ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیں گے؟

عمران خان کے چاہنے والوں نے اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے جس انکل سام سے امیدیں لگا رکھی ہیں اس نے ماضی میں بھی ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے اور مستقبل میں بھی طاقتور کا ساتھ دے گا کیونکہ اس نے کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ ویسے بھی انکل سام کو فوج اور ایک سیاستدان کی آپسی لڑائی میں کسی ایک کا ساتھ دینا ہو تو وہ سو فیصد وردی والوں کا ساتھ دے گا۔

معروف اینکرپرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ طاقتور اور مظلوم کی لڑائی میں بڑی طاقتیں انصاف کے ساتھ کھڑی ہونے کی بجائے ہمیشہ طاقت کا ساتھ دیتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین بی بی کی وطن واپسی کے لیے معاہدہ امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نے مل کر کروایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت وطن واپسی پر بی بی کی زندگی کی ضمانت دیتے ہوئے ان تین طاقتور ترین ممالک نے انہیں فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، مگر بے نظیر بھٹو کے پاکستان پہنچتے ہی ان پر اوپر تلے دو خود کش حملے ہو گئے۔ امریکہ، برطانیہ اور یو اے ای کے کرتا دھرتا اپنے سب وعدے بھول کر جنرل مشرف کے ساتھ مل گئے اور بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کی ایک سڑک پر مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ ایسے میں عمران خان کے ساتھیوں کو بھی اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امید لگانے کی غلطی نہیں کرنے چاہیئے۔

عمران خان کو چیتے سے تشبیہہ دیتے ہوئے اپنی استعاراتی تحریر میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی یہ دنیا بڑی نرالی ہے، ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ اس میں عجیب وغریب جنگل وجود میں آ گیا۔ ہر جنگل کی طرح یہاں زیادہ تر شیر کی حکمرانی رہی، مگر پھر چیتے نے کچھ ایسی سازباز کی کہ سب کچھ الٹ پلٹ گیا ،کیا جنگل کے محافظ اور کیا جنگل کی بھیڑ بکریاں، سبھی چیتے کے گن گانے لگے، چیتے کے پاس کچھ ایسا جادو تھا کہ اس نے سب کو مسحور کر دیا تھا۔ شیر ادھر ادھر کہتا پھرتا تھا کہ یہ سارا کمال ایک چیتی کا ہے، چیتا جنگل کے خاص وعام کا ہیرو بن چکا تھا، دوسری جانب شیر قید میں جا چکا تھا اور اسکے ساتھی بکھر گئے تھے۔

قید میں پڑے شیر کا چھوٹا بھائی البتہ ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک دوڑا پھرتا تھا کہ کسی طرح بھائی جان کو جال سے باہر نکال پائے۔ ایسے میں کرنا خدا کا یہ ہوا کہ چیتے کی ایک سرخ آنکھوں والے باز سے کھٹ پٹ ہو گئی۔ باز دراصل چیتے کو اسکی گھر والی کی دو نمبریوں بارے کچھ بتانے گیا تھا، لیکن چیتا باز سے ناراض ہو گیا اور اسے اپنی نگہبانی کی ذمہ داری سے ہٹا دیا حالانکہ وہ اپنے چیتے باس کا  خیر خواہ تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اس پر کوئی الزام لگے۔ مگر اس واقعے نے اسے حکمران چیتے سے برگشتہ کر دیا۔

سہیل وڑائچ کے بقول دراصل چیتا سمجھ نہیں پایا کہ وہ ایک عام باز سے نہیں بلکہ ایک خاص باز سے پنگا ڈال رہا تھا جو ارادہ کر لے تو ہھر اسے نبھا کر چھوڑتا ہے۔ چیتے سے یہ ایک ایسی فاش غلطی ہوئی کہ اس کا زوال شروع ہو گیا۔ چیتے کے ارد گرد دیواریں چنی جانے لگیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ چیتا نہ صرف حکمرانی سے فارغ ہوا بلکہ گرفتار ہونے کے بعد باز کے رحم وکرم پر قید کی زندگی گزار رہا یے۔ لیکن شیر اور چیتے کی جنگ اتنی لمبی ہو چکی یے کہ نہ تو شیر کا کچھ بچا اور نہ ہی چیتے کی جان چھوٹ رہی ہے۔ چیتے کا خیال تھا کہ باز تو بس ہوائوں میں اڑتے ہیں لہازا میں شیر کو مار لونگا تو اکیلا جنگل کا حکمران بن جائوں گا، مگر اب باز چیتے پر مکمل حاوی ہو چکا ہے۔ بہت سی بھیڑ بکریاں اب یہ توقع لگائے بیٹھی ہیں کہ شیر اور چیتے کے ہمراہیوں کے مذاکرات سے کچھ نکل آئے گا اور چیتے کی بچت ہو جائے گی۔ لیک۔ سچ یہ ہے کہ اب بازی تو مکمل باز کے ہاتھوں میں ہے۔ شیر اور چیتے تو اب برائے نام جنگل کے حکمران ہیں، دیوہیکل باز جب چاہیں شیر اور چیتے کو سامنے لے آتے ہیں اور جب چاہیں باز خود جنگل میں اتر کر جنگل کا نظام چلانا شروع کر دیتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ قید میں بند چیتا پہلے سمجھتا تھا کہ وہ جنگل میں اتنا مقبول ہے کہ اسے کوئی قید میں نہیں رکھ سکتا، مگر آپسی لڑائی چیتا بھال گیا کہ اس نے تو اپنی ساری طاقت خود باز کے حوالے کر دی تھی۔ لہازا اب باز سے طاقت واپس لینا ممکن نظر نہیں آتا۔ باز کے پر اتنے پھیل چکے ہیں کہ انہیں کاٹنا بھی ناممکن ہو چکا ہے، چیتے نے عوامی جذبات کے ذریعے بھیڑ بکریوں کو کئی بار کالز دیں، مگر نظام کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ پھر مذاکرات کی میز سجائی گئی مگر پھولوں کی سیج سجانے کے باوجود پھولوں کی خوشبو نہ آئی بلکہ کانٹوں کی چبھن ہی محسوس ہوتی رہی۔ مذاکرات کیا ہیں ایک دوسرے کو پھندا ڈالنے کا بہانہ ہیں، جنگل کی سرکار چیتے کو قید سے نکالنے کو تیار تو ہے مگر چیتے کا منہ بند رکھنے کی شرط پر۔ گویا ایک نیا این آر او متعارف کروایا جائے گا جس سے چیتے کےماضی کا سارا این آر او مخالف بیانیہ صفر ہو جائے گا۔ دوسری طرف چیتے والے ایسے غیر حقیقی مطالبے کر رہے ہیں کہ جن ہر عمل کرنے سے باز کا تیار کردہ نظام ہی گر پڑے۔

کیا ٹی ٹی پی پنجاب میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟

سہیل وڑائچ کے مطابق دونوں فریقوں کی نیتیں ٹھیک نہیں اس لئے مذاکرات کامیاب ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ باز اب بھی طاقتور ہے، شیر اقتدار میں شریک تھا مگر اس کے شہبازی بھائی کے چاروں پائوں اور ٹانگیں باندھ دی گئیں۔ ہر فیصلہ باز سے پوچھ کر ہی کیا جاتا ہے۔ ایسے میں چیتے کے ساتھیوں نے سوچا کہ دنیا کے سب سے بڑے جنگل کے نئے حاکم سے امداد طلب کی جائے۔ لہٰذ اسکی انتخابی مہم میں اسے چندہ دیکر خوش کیا گیا۔  اب یہ سوچا جا رہا ہے کہ جب دنیا کے سب سے بڑے حاکم کی جانب سے باز کو پیغام بھیجا جائے گا تو وہ خوفزدہ ہو کر چیتے کو قید سے نکال دے گا۔ لیکن چیتے کو علم نہیں کہ حالات اسکی امیدوں کے برخلاف کروٹ لینے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہر طاقتور کی طرح سب سے بڑے جنگل کا حکمران بھی طاقت ور کے ساتھ ہی کھڑا ہوگا بجائے کہ کسی قیدی کے۔ ایسی خبر بھی سننے میں آ رہی ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کا سب سے بڑا محسن بھی سب سے بڑے جنگل کے حاکم کی تاج پوشی کی تقریب میں شریک ہونے جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو چیتے کی رہائی کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی۔

Back to top button