21 برس سے حکمران روسی صدر پوٹن جارح مزاج کیوں ہیں؟

لینگارڈ شہر کے سرکاری کوارٹرز میں اپنے سے بڑے لڑکوں کے ساتھ مار کٹائی کے لئے مشہور ولادیمیر پوتن کو یہی سبق سکھایا گیا تھا کہ اگر کبھی لڑنا پڑ جائے تو پہلا مکہ تمہیں مارنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی میں کام کرنے کے بعد جب پوتن سیاست میں آئے تو اپنے حریفوں پر جارحانہ حملے کئے لیکن روس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی وجہ سے پوتن عوام بھی بے حد مقبول ہیں۔
پچھلے 21 برس سے روس پر حکمرانی کرنے والے ولادیمیر پوتن یوکرین پر حملے کے بعد سے دنیا بھر میں زیر بحث ہیں۔ ولادیمیر پوتن لینگارڈ یعنی سینٹ پیٹرز برگ کے سرکاری کوارٹرز میں پلے بڑھے۔ وہ مقامی لڑکوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے بھی کرتے تھے۔ وہ ایسے لڑکوں سے بھی لڑ جاتے جو ان سے عمر میں بڑے اور طاقتور ہوتے۔ اس چیز نے انھیں جوڈو کراٹے سیکھنے کی جانب راغب کیا۔ تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی پوتن سویت یونین کی انٹیلیجنس میں کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔
پوتن کی جارحانہ حکمت عملی اس نظریے پر مبنی ہے کہ اگر کوئی لڑائی ضروری ہو جائے تو پھر پہلا مکا تمھارا ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کریمیا کو آزاد کروانے کے بعد اب دوبارہ یوکرین پر حملہ آور ہوچکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ولادیمیر پوتن کی شخصیت میں سوویت دور کے اوصاف نے اُن کی دنیا کے بارے میں رائے کو تشکیل دیا ہے۔ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے سے قبل پوتن روس کی مشہور زمانہ انٹیلیجنس ایجنسی ’کے جی بی‘ میں جاسوسی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ان کے متعدد دوست خفیہ ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ہی ہیں۔ صدر پوتن نے سنہ 1990 کی دہائی کے آغاز سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔
آغاز میں پوتن سینٹ پیٹرز برگ کے میئر اناطولی سوبچک کے معاون رہ چکے ہیں۔ یونیورسٹی دور میں اناطولی پوتن کے قانون کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 1997 میں وہ کریملن میں فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ کے طور پر داخل ہوئے۔ یہ ادارہ ’کے جے بی‘ کے بعد قیام میں آیا۔ اس عہدے پر کام کرنے کے بعد پوتن روس کے وزیراعظم بن گئے۔ 1999 میں نئے سال کے آغاز میں روس کے صدر بورس یالسن اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تو انھوں نے پوتن کو قائم مقام صدر نامزد کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ اقتدار میں ہی ہیں۔ اگچہ 2008 سے 2012 کے درمیان پوتن وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔
تمام ادارے غیرجانبدار رہیں تو کٹھ پتلی وزیراعظم گھر چلا جائیگا
روس کے آئین کے تحت وہ مسلسل تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے۔ پوتن 2012 کے انتخابات 66 فیصد کی بھاری اکثریت سے جیت کر اقتدار میں واپس آئے۔ ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ پوتن نے اقتدار میں آنے کے بعد سویت یونین کے دور کی مخصوص فوجی پریڈ کو بحال کیا اور اُن کے دور میں جوزف سٹالن کے پورٹریٹس بھی دوبارہ منظر عام پر آ گئے، جن پر کبھی پابندی عائد تھی۔
پوتن نے سویت یونین کے ٹوٹنے کو 20 ویں صدی کی سب سے بڑی جغرافیائی تباہی قرار دیا تھا اور وہ سنہ 1997 تک نیٹو کے روس کی سرحدوں تک پھیلاؤ کے بھی سخت ناقد رہ چکے ہیں۔ پوتن نے طاقتور ہونے کا اپنا تاثر بھی قائم رکھا، جو انھیں انتخابی معرکے میں ایک ’سٹنٹس مین‘ کے طور پر بھی مدد کی جیسے سنہ 2000 میں وہ چیچنیا میں ایک جنگی طیارے میں سوار ہو کر گئے اور بحرہ اسود میں سنہ 2011 میں ’رشین بائیکرز فیسٹیویل‘ میں ان کا نمودار ہونا بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ تاہم پوتن نے روسی میڈیا میں اپنا ایک نرم دل پہلو بھی پیش کیا جیسے وہ اپنے کتوں سے کھیل رہے ہیں اور زخمی ’ایمور ٹائیگرز‘ کی مدد کر رہے ہیں۔
پوتن اور ان کی اہلیہ لیوڈمیلا نے تقریباً 30 سال قبل ہونے والی شادی کے بعد 2013 میں علیحدگی ہو گئی۔ انھوں نے پوتن کو بہت زیادہ کام کرنے والے رہنما کے طور پر بیان کیا۔ پوتن کی ایک بیٹی، کترینا، ’ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی‘ میں ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز ہیں اور ایکروبیٹک راک ’این‘ رول مقابلوں میں پرفارم کرتی ہیں۔ پوتن کی سب سے بڑی بیٹی ماریہ تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں اور وہ اینڈوکرینالوجی میں سپیشلائزیشن کر رہی ہیں۔
پوتن کے دور کو روس کے ایک کنزرویٹو نیشنلزم سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس میں زارس کے زمانے کے روس کی مطلق العنانیت شامل ہے، جسے آرتھوڈوکس چرچ کی مدد حاصل تھی۔ صدر بننے کے فوراً بعد پوتن نے لبرل شخصیات کے اثر کو کم کرنے کی ٹھان لی۔ انھوں نے اکثر عہدوں پر لبرل خیالات رکھنے والوں کی جگہ زیادہ سخت گیر اتحادی یا ایسی نیوٹرل شخصیت کے حامل افراد کو تعینات کیا جو ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں۔ فروری 2011 میں رشین لیواڈا سینٹر کے مطابق 48 فیصد روسی شہری پوتن کو سنہ 2024 کے بعد بھی صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔
بہت سے لوگ اب بھی پوتن پر شرط لگانے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ولادیمیر پوتن 2000 سے برسر اقتدار ہیں۔ اس عرصے کے دوران وہ روس کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔ یوں سنہ 1953 میں سویت یونین کے آمر حکمران جوزف سٹالن کی موت کے بعد سے وہ روس کے دوسرے ایسے رہنما ہیں جنھیں سب سے طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ یوں تو ولادیمیر پوتن کی صدارت کی مدت سنہ 2024 تک ہے مگر سنہ 2020 میں متنازع آئینی اصلاحات پر رائے شماری کے بعد اب وہ اپنی چوتھی مدت پوری کرنے کے بعد بھی حکمران رہ سکتے ہیں۔ ان آئینی اصلاحات کے بعد وہ سنہ 2036 تحت صدر کے منصب پر فائز رہ سکتے ہیں۔
