عمران کسی بڑے احتجاج کی کال دینے کی پوزیشن میں کیوں نہیں رہے؟

قیدی نمبر 804 عمران خان کی فائنل احتجاج کی کال بری طرح ناکام ہونے اور پارٹی لیڈرشپ کے راہ فرار اختیار کرنے سے پی ٹی آئی کی قیادت پر عوامی اعتماد بری طرح مجروح ہوا یے جس کے بعد مذید کسی احتجاجی پروگرام کا اعلان کرنے سے پہلے عمران خان کو 100 مرتبہ سوچنا ہوگا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی چوک پر احتجاج کی ناکامی اور بلند و بانگ دعوے کرنے والی بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور کے فرار کے بعد پارٹی قیادت کی اہلیت اور وفاداری کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کی بزدلی اور ناقص منصوبہ بندی نے اسلام اباد تک ساتھ جانے والے کارکنان کے حوصلے توڑ دیے ہیں اور اب وہ پارٹی قیادت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ جب رینجز اپریشن شروع ہوا اور بشری بی بی اور گنڈا پور نے بھاگنے کی کوشش کی تو پارٹی ورکرز ان کی گاڑیوں کے اگے لیٹ گئے تاکہ ان کا راستہ روکا جا سکے لیکن دونوں نے رکنے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی گنڈاپور کو سرکاری طور پر فون ہر بتا دیا گیا تھا کہ بشری اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی لہذا فوری طور پر اسلام اباد سے نکل جائیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف کہ مرکزی قائدین ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں اور احتجاج کی ناکامی کا مدعا ایک دوسرے کے سر ڈال رہے ہیں۔ ڈی چوک پر احتجاج کے ناکامی پر اختتام کے بعد پارٹی کی قیادت میں اختلافات دیکھنے میں آرہے ہیں اور چند رہنما تو کھلے عام اس اس ناکامی کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ بشرہ بی بی احتجاج کی ناکامی کے بعد سے ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں لیکن ان کی ہمشیرہ ویڈیو پیغامات میں مسلسل یہ الزام لگا رہی ہیں کہ علی امین گنڈا پور نے بشرہ بی بی کو دھوکے سے ساتھ بھگایا۔ دوسری جانب گنڈاپور کا یہ موقف سامنے ارہا ہے کہ انہیں بشر بی بی کو اسلام اباد سے محفوظ طریقے سے نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور وہ بھی اسی لیے فرار ہوئے کہ بشری بی بی کو بچانا تھا۔
احتجاج کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی اہم اتحادی جماعت سنی تحریک کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، جو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے رکن بھی تھے، نے بھی دونوں عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے احتجاج کی ناقص حکمت عملی اور ڈی چوک سے پیچھے ہٹنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں مستعفی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی حمایت جاری رکھیں گے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی قانونی ٹیم کی سربراہی جاری رکھیں گے، لیکن سیاسی معاملات سے دور رہیں گے۔
بتایا جاتا ہے کہ احتجاج کی ناکامی کے بعد بشری بی بی نے سلمان اکرم راجہ کے ساتھ سخت گفتگو کی جسے بدتمیزی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا یہ موقف تھا کہ انہیں پارٹی قیادت تو جواب طلبی کر سکتی ہے لیکن وہ عمران کے خاندان کی عورتوں کو جوابدہ نہیں۔ کچھ رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ بشریٰ بی بی نے اسلام اباد پہنچنے کے بعد ساری منصوبہ بندی اپنے ہاتھ میں لے لی تھی اور مرکزی قیادت کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ بشر بی بی کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ حکومت احتجاج کے لیے جو متبادل جگہ دے رہی ہے وہاں پر پڑاؤ کیا جائے اور مذاکراتی عمل کا اغاز کیا جائے تاکہ اس احتجاج سے کچھ حاصل کیا جا سکے۔ تاہم بشری بی بی اتنا بڑا ہجوم دیکھ کر بے قابو ہو گئی اور یہ سوچ لیا کہ انقلاب کا وقت آن پہنچا ہے اور وہ حکومت کو عمران کی رہائی پر مجبور کر دیں گی۔ لیکن درحقیقت یہ سب سراب تھا۔
بشری بی بی نے پارٹی رہنماؤں کی تجاویز کے برخلاف لانگ مارچ کو ڈی چوک کی طرف دھکیل دیا۔ بیرسٹر گوہر بھی کہتے رہے ہیں کہ عمران خان سنگجانی میں احتجاج کرنے پر آمادہ تھے تاہم انکی ایک نی سنی گئی اور اب ان کو بھی پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی خبریں گرم ہیں۔ پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے آغاز پر علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی جانب سے احتجاج کی قیادت چھوڑ کر چلے جانےکے اقدام پر بھی بھر پور تنقید کی جا رہی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بشریٰ نے گنڈا پور کے دباؤ میں آ کر احتجاجی مقام چھوڑا؟
پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن نے اس تاثر کو مسترد کیا اور کہا کہ بشریٰ بی بی، جو پارٹی کے بانی عمران خان کی اہلیہ ہیں، نے کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے کہنے پر احتجاجی مقام نہیں چھوڑا۔ مختلف مقدمات میں جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی احتجاج کی قیاد ت کی۔ حکومتی رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد جب پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوا تو اسے بشریٰ بی بی کی ایک بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں تک کہ کئی مبصرین نے انہیں عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی کی سربراہی تک کے لیے موزوں قرار دیا۔
اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب پہنچنے کے بعد بشریٰ بی بی کے کارکنوں سے دھواں دھار خطاب نے بھی انہیں سیاسی طور پر نمایاں کیا۔ انہوں نے کارکنوں کو یقین دلایا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے بغیر یہاں سے واپس نہیں لوٹیں گی، اور پھر انہوں نے کارکنوں سے بھی ایسا ہی کرنے کا حلف لیا۔ تاہم پھر چھبیس نومبر کی رات حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد ان کے کردار پر بھی بہت سے سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو گئے۔ کچھ سیاسی پنڈت تو پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کو بھی بشریٰ بی بی کے سیاسی معاملات میں کردار کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے جیل میں جانے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی اندرونی طور پر تنازعات کا شکار ہو گئی تھی۔ سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کہتے ہیں، ”پارٹی میں کوئی ڈھانچہ نہیں ہے اور یہی پارٹی کے اندرونی اختلافات اور معاملات کی بدنظمی کی بڑی وجہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کا کردار بھی متنازع ہے،’’احتجاج کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما اپنے ووٹرز کی شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے انتخابی حلقوں میں شرمندگی اٹھا رہے ہیں۔‘‘ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی نے احتجاج شروع ہونے سے قبل ایک پارٹی میٹنگ میں جماعت کے بعض رہنماؤں کی موجودگی میں ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے اور ان پر اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے پوری نہ کرنے کے الزامات بھی لگائے۔
سیاسی امور کی رپوٹنگ کرنے والے صحافی اور پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک کا کہنا ہے، ’’بشریٰ بی بی پارٹی کے معاملات کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور پارٹی کے بعض رہنماؤں کے مطابق وہ لوگوں پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر سلمان اکرم راجہ کو یہ تک کہنا پڑا کہ ہم پارٹی کے لوگ ہیں، کسی کے ذاتی ملازم نہیں۔‘‘
ارشد ملک کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں منصوبہ بندی کا فقدان عیاں ہے اور اس کی وجہ کسی متحد قیادت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا،”عمران خان جیل میں ہیں اور ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بشریٰ بی بی کے کنٹرول میں ہے لہذا یہ جاننا بھی مشکل ہے کہ عمران خان کا مختلف معاملات پر کیا مؤقف ہے۔‘‘
پی ٹی آئی کی پے درپے ناکام احتجاجوں کے سلسلے کو دیکھتے ہوئے بعض حلقے اسے حکومت کی بہتر سیاسی حکمت عملی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔ البتہ تجزیہ کار سہیل۔وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کا کام ہے کہ وہ چالیں چلتے ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی حکمت عملی میں کیا خامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے کارکنوں کو چھوڑ کر احتجاج سے نکلنے کا موقع تو دے سکتی ہے لیکن وہ انہیں زبردستی ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انکا کہنا تھا، ”پی ٹی آئی کی قیادت کو خود سوچنا چاہیے کہ وہ اس جال میں کیوں پھنس رہی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ حالیہ احتجاج کی ناکامی پی ٹی آئی کی قیادت پر عوامی اعتماد کے خاتمے کا سبب بنی ہے اور جب اعتماد نہیں ریے گا، تو پارٹی آئے روز احتجاج بھی نہیں کر سکے گی۔
