تحریک انصاف کی قیادت عمران کی رہائی کیوں نہیں چاہتی؟

پاکستانی سیاست ایک بار پھر اس سوال کے گرد گھوم رہی ہے کہ کیا عمران خان کی جماعت واقعی ان کی رہائی کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔ بظاہر احتجاج اور دھرنے جاری ہیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جیل سے باہر بیٹھی قیادت کے فیصلوں نے عمران خان کی قید کو مختصر کرنے کے بجائے مزید طویل کر دیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر اور عمران خان کے قریبی ساتھی رہنے والے فواد چوہدری نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اب تحریک انصاف سے بچانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب بھی عمران خان کی رہائی کی کوئی صورت بنتی نظر آتی ہے، پارٹی کی بے بصیرتی اسے ضائع کر دیتی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی اپنے قائد کی رہائی چاہتی بھی ہے یا نہیں؟
سیاسی مبصرین کے مطابق سیاست بند گلی کا نام نہیں بلکہ امکانات کا کھیل ہے۔ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو دوسرا نکل آتا ہے، مگر اس کے لیے تدبر اور سیاسی فہم درکار ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے سیاسی حکمت عملی کو پسِ پشت ڈال کر اشتعال انگیزی کو اپنا بیانیہ بنا لیا ہے، جس کا براہِ راست نقصان عمران خان کو ہو رہا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی میں موجود معقول اور سنجیدہ آوازوں کو یا تو خاموش کرا دیا گیا یا انہیں غدار قرار دے کر دیوار سے لگا دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی بیانیہ سازی سیاسی قیادت کے پاس ہونے کے بجائے اس سوشل میڈیا بریگیڈ کے غیر ذمہ دار عناصر کے سپرد ہو گئی ہے جو کہ ریاست مخالف اشتعال انگیز بیانیہ چلا کر اپنے اپنے یوٹیوب چینلز سے ڈالرز کما رہے ہیں۔ یہ لوگ نفرت اور مبالغہ آرائی کو پذیرائی دیتے ہیں جبکہ مفاہمت اور تدبر کو کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں لہذا باہر بھی تاثر ملتا ہے کہ یہ پالیسی عمران خان کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے اس بحرانی کیفیت کو ایک مستقل صنعت میں بدل دیا ہے۔ بحران جتنا گہرا ہو، ویوز اور آمدن اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر بحران ختم ہو جائے اور مفاہمت کی فضا بن جائے تو اس بحران اکانومی کا کیا ہوگا؟ یہی مفاداتی تضاد عمران خان کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ کپتان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی شہباز گل جیسے یوٹیوبرز کے ساتھ ہیں چونکہ اگر عمران خان رہا ہو جائیں تو علیمہ کی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔
گزشتہ سال نومبر 2024 میں ایک موقع ایسا آیا جب عمران خان کی رہائی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے۔ امریکا میں صدارتی انتخاب کے بعد عالمی دباؤ کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق پسِ پردہ معاملات کو طے کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں، مگر 26 نومبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی یلغار نے ماحول کو یکسر بدل دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر معاملات افہام و تفہیم سے طے ہوتے تو شاید پیش رفت ممکن تھی، مگر محاذ آرائی نے دروازے بند کر دیے۔ 26 نومبر کو ہونے والے ریاستی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تحریک انصاف کی رہی سہی سٹریٹ پاور بھی ختم ہو گئی اور اب اس کی احتجاج کی کال پر درجن بھر لوگ بھی باہر نہیں نکلتے۔
عمران خان کی رہائی کا ایک اور موقع حال ہی میں بنا جب ان کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک مرحلے پر ان کی ہسپتال منتقلی اور ضمانت پر رہائی کی بازگشت سنائی دینے لگی تھی۔ بعض پارٹی رہنماؤں نے تو کپتان کی رہائی کی خوشخبری بھی دینا شروع کر دی تھی، لیکن اسی دوران علمیہ خان کی غیر سیاسی ہینڈلنگ اور تحریک انصاف کی جانب سے قومی شاہراہوں اور موٹرویز کی بندش نے فیصلہ سازوں کو دوبارہ سخت موقف اپنانے پر مجبور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تو عمران خان سے ملاقاتیں بحال ہو سکیں اور نہ ہی کوئی واضح پیش رفت سامنے آئی۔
دوسری جانب پارٹی قیادت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت پارٹی کی اولین ترجیح ہے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے جہاں ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ موجود ہوں۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور اب خود ان کے وکلا نے تصدیق کر دی ہے کہ ان کی انکھوں کی کنڈیشن کافی بہتر ہو گئی لہذا انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ پارٹی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور احتجاج کا مقصد عمران خان کی صحت کے مسئلے کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ ان کے بقول یہ تحریک وقتی نہیں بلکہ اصولی ہے، اور اسے جاری رکھا جائے گا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حالیہ احتجاج نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ ایک موقع ایسا ضرور تھا جب ملاقات یا مذاکرات کا راستہ کھل رہا تھا، جو بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں امکانات ختم نہیں ہوتے اور عدالتی راستہ اب بھی موجود ہے۔ ادھر حکومتی حلقوں کا مؤقف اس سے یکسر مختلف ہے۔ افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ حکومت مفاہمت کے لیے تیار تھی مگر پی ٹی آئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق جب کسی جماعت کا ایجنڈا صرف ایک شخصیت کی رہائی تک محدود ہو جائے تو وسیع تر قومی سیاست متاثر ہوتی ہے۔ ان تمام بیانات اور واقعات کے تناظر میں اصل سوال بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا تحریک انصاف کی جیل سے باہر بیٹھی قیادت واقعی عمران خان کی رہائی چاہتی ہے، یا پھر محاذ آرائی کی سیاست کو جاری رکھنا اس کے سیاسی مفادات سے زیادہ ہم آہنگ ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بھی مذاکرات کا امکان پیدا ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی ایسا بیان یا اقدام سامنے آ جاتا ہے جو فضا کو مکدر کر دیتا ہے اور انگلیاں بالخصوص عمران کی ہمشیرہ علیمہ کی حکمت عملی کی طرف اٹھتی ہیں۔
ناراض گنڈاپوراچانکptiکےاحتجاج میں کیوں شامل ہوگئے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی واقعی اپنے قائد کی رہائی چاہتی ہے تو اسے اشتعال انگیزی کے بیانیے سے نکل کر سنجیدہ سیاسی حکمت عملی اپنانا ہوگی، سوشل میڈیا کے دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔ بصورتِ دیگر، احتجاج جوش تو پیدا کر سکتا ہے، مگر جیل کے دروازے صرف سیاسی کنجی سے ہی کھل سکتے ہیں۔
