عمران کے حامی انقلاب کے جھوٹے خواب دکھانے سے باز کیوں نہیں آتے؟

جھوٹ اور یوٹرن تحریک انصاف کے بیانیوں کا جزو لازم تصور کیا جاتا ہے۔ یوتھیے کئی دفعہ بے نقاب ہونے کے باوجود عمران خان بارے جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ پی ٹی آئی کے منہ پھٹ انقلابیوں کی دیکھا دیکھی میڈیا پر بھی اسوقت جھوٹ کی فیکٹریاں کھل چکی ہیں۔ جو سیاستدان اور اینکر جتنا بڑا جھوٹا ہے وہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اتنا ہی زیادہ مقبول ہوتا ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عمرانڈو اور کاٹھے انقلابیے آخر اتنا جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ کیا بیانیے کی جنگ نے پی ٹی آئی کو واقعی حقیقت سے دور کر دیا ہے
سینئر صحافی روف کلاسرا کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج نے بڑے بڑے ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاپولر جرنلزم کریں۔ وہ سچ اور جھوٹ کے چکر میں نہ پڑیں‘ بس وہ بات کریں جو لوگ سننا چاہتے ہیں اور سن کر انکی واہ واہ‘ اور بلے بلے کریں اور تالیاں بجائیں۔ ان کے شوز کو ریٹنگز ملیں‘ چاہے پورا ملک جل ہی کیوں نہ جائے۔ انہیں پرواہ نہیں۔ ایک نیا دن اور نئی تالیاں۔ بندے کو ہر روز داد اور واہ واہ کا چسکا پڑ جائے تو پھر وہ کہاں رکتا ہے۔انکا مزید کہنا ہے کہ انسان کے اندر کی نرگسیت اسے چین نہیں لینے دیتی کہ وہ دوسروں پر ثابت کرے کہ وہ کتنا مہان انسان ہے۔ وہ سب سے ٹکر لے سکتا ہے۔ وہ کتنے عظیم خیالات کا مالک ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ اپنی ذات اور شخصیت منوانے کے چکر میں لوگوں کی واہ واہ کا قیدی بن جاتا ہے‘ جس سے پھر وہ کبھی باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کی خوراک سوشل میڈیا پر ہر لمحے داد سمیٹنا ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے کہ آج وہ کون سی ایسی جھوٹی سچی بات کرے جس کے بعد ہر طرف سے داد کے ڈونگڑے برسائے جائیں۔ اب اس کا کھانا پینا سونا جاگنا سب کچھ سوشل میڈیا اور لوگوں کی اس کے بارے میں اچھی بری رائے کے مرہونِ منت ہے۔
رف کلاسرا کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں سوشل میڈیا ایسی جناتی طاقت بن کر اُبھرا ہے جس نے عام انسان کی آواز کو طاقت تو دی ہے‘ وہیں اس نے جھوٹ‘ فیک نیوز اور پروپیگنڈا کو بھی اگلے لیول تک پہنچا دیا ہے۔ مزے کی بات ہے عام انسان ایک دوسرے کو گھڑی گھڑائی‘ جعلی خبروں‘ فوٹو شاپ‘ جھوٹ سے ایک دوسرے کو الو بنا رہے ہیں۔ ایسی ایسی احمقانہ باتوں اور پوسٹس کے ہزاروں لائیکس اور شیئر ز ہورہے ہیں کہ بندہ حیران ہو جاتا ہے کہ ہمارا آئی کیو لیول یا کامن سینس کتنا ہے۔ چند ذہین اور چالاک لوگ ان سادہ لوح لوگوں کی سادگی یا لاعلمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر آج کے دور میں بھی ہمیں بیوقوف بنانا آسان ہے تو کچھ صدیاں پہلے اس خطے کی کیا حالت ہوگی اور کیسے کیسے لطیفے ہوتے ہوں گے۔
تاہم بعض دیگر چند دہائیاں پیشتر پاکستانی سیاست میں اس قدر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا اتنے جھوٹے بیانیے نہیں گھڑے جاتے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے وارد ہونے سے پاکستانی میں جھوٹ کی اجارہ داری بڑھ چکی ہے۔ تحریک انصاف کو جھوٹ کئ سلطنت کی بادشاہت حاصل ہے یوتھیے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی خوب ملکہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں جتنا جھوٹ تحریک انصاف بولتی ہے اسکا مقابلہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں کر سکتی۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مقبول بیانیہ کو تراش کر عوامی پذیرائی حاصل کی جا سکتی ہے یہی طرز سیاست تحریک انصاف نے بھی اپنارکھا ہے۔ یوتھیے رہنما عوام کی سوچ و خیال کی سمت کو بھانپ کر ہر بار ایسا بیانیہ تراشنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس سے وہ بھرپور عوامی پذیرائی اور حمایت سمیٹ لیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حد تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کو حکومت بھی ملی تو کارکردگی کی بجائے صرف کھڑکی توڑ زور دار بیانیوں کی سیاست کرنے ہی پر توجہ دیتے رہے۔ پنجاب میں ساڑھے تین سال پی ٹی آئی کی حکومت پنجاب کے باسیوں کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی پنجاب جیسے بڑے صوبے کو عثمان بزدار کے حوالے کر دیا گیا جویونین کونسل کی سیاست کی سطح کی شخصیت تو شاید ہوں مگر کسی بھی طرح پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ کے اہل نہ تھے۔ ایک شخص جو چند مائیک اور کیمرے دیکھ کر اپنا اعتماد برقرار نہ رکھ سکے اس کو وسیم اکرم پلس کا خطاب دیکر ایک بڑھک یہ بھی لگا دی کہ اگلی بار بھی تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہونگے یقیناً یہ جھوٹے بیانیوں پر سیاست کرنیوالوں کا کام ہی ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اب لگتا ہے پی ٹی آئی کی جھوٹ کی دکان بند ہونے والی ہے کیونکہ اس بار بیانیہ اور کارکردگی مقابل ہیں بیانیہ پر ایمان لانے والے بیانیہ کے سونامی میں زمینی حقائق کو بہا دینا چاہتے ہیں۔ تاہم لگتا ہے اتحادی حکومت پی ٹی آئی کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ فیک نیوز بھی ایسے ہی قبیلے کو سہارا دیتی ہے جنہوں نے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ سیاست نہیں کرنی بلکہ عوامی بازار میں بکنے والے ایک جھوٹے بیانیےکا بت تراش کر اس کے گرد طواف کرنا ہےدوسری طرف کارکردگی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، کسی بھی ایک پروجیکٹ کا فائدہ اگر عوام تک پہنچ رہا ہے تو یہ حکومت کی بہترکار کردگی میں شمار ہو گا۔ حکومتی کارکردگی یقینا ًجادو کی چھڑی نہیں کہ گھمائی اور اوپر سے نیچے تک حالات درست ہو گئے۔ ایسا صرف سیاسی بیانات میں ہی ممکن ہوتا ہے حقیقت میں چیزیں رفتہ رفتہ درستی کی طرف جاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا یے کہ اگر کارکردگی کی دھیمی رفتار کے سامنےجھوٹے بیانیوں کا کان پھاڑ دینے والا شور اور فیک نیوز کا سونامی حد سے باہر ہونے لگے اور جھوٹ کا بیانیہ بیچنے والےجھوٹ کی اتنی گرد اڑائیں کہ سچ کا چہرہ اس گرد میں چھپنے لگے تو پھر لکھنے والوں کا فرض ہے کہ وہ دیانت داری سے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس جھوٹ کے مقابل کارکردگی کا ساتھ دیں۔ مبصرین کے مطابق اس وقت یوٹیوبرز ٹک ٹاکرز کے سونامی جھوٹے بیانیوں پر جھوٹی خبروں اور فیک نیوز کے ساتھ ایک طوفان بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں۔بات یہ ہے کہ بیانیہ کی جنگ اپنی جگہ لیکن کارکردگی کو آپ کیسے نظر اندازکر سکتے ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیانیہ چل جاتا ہے ہر وقت بیانیہ کام نہیں آسکتا ۔عمران خان کے بیانیے نے 2024الیکشن میں انہیں سہارا دیا ہے لیکن خالی بیانیہ لوگوں کو کب تک لبھا سکتا ہے، لوگوں نے بیانیے سے بچوں کا پیٹ نہیں بھرنا۔ حقیقی زندگی میں جو مسائل کی دلدل ہے وہاں پر بیانیہ عام پاکستانی کے کسی کام نہیں آتا۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی اب تحقیقات کی جائیں کہ جھوٹے بیانیوں پر ہوائی قلعے تعمیر کرنیوالے کاٹھے انقلابیے آخر اتنا جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟
