داعش خراسان پاکستان کے لیے TTP سے بڑا خطرہ کیوں بن گئی؟

پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے سکیورٹی اداروں کو یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور کر دیا ہے کہ داعش خراسان ملک کے لیے تحریک طالبان پاکستان سے بھی بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انٹیلی جنس حکام کے مطابق اس تنظیم کی آپریشنل مہارت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اسے روایتی دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک بنا رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں 6 فروری 2026 کو ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے اور اس کے بعد سامنے آنے والی تحقیقات نے اس خطرے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 6 فروری 2026 کو اسلام آباد میں ایک شیعہ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے صرف چند گھنٹوں کے اندر پاکستانی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبر پختونخوا کے علاقے حکیم آباد، نوشہرہ میں ایک مکان کا سراغ لگا لیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ وقت کے خلاف دوڑ تھی جس میں تکنیکی ڈیٹا، لوکیشن کوآرڈینیٹس اور مشتبہ رابطوں کی مدد سے ہدف کی نشاندہی کی گئی۔
رات گئے سکیورٹی اہلکاروں نے مکان کا محاصرہ کیا اور اندر موجود افراد کو ہتھیار ڈال کر باہر آنے کی ہدایت کی۔ ابتدائی طور پر ایک شخص نے دروازے کے پیچھے سے ہاتھ بلند کر کے گرفتاری دینے کا اشارہ کیا، تاہم اگلے ہی لمحے اس نے 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر موقع پر شہید جبکہ دو انٹیلی جنس اہلکار زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا، تاہم مختصر جھڑپ کے دوران مکان کے اندر موجود افراد کو موبائل فون اور دیگر شواہد ضائع کرنے کا موقع مل گیا۔
بعد ازاں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت یوسف عرف قاسم المعروف ادریس کے نام سے ہوئی، جو کالعدم شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ خراسان یعنی داعش خراسان کا باجوڑ ریجن کا سربراہ اور امام بارگاہ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کا ہینڈلر تھا۔ اس کے سر کی قیمت 1 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔ انسداد دہشت گردی حکام کے مطابق یہ سیل نہ صرف حالیہ حملے بلکہ کئی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش کارروائیوں میں بھی ملوث تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ گروہ نے قبائلی ضلع سے نکل کر گوجرانوالہ، لاہور اور پھر نوشہرہ تک اپنے ٹھکانے تبدیل کیے۔ حکام کے مطابق انہوں نے 2019 میں باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی سلطان محمود کے قتل، 30 جولائی 2021 کو جے یو آئی (ف) کے کنونشن پر خودکش حملے جس میں 54 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اور 10 جولائی 2025 کو اے این پی رہنما مولانا خانزیب کے قتل سمیت کئی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ گروہ کم از کم 15 پولیس اہلکاروں اور 2 جولائی 2025 کو نوگئی کے اسسٹنٹ کمشنر کے قتل میں بھی ملوث رہا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق ادریس پیشے کے اعتبار سے درزی تھا اور طویل عرصے سے اداروں کی نگرانی میں تھا، مگر وہ مستقل مقام تبدیل کرنے، خواتین اور بچوں کے ہمراہ نقل و حرکت اور قلیل مدت کے لیے کرائے کے مکانات لینے کی حکمت عملی سے گرفتاری سے بچتا رہا۔ ایک اہلکار کے بقول وہ خانہ بدوشوں کی طرح رہتے تھے اور اگلے مقام پر منتقل ہونے سے قبل مالک مکان کو اطلاع تک نہیں دیتے تھے۔ تحقیقات کا سب سے چونکا دینے والا پہلو اس نیٹ ورک میں خواتین کا فعال کردار ہے۔ حکام کے مطابق خودکش بمبار مئی 2025 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ گیا تھا، جبکہ گروہ سے وابستہ خواتین بھی ردوبدل شدہ پاسپورٹس کے ذریعے سرحد پار کرتی رہیں۔ ایک خاتون نے خودکش جیکٹ باجوڑ سے اسلام آباد منتقل کر کے نیٹ ورک کی دوسری رکن کے حوالے کی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پورا خاندان نظریاتی طور پر شدت پسندانہ سوچ سے متاثر تھا۔
سکیورٹی ذرائع اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کا نیٹ ورک پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ منظم اور پھیلا ہوا ہے۔ اس کے روابط مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیائی ریاستوں، افغانستان اور پاکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مالی لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال، خفیہ کاری شدہ مواصلاتی ایپس کا سہارا اور سیل بیسڈ اسٹرکچر اسے روایتی شدت پسند تنظیموں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور سراغ رسانی کے لیے مشکل بناتا ہے۔ انسداد دہشت گردی حکام کے مطابق صلاحیت، نظریاتی وابستگی، وسائل، آپریشنل مہارت اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں کرنے کی استعداد کے اعتبار سے داعش خراسان اب تحریک طالبان پاکستان سے بھی بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جہاں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہیں، وہیں داعش خراسان فرقہ وارانہ اہداف، سیاسی قیادت، مذہبی اجتماعات اور شہری مراکز کو ہدف بنا کر زیادہ خوف اور عدم استحکام پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔
کیا پاکستان اور افغانستان میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدلتی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی نگرانی کے چیلنجز نے بھی اس گروہ کو جگہ بنانے کا موقع دیا۔ اگرچہ پاکستان نے سرحدی باڑ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش کی ہے، مگر حالیہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ داعش خراسان چھوٹے، خودمختار اور خفیہ سیلز کے ذریعے دوبارہ منظم ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ کارروائی نے اگرچہ ایک اہم کمانڈر کو ختم کر دیا ہے، لیکن اصل چیلنج اس وسیع نیٹ ورک کو توڑنا ہے جو نظریاتی شدت پسندی، ٹیکنالوجی کے جدید استعمال اور سرحد پار روابط کی بنیاد پر کام کر رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے نزدیک یہی وہ عوامل ہیں جو داعش خراسان کو پاکستان کے لیے ایک ابھرتا ہوا اور ممکنہ طور پر تحریک طالبان پاکستان سے بھی زیادہ خطرناک خطرہ بنا رہے ہیں۔
