ڈرون حملے خیبرپختونخواہ میں دہشت گردوں کا نیا ہتھیار

 

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری ٹارگٹڈ آپریشنز اور دہشتگرد مار کارروائیوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں دہشتگردی نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبرپختونخومیں دہشتگردوں کی کارروائیوں اور حملوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ خیبرپختونخوا انسداد دہشتگردی فورس کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات رپورٹ ہوئے  جس میں 54 ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے خیبر پختونخوا میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دئیے ہیں جبکہ علاقائی طاقتوں کی پالیسیوں، مختلف گروہوں کے درمیان مبینہ رابطوں اور افغانستان اور بھارت کی جانب سے پاکستان دشمن دہشتگردوں کی مالی معاونت و سہولتکاری نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک جامع اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو ملک کے مجموعی سیکیورٹی اور معاشی استحکام تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کی پشت پناہی کی وجہ سے ملک کے دیگر شہروں کے برعکس خیبر پختونخوا میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران خیبرپختونخوا بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے گونجتا رہا ہے۔ پولیس کی اپنی رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ 391 دہشتگردی اور شدت پسندی کے واقعات بنوں ریجن میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر زیادہ تر واقعات شمالی وزیرستان ریجن میں رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 181 ہے۔ پولیس حکام کے مطابق بنوں میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں 27 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں رواں سال 53 شدت پسند مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پشاور ریجن میں شدت پسندی کے 163، ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں 152، اور ضلع خیبر میں 119 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان رپورٹ شدہ واقعات میں ڈرون حملے، بھتہ خوری، شدت پسندوں کی سہولت کاری، دستی بم حملے، بارودی سرنگوں کے دھماکے، اغوا اور شدت پسندی سے متعلق فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن کی تعداد 557 ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر دیسی ساختہ بم دھماکے رہے، جن کے 160 واقعات سامنے آئے ہیں۔ تاہم صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سب سے تشویشناک اور خطرناک پہلو شدت پسندوں کی جانب سے ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کا بڑھتا ہوا استعمال قرار دیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث دہشت گردوں کی جانب سے ان جدید ذرائع کو شرپسندانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

انسداد دہشت گردی پولیس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ ڈرون حملے شمالی وزیرستان میں ہوئے۔ ان حملوں کی تعداد 25 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر بنوں میں 20 ڈرون حملے ہوئے ہیں جبکہ رواں سال جولائی میں اینٹی ڈرون نظام کی مدد سے 300 ڈرون حملے ناکام بھی بنائے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پولیس رپورٹ میں سامنے آنے والے ڈرون حملوں کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب ڈرون کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل ڈرون کا ایسا استعمال عام نہیں تھا۔ سینئر صحافی رسول داوڑ کے مطابق ایک کواڈ کاپٹر پر دو سے تین لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے اور اس کے ساتھ مارٹر گولہ یا دیسی ساختہ بم منسلک کیا جاتا ہے، جس سے شدت پسند دور بیٹھ کر حملے کر سکتے ہیں اور ان کا اپنا نقصان کم ہوتا ہے۔ تاہم اب پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کی مدد سے ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ تاہم دہشتگردوں کی جانب سے سرپسندانہ کارروائیوں کیلئے ڈرونز کا استعمال سیکیورٹی فورسز کیلئے بدستور ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

Back to top button