پاکستان دوبارہ امریکہ کے لیے سٹریٹیجک اہمیت کیوں اختیار کر گیا ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد پاکستان خطے میں دوبارہ سٹریٹیجک اہمیت اختیار کر گیا ہے، اسکی بڑی وجہ پاکستان کے چین اور ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے وہ ان ممالک کے امریکہ سے سرد روابط میں گرمجوشی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عاصمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے بہتر ہوتے تعلقات کے نتیجے میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری آتی دکھائی دیتی ہے۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اسلام آباد میں سینٹ کام چیف جنرل کوریلا کی آمد بھی کافی اہمیت کی حامل خیلا کی جا رہی ہے۔ جنرل کوریلا وہی شخص ہیں جنہوں نے ایک اہم تر امریکی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات کو انڈیا پر فوقیت دی۔ یوں سمجھیے جنرل کوریلا امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حالانکہ امریکہ میں فوج بظاہر پاکستان جتنی اہم نظر نہیں آتی مگر حقیقت یہ ہے کہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ سٹریٹیجک فیصلہ سازی میں پاکستان سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
سینیئر اینکر پرسن کہتی ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ ’کیبنٹ روم‘ ظہرانے اور صدر ٹرمپ سے غیر معمولی ملاقات کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان نئے سٹریٹیجک دور کا آغاز ہوا ہے۔ یہاں یہ امر اہم ہے کہ یہ تعلقات ہر دہائی میں از سر نو ترتیب پاتے ہیں۔ ماضی میں اس کی مثالیں ہمیں جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں نظر آتی ہیں مگر ان میں سے دو ادوار پاکستان افغانستان کے تناظر میں اہم رہے جبکہ جنرل ایوب خان کا دور امریکی پالیسیوں کی باضابطہ قبولیت کا آغاز تھا۔ آرمی چیف کے امریکی دورے کے بعد تاحال یہ غیر واضح ہے کہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کی نہج اس بار کیا ہے البتہ یہ اہم ہے کہ پاکستان اس خطے میں ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا امریکہ کا حالیہ دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انہی دنوں میں دورہ چین کسی طور غیر اہم نہیں۔ ایک جانب پاکستان امریکہ سے تجارتی ٹیرف کم کرانے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسری طرف چین سے خطے میں امن اور اقتصادی راہداری کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان امریکہ کو آٹھ کھرب ڈالرز لاگت کے معدنی ذخائر کی ’پر کشش‘ پیشکش کر رہا ہے اور چین کو گوادر کا پرامن اقتصادی راستہ دینے کا بھی خواہش مند ہے۔اسی طرح پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے جرات بھی کر رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ایک اور محاذ پر امریکہ اور چین کے مابین سفارتی تعلقات بہتر کروانے میں کردار ادا کرنے کی سعی میں ہے۔ یوں سمجھیے کہ خواہشوں کی ایک پٹاری ہمارے ہاتھ میں ہے اور کیوں نہ ہو ہم نے ایک ہی رات میں خطے کے ابھرتے چوہدری یعنی انڈیا کے تسلط کے خواب کو توڑا ہے۔ البتہ یہ لا حاصل کوشش نہیں کہ پٹاری میں موجود خواہشوں کو ایک ایک کر کے تعبیر کیا جائے، تاہم اس کے لیے آئیڈیل امن کا قیام ایک کٹھن امتحان بن چکا ہے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے پاکستان کو دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن حاصل کرنا ہو گا اور یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں اس وقت ریاست آ کھڑی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں جاری عرصہ دراز کی پراکسی واراپنے پنجے گاڑھ چکی ہے، تو خیبر پختونخوا میں جاری لڑائی گلی محلے تک پہنچ رہی ہے۔ بلوچستان میں پراکسیز نقب لگا چکی ہیں جبکہ پختونخوا میں ایک طرف فتنہ الخوارج سے نفرت اور دوسری طرف امن کی خواہش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے بیچ میں حائل وہ قوتیں ہیں جو اپنی مقبولیت اور سیاسی مفاد کی خاطر حالات کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
سہیل وڑائچ کی ‘مدر آف آل بیٹلز’ میں دیوتاؤں کے ٹکرائو کی پیشگوئی
اگر ریاست اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے تو عوام میں چھپے دشمن دستانے پہنے ہاتھ کاٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جنوبی پانچ اضلاع دہشت گردوں کے قابو میں ہیں تو دیگر اضلاع میں عمائدین اور صوبے کا وزیر اعلیٰ ’گڈ طالبان‘ کے الزامات لگا رہے ہیں۔ امن کی خواہش ریاست کی بھی ہے اور صوبے کے عوام کی بھی مگر کاروائی کے طریقہ کار پر اعتراض شدید تر ہے۔ ریاست امن کی خواہش کو بزور بازو آزمائے مگر وہ یہ بھی یاد رکھے کہ وہاں موجود عوامی جذبات کیا ہیں، ذرا سی غلطی کسی بڑے نقصان اور رائے عامہ کی مخالفت کاسبب بن سکتی ہے۔ ریاست کو عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے وہاں منتخب حکومت، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین کے ساتھ مکالمہ کرنا ہو گا۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ حال ہی میں منعقدہ قومی جرگے کے عمائدین نے جن 28 نکات پر متوجہ کیا اس پر ریاست کو غور کرنا ہو گا جبکہ کسی اور ’پراکسی وار‘ کے خدشات کو ختم کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ ریاست بلوچستان جیسی ایک اور صورت حال کی متحمل نہیں ہو سکتی اور ناں ہی امن کے بغیر دنیا سے کیے گئے اقتصادی معاہدوں پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بدامنی کے جس خدشے پر دہائیوں پہلے پاکستان کھڑا تھا وہ ایک بار پھر خوفناک حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔
