PTI اراکین اسمبلی کیلئے اڈیالہ جیل پہنچنا مشکل کیوں ہوگیا؟ 

 

 

 

 

مہنگائی کے طوفان نے جہاں عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں وہیں پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی کی بھی چیخیں نکلوا دی ہیں۔پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پی ٹی آئی پنجاب کے ایم پی ایز کے لیے اڈیالہ جیل پہنچنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے سفری اخراجات کی وجہ سے صورتحال اس نہج تک جا پہنچی ہے کہ پی ٹی آئی ایم پی ایز نے ہر ہفتےاڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے سے صاف انکار کرتے ہوئے مہینے میں صرف ایک یا دو بار اڈیالہ جیل کے باہر حاضری لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے اراکین پنجاب اسمبلی کی ہر منگل اور جمعرات کو جیل کے باہر حاضری لازمی قرار دی گئی ہے،جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز منگل کے دن فیملی ملاقات جبکہ جمعرات کے دن احتجاج و دھرنے کے لیے جیل کے باہر حاضری دیتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے اراکین جیل کے باہر موجود رہتے ہیں اور ملاقات کا وقت ختم ہونے پر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں تاہم اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے یوتھیے اراکین اسمبلی کے ہوش گنوا دئیے ہیں ذرائع کے مطابق بڑھتے ہوئےسفری اخراجات کی وجہ سے ایم پی ایز نے باہمی مشاورت سے مہینے میں صرف ایک یا دو بار ہی اڈیالہ جیل پہنچنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر متعدد پی ٹی آئی ایم پی ایز کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر حاضری کا یہ ٹاسک اب ان کے لیے مالی طور پر انتہائی مشکل اور تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ملتان، رحیم یار خان، لاہور، میانوالی، بھکر اور لیہ جیسے دور دراز اضلاع سے آنے والے اراکین کے لیے سفر کے اخراجات ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔ ایک رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ صرف گاڑی کے پیٹرول پر 20 سے 25 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ کھانے پینے کے اخراجات الگ ہیں،آنے جانے کے لیے ہر ہفتے تقریباً 70 سے 80 ہزار روپے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب سے وہ پی ٹی آئی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں، کاروبار بھی ریاستی دباؤ کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے میں ان کا ہر ہفتے ایک لاکھ روپے جیب سے خرچ کرنا ممکن نہیں رہا اس لئے انھوں نے پارٹی ہدایات کے برعکس مہینے میں صرف ایک بار اڈیالہ جیل پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم پی ایز کا کہنا تھا کہ انھوں نے پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد قیادت سے بارہا اس مسئلے کا حل نکالنے کے حوالے سے گزارش کی لیکن کسی نے کوئی حل نہیں نکالا، بلکہ پارٹی نے سختی سے ہدایت کی کہ حاضری لازمی ہے، بصورت دیگر نوٹس جاری کیا جائے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر، ایم پی ایز نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ اب وہ ہر ہفتے نہیں بلکہ مہینے میں ایک یا دو بار ہی اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔

بڑھتی کرپشن اور نااہلی، PTIکی خیبرپختونخوا حکومت کنگلی ہو گئی

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں معاشی بحران کس حد تک سنگین ہو چکا ہے۔ اب نہ صرف عام شہری بلکہ سیاسی رہنما بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی ایشو بھی بن چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر منتخب نمائندے خود اس بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں تو عام عوام کی مشکلات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بحران نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی نظم و ضبط، حکمت عملی اور فیصلہ سازی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

 

Back to top button