ریاست مشرقی پاکستان کے سانحے کی غلطی کیوں تسلیم نہیں کرتی؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں، تاریخ آخر کار ان سے انتقام لیتی ہے اور انہیں تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں انکا کہنا ہے کہ قوموں سے غلطیاں ہو جانا اور ریاستوں کی زندگی میں سانحات ایک فطری عمل ہے، تاہم قوموں کے مستقبل کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ ان حادثات سے کیا سبق سیکھتی ہیں۔

 

حماد غزنوی کے مطابق وہ قومیں سنبھل جاتی ہیں جو ماضی کے سانحات کے بعد حفاظتی بند باندھتی ہیں تاکہ وہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ انہوں نے جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے دور میں جرمنی نسلی برتری کے جنون کا شکار ہوا اور یہودیوں کے قتلِ عام جیسے انسانیت سوز جرائم سرزد ہوئے۔ نئے جرمنی نے اس اجتماعی جرم کو تسلیم کیا اور اپنے تمام اداروں کی بنیاد نسلی برابری پر رکھی۔ آج بھی جرمنی نیورمبرگ قوانین کا دن یاد رکھتا ہے، جب جرم کو قانون کا حصہ بنایا گیا تھا، اور یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ یہ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ غلطی تھی۔ یہ شعور سکولوں کے نصاب کے ذریعے نئی نسل تک منتقل کیا جاتا ہے۔

 

اس کے برعکس پاکستان میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سانحے، یعنی سقوطِ مشرقی پاکستان، سے سیکھے گئے اسباق کا اندازہ آج بھی نصابی کتب سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیادی وجہ اب تک ہنود کی سازش کو قرار دیا جاتا ہے۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہماری نصابی کتب تاریخ کو مسخ کر رہی ہیں لیکن تاریخ مسخ کرنے والوں کو تاریخ بالآخر اپنی کند چھری سے ذبح کر دیا کرتی ہے۔

 

حماد غزنوی نے یاد دلایا کہ ماضی میں بطور معاشرہ سقوطِ ڈھاکا کو باقاعدگی سے یاد کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں سیمینار منعقد ہوتے، اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے اور یہ سوال اٹھائے جاتے تھے کہ مشرقی پاکستان کیوں علیحدہ ہوا، ہم سے کیا کوتاہیاں ہوئیں اور ہمیں اس سانحے سے کیا سبق سیکھنا چاہیے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کا ذکر بھی ہوتا تھا اور اسے منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا جاتا تھا، تاہم یہ رپورٹ کبھی مکمل طور پر شائع نہ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور کا المناک سانحہ پیش آیا، جس میں دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ کو شہید کر دیا۔ اس دن کو ریاستی سطح پر منانے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف عزم کی تجدید بتایا گیا، تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سال کئی سکولوں میں 16 دسمبر کی چھٹی تک نہیں دی گئی۔

 

حماد نے اے پی ایس شہداء فورم کے صدر کے حالیہ مطالبے کا حوالہ بھی دیا، جنہوں نے کہا ہے کہ سانحے پر بننے والی خصوصی جوڈیشل کمیشن رپورٹ 11 سال سے چھپائی جا رہی ہے جسے کم از کم اسے شہید بچوں کے والدین کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔ حماد غزنوی کے مطابق سقوطِ مشرقی پاکستان سے سیکھے جانے والے اسباق نہایت واضح تھے۔ وفاق میں شامل تمام اکائیوں کو سیاسی، معاشی اور معاشرتی برابری کا احساس ہونا چاہیے، علاقائی وسائل پر پہلا حق اسی علاقے کا ہونا چاہیے اور شفاف انتخابات کے نتائج کو من و عن تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلسل ناانصافیوں کے باعث کسی قوم کی امید ختم ہو جائے تو پرامن جدوجہد کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے، اور یہی بنگال میں ہوا۔

 

حماد کے مطابق بدقسمتی سے ریاست نے ان اسباق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شفاف انتخابات ملک توڑ دیتے ہیں، لہٰذا اس عمل سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ آئین، پارلیمان، انصاف اور آزادی اظہار سے متعلق جو اسباق سیکھے گئے، ان کے نتائج گزشتہ 55 برسوں سے سب کے سامنے ہیں۔ اے پی ایس سانحے کے حوالے سے حماد غزنوی نے کہا کہ اس واقعے سے بھی واضح اسباق حاصل کیے جانے چاہیے تھے۔ ان کے مطابق جب ریاستیں دوسروں کی جنگوں میں حصہ لیتی ہیں تو ان کی آگ اپنے گھر کو بھی جلا دیتی ہے۔ جنگجو گروہ تیار کیے جائیں تو جنگ ان کا پیشہ بن جاتی ہے، اور جنگ ختم ہونے پر وہ اپنے ہی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی تشکیل کے بعد پاکستان میں بھی یہی ہوا، اور بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود ایسے عناصر کو عمران خان کے دور حکومت میں دوبارہ واپس  لا کر آباد کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

 

حماد غزنوی نے سوال اٹھایا کہ کیا اے پی ایس کے سانحے کے بعد ہماری پارلیمینٹ نے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا اس پر عمل ہوا اور کیا دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اسباب جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے تھے، آج کے پاکستان سے ختم ہو چکے ہیں؟ ان کے بقول ان سوالوں کے جواب پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

 

Back to top button