدل لیتے ہیں۔
عمران خان کے دیرینہ ساتھی اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ عمران کی پوزیشن کی وجہ سے، ان پر لوگوں کا دباؤ آتا ہے، جس کے بعد انہیں کارکردگی دکھانے کےلیے اپنی ٹیم میں تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دباؤ کی وجہ سے عمران بعض اوقات غلط فہمی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور بعض باتوں کو دل پر بھی لے لیتے ہیں۔ انہوں کہا کہ جیسا کہ پچھلے دنوں میں نے اپنی طرف سے ان کی حمایت میں کوئی بات کی تو انہوں نے اس کا غلط مطلب لے لیا۔ لیکن ہم آج بھی دوست ہیں اور اگر عمران خان مجھے بلائیں گے تو میں انکے کہنے پر پاکستان کےلیے کوئی بھی کام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
تاہم سینیئر صحافی ضیا الدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی شخصیت میں یہ بات ہے کہ وہ اپنے سامنے کسی دوسرے کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق جہانگیر ترین نے ان کی بہت سیاسی مدد کی۔ تحریک انصاف کو کھڑا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہیں الیکٹیبلز لا کر دیے لیکن انہوں نے انکو بھی وہ اہمیت نہیں دی جو کہ ملنا چاہیئے تھی۔ اسی طرح اپنے کزن انعام اللہ نیازی کے ساتھ بھی عمران نے جو سلوک کیا، وہ آپ کے سامنے ہے۔