عمران کے حامی جان دینے والے جوانوں کو ہیرو کیوں نہیں مانتے؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ یہ بات بتاتے ہوئے ہماری زبان تھک چکی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ سچ بتاتے ہوئے ہم ہلکان ہو گئے ہیں کہ 80 ہزار فوجی جوان، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے عہدیدار، ڈاکٹرز، نرسیں اور عام شہری دہشتگرد حملوں میں جان سے گذر چکے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ہم نے اتنی عزت نہیں دی جتنی آسٹریلیا میں احمد نامی اس شامی النسل غریب پھل فروش کو ملی ہے جس نے ایک دہشت گرد پر قابو پا کر درجنوں جانیں بچائیں۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ دہشت گرد کو قابو کرنے کے دوران تین گولیاں کھانے والے احمد نے کسی سے مالی مدد کی اپیل نہیں کی تھی، لیکن پوری آسڑیلوی قوم نے دلیری کے اس کارنامے پر اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی اور اس غریب دکاندار کو 42 کروڑ روپے اکٹھا کر کے دے دیے، لیکن اس کے باوجود دنیا بھر سے احمد کے لیے تشکر کا سلسلہ تھم ہی نہیں رہا اور اس کے یہ اب بھی پیسے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلوی قوم نے رہی سہی کسر تب پوری کر دی جب حال ہی میں میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے میچ سے پہلے پورے سٹیڈیم نے احمد کو مہمان خصوصی بنایا اور کھڑے ہو کر اس کے لیے تالیاں بجائیں۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ آسٹریلیا والوں نے بتا دیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور اس مقابلے میں فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی عزت کیسے کرنی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی، علاقائی، لسانی، کاروباری اور ذاتی مفادات نے ہمیں ایک سازش کے تحت دہشتگردی کے معاملے میں ابہام، تذبذب اور شکوک کا شکار کیا۔ کوئی کہتا ہے ان دہشتگردوں سے لڑو نہیں، انہیں اپنے گھر میں بساؤ۔ کوئی جواز پیش کرتا ہے کہ انکا خاتمہ نہ کرو، بلکہ ان سے مذاکرات کرو۔ کوئی دلیل دیتا ہےکہ یہ افغانستان سے آتے ہیں اس لیے انہیں قتل و خون کی آزادی دے دو۔ کوئی مذہب کی آڑ لے کر کہتا ہے کہ یہ دہشتگرد بھی مسلمان ہیں، ان کے خلاف لڑنا درست نہیں۔ کوئی اشتعال دلاتا ہے کہ ہے چونکہ اس ملک میں مارشل لا لگتے رہے اس لیے شہداء کی تحسین کی ضرورت نہیں۔

 

عمار مسعود کے بقول کوئی زہر اگلتا ہے کہ چونکہ عمران خان فوج کے خلاف ہے اس لیے ان شہداء کی حرمت کی ضرورت نہیں۔ کوئی توجیح پیش کرتا ہے کہ 9 مئی 2023 کو شہداء کی یادگاریں جلانے والے حق بجانب تھے کیونکہ ان کے قائد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کوئی ان دلیروں کی قربانیوں پر طنز کرتا ہے، کوئی ’جینریشن زی‘ سے ان کے خلاف آرٹیکل لکھواتا ہے۔ کوئی نوجوان نسل کے ذہنوں میں ان شہیدوں کے خلاف زہر بھرتا ہے۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہر روز خبر آتی ہے کہ آج سیکیورٹی فورسز کے اتنے جوان دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ان میں سے کسی ایک شہید کی بھی ہم نے بحیثیتِ قوم اتنی عزت کی ہوتی جتنی احمد نامی پھل فروش کی آسٹریلیا میں ہوئی ہے تو یقین مانئے اس ملک سے دہشتگردی ختم ہو چکی ہوتی۔

یاد رکھیے جب کوئی شیر دل جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان اس ارضِ پاک پر نچھاور کرتا ہے تو یہ وقت تاریخ کے طعنے دینے کا نہیں ہوتا، یہ لمحہ سیاسی اختلاف چکانے کا نہیں ہوتا، یہ وقت مصلحتوں کا شکار ہونے کا نہیں ہوتا۔ یہ مقام صرف اور صرف تشکر، توقیر، تسلیم، تعظیم اور تحسین کا ہوتا ہے۔

 

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں، پوری قوم لڑتی ہے۔ جب قوم کے ذہن سے ابہام ختم ہو جائے گا، جب شکوک پیدا کرنے والوں کو یقین دلا دیا جائے گا، جب دہشت گردوں کے حق میں بیانیے بنانے والے پس منظر میں چلے جائیں گے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتحِ مبین مقدر بنے گی۔

Back to top button