طاقتور فیصلہ ساز عمران خان کو رہا کرنے کا رسک کیوں نہیں لیتے؟

 

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف والے عمران خان کی آنکھ کی آڑ میں جتنی بھی سیاست کر لیں، طاقت ور فیصلہ سازوں کے لیے انہیں رہا کرنا اس لیے ممکن نہیں کہ وہ باہر نکلتے ہی حکمرانوں کو تختے پر چڑھانے اور خود تخت حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے ملک کی موجودہ سیاسی فضا کو استعاراتی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کل سیاست میں ’قیدی اور قیدو، اسیر اور آسر، صَید اور صیّاد‘ کا چرچا ہے۔ ان کے مطابق سویلین اور ملٹری فیصلہ سازوں کی حکومت کو ’صیّاد‘ اور ’قیدو‘ قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ عمران خان کو بطور ’قیدی نمبر 804‘ پیش کیا جا رہا ہے  اور تحریک انصاف خود کو اس ’صَید‘ کی ترجمان قرار دیتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نہ تو کسی باقاعدہ ’ڈیل‘ کے آثار ہیں اور نہ ہی کسی ’ڈھیل‘ کے۔ ان کے بقول اس وقت دونوں اطراف اپنی اپنی سیاسی تدبیر پر کاربند ہیں۔ ایک طرف فیصلہ ساز قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ عمران خان آنکھ کی بیماری کے معاملے کو سیاسی ہمدردی یا دباؤ کے لیے استعمال کریں، جبکہ دوسری جانب ان کے اہل خانہ اور حامی حلقے اس معاملے کو حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ حکمرانوں پر ریلیف دینے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات آہ و زاری بھی ایک سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے جس کا مقصد حالات کو اپنے حق میں موڑنا ہوتا ہے۔

 

انہوں نے وراثتی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان اور نواز شریف کے خاندان میں سیاسی وراثت کا تسلسل نظر آتا ہے، ویسے ہی عمران خان کا خاندان بھی سیاسی تسلسل کی امید کیوں نہ رکھے۔ ان کے مطابق سیاست ہو یا جائیداد، وراثت چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔سہیل وڑائچ کے مطابق کسی بھی ’ڈیل‘ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق کچھ حاصل بھی کریں اور کچھ کھوئیں بھی۔ وہ ڈیل جس میں ایک فریق مکمل فاتح اور دوسرا مکمل مفتوح ہو، دیرپا نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان ہونے والی مصالحت میں بالا دستی عموماً طاقتور کے پاس ہوتی ہے اور کمزور کو زیادہ دینا اور کم لینا پڑتا ہے۔

انہوں نے مفروضہ پیش کیا کہ اگر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کسی سمجھوتے کی بات ہوتی ہے تو برسر اقتدار فریق کو بالا دستی حاصل ہوگی کیونکہ ڈیل اس کی مجبوری نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ضرورت زیادہ ہے۔ ان کے بقول ابتدا سے یہ تجویز زیر گردش رہی ہے کہ اگر عمران خان موجودہ نظام کو تسلیم کر کے خاموشی اختیار کریں تو انہیں بنی گالہ منتقل کرنے جیسے ریلیف پر غور ہو سکتا ہے۔

 

سینئر صحافی کے مطابق بعض مذاکراتی کوششیں بھی ہوئیں جن میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور امریکی تاجروں کے ایک وفد کا کردار زیر بحث آیا، تاہم یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے قریبی حلقوں کی خواہش ہے کہ وہ جیل سے باہر آتے ہی فیصلہ ساز قوتوں کو چیلنج کریں اور اقتدار سنبھالیں، نہ کہ کسی مفاہمتی راستے پر چلیں۔ سہیل وڑائچ نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا بیانیہ عمران کی مقبولیت پر مبنی ہے، جبکہ پاکستان جیسی سکیورٹی سٹیٹ میں اصل عنصر ’قبولیت‘ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جب بھی ریاست کے ساتھ کپتان کی مفاہمت کا شائبہ پیدا ہوتا ہے تو تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ اسے انقلاب کی کامیابی قرار دے کر انقلاب کے بعد احتساب کی باتیں بھی کرتے ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق یوٹیوب پر موجود خان کے پرجوش حامیوں کے لیے کپتان کا جیل میں رہنا سیاسی طور پر زیادہ سودمند ہے کیونکہ اس سے پی ٹی آئی کا ہمدردی کا بیانیہ مضبوط رہتا ہے، جبکہ عمران کی رہائی کی صورت میں عملی سیاست کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ طرزِ فکر عمران کے ذاتی مفاد کے برعکس ہو سکتا ہے۔ سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ ذاتی طور پر وہ ’صیّاد‘ کے ساتھ نہیں بلکہ ’قیدی‘ کے ہمدرد ہیں، تاہم سیاسی حقیقت یہ ہے کہ قیدی نمبر 804 کی رہائی ممکن نہیں کیونکہ اس سے صیاد کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ انکے مطابق موجودہ حالات میں دونوں اطراف سخت مؤقف پر قائم ہیں اور فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کے آثار نظر نہیں آتے۔

"رہائی فورس” کی تشکیل کے اعلان پر PTIتقسیم کا شکار

انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار کی جنگ ملک کے اندر موجود رہ کر سیاسی میدان میں لڑی جاتی ہے، بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا مہم چلانے سے فیصلہ کن نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ ان کے بقول بالآخر ہر سیاسی کشمکش کا انجام مذاکرات اور مصالحت پر ہی ہوتا ہے، اس لیے اگر یہ مرحلہ طے ہونا ہی ہے تو جلد ایسا ہو جانا ملک کے مفاد میں ہوگا۔

Back to top button