تحریک انصاف والے جھوٹے دعوے کرنے سے باز کیوں نہیں آتے؟

سیاسی مخالفین کو جھوٹے پراپیگنڈے سے بدنام کرنے والی پی ٹی آئی خلاف حقیقت دعوے کرنے پرسوشل میڈیا ناقدین کے نشانے پر آ گئی خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان شعبہ صحت میں انقلابی اقدامات کے جھوٹے دعوے کرنے پر تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یوتھیے رہنما کئی بار اپنے جھوٹ بے نقاب ہونے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے وہ وقت دور نہیں جب پی ٹی آئی رہنما خیبرپختونخوا میں اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کیلئے دعویٰ کر دیں گے کہ تاج محل اور باب خیبر بھی انھوں نے بنوایا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پشاور کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پاکستان تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا ہے۔ تاہم تاریخی حقائق اس دعوے کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال برصغیر کی تقسیم سے قبل قائم کیا گیا تھا، جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر 1990 کی دہائی میں مکمل ہوئی تھی۔ ان حقائق کے منظرِ عام پر آنے کے بعد شفیع جان کے دعووں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین خوب تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کی بے بنیاد دعووں کے ذریعے کارکنوں کو متاثر کرنے کی کوشش ایک بار پھر الٹی پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی قیادت کو سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کو خوب تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کئی صارفین تاریخی مقامات کی اے آئی جنریٹڈ تصاویر اپ لوڈ کررہے ہیں جن میں بانی پی ٹی آئی کو صدیوں پہلے قائم قدیم عمارات اور تعمیرات کا افتتاح کرتے دکھایاگیاہے۔محمد شہزادنامی فیس بک صارف نے خیبرپاس کی ایسی ہی ایک تصویر شیئر کی اور اس پرلکھا:تاریخ کے جھروکوں سے۔حوالہ : شفیع اللہ جان ( پی ایچ ڈی ان ہسٹری ) جبکہ افتتاح کی تاریخ اپریل 2019 درج کی گئی ہے۔
عظمت اکبر کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک فہرست شیئر کی گئی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کے دور میں تعمیر کیے گئے ہسپتالوں کے نام شامل ہیں۔ اس فہرست میں حیران کن اور طنزیہ طور پر حقیقی آزادی میڈیکل کمپلیکس ضلع صوابی، ایبسلوٹلی ناٹ کڈنی سینٹر ضلع نوشہرہ، ڈی چوک ہسپتال برائے امراضِ ذہن پشاور، رجیم چینج میڈیکل کمپلیکس ڈی آئی خان تبدیلی میموریل جنرل ہسپتال ضلع بنوں اور سازش فزیوتھراپی ہسپتال باجوڑ شامل تھے۔
یہ فہرست بعد ازاں کئی دیگر اکاؤنٹس کی وال پر بھی شیئر کی گئی۔ اعجاز احمد فکری نے ایسی ہی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید نام شامل کیے، جن میں یوٹرن جنرل ہسپتال چکدرہ، ششتم کا باپ انسدادِ منشیات سینٹر کالام اور شعور مینٹل ہسپتال ہری پور شامل تھے۔ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ پی ٹی آئی نے صرف یہ ہسپتال نہیں بنائے بلکہ قلعہ بالا حصار، یونیورسٹی آف پشاور، تاج محل بھی بھی تحریک انصاف نے ہی قائم کئے ہیں۔ اسی بحث کے دوران مہر شفقت نے پی ٹی آئی قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے دعویٰ کر ڈالا کہ خان صاحب پاکستان بننے سے پہلے بھی پاکستان میں ترقیاتی کام کروا رہے تھے، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید طنز کیا۔اسی سلسلے میں ایک اور ایکس صارف عفی نے پہاڑوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ کیپشن دیا کہ “یہ ہیں مردان کے خوبصورت پہاڑ جو حال ہی میں خیبر حکومت نے بنائے ہیں، پھر کہتے ہیں عمران خان نے کیا کیا ہے۔”
