فوج کا ڈنڈا عمران کی مقبولیت توڑنے میں ناکام کیوں؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کی کشمکش سے فائدہ اٹھانے والی واحد جماعت نواز لیگ ہے جو اسلام آباد اور پنجاب میں اقتدار سنبھالے بیٹھی ہے جہاں کبھی عمران خان اور عثمان بزدار کا راج تھا۔

 

بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ حالات سے زیادہ واقعات نے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے، لکیر کھینچی جا چکی ہے، جس کے دونوں اطراف کھڑے حریف مسلسل ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں۔ ستم ظریفی کہ عمران خان کسی طور قابو نہیں آ رہے۔ وجہ کوئی بھی ہو وہ جیل کو اور جیل انہیں سوٹ کر گئی ہے۔ رہی بات ان کی جماعت پی ٹی آئی کی، تو اسے بھی عمران خان کو جیل سے نکالنے کی کوئی جلدی نہیں کیونکہ خان صاحب ایک اور ’نیلسن مینڈیلا‘ بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

 

عاصمہ شیرازی کے بقول اس ساری کشمکش کی واحد اور یکتا ’بینیفشری‘ ن لیگ کی حکومت ہے جو ہاتھ میں پاپ کارن لیے، انگلیاں منہ میں دبائے پردے پہ چلتی فلم کو دلچسپی سے دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شرئف نے جس کسی کے بھی کہنے پر تحریک انصاف کو ’مشروط مذاکرات‘ کی پیشکش کی ہے اس کا نتیجہ حکومت بخوبی جانتی ہے جبکہ تحریک تحفظ آئین اور تحریک انصاف کا سنجیدہ گروپ مذاکرات کو غیر مشروط طور پر مان چکا ہے۔ یہ ایک احسن قدم ہے تاہم تحریک انصاف کے مذاکرات سے واضح انکار کے بعد سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپوزیشن کی صفوں میں موجود رہے گی یا وہاں سے بھی مائنس ہو جائے گی؟

 

پی ٹی آئی تحریک تحفظ آئین کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوششوں میں ہے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ حکومت کے کندھوں پر۔ مذاکرات کی آفر پر پی ٹی آئی کے پیچھے ہٹ جانے سے محمود اچکزئی کی زیر قیادت تحریک تحفظ آئین اور مولانا فضل الرحمان آگے بڑھ سکتے ہیں، ایسے میں سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ہاتھ کیا آئے گا؟

 

عاصمہ شیرازی کے بقول عمران خان تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت پر اعتماد کو تیار نہیں اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت عمران خان پر اعتماد سے ہچکچا رہی ہے۔ ایسے میں عمران خان نے سٹریٹ موومنٹ شروع کی ہدایت دے دی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں خاطرخواہ نتائج تلاش کرتے کرتے پنجاب جا پہنچے جہاں ازل سے انقلاب کے دشمن پنجابیوں نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا، پچھلے ایک برس میں عمران اور ان کی جماعت کی جانب سے دی گئی احتجاجی کالز جس طرح ناکام ہوئیں اسی طرح عمران خان کی تازہ ترین سٹریٹ موومنٹ کی کال بھی ناکامی کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق مزاحمت مفاہمت کی طرف جاری ہے جبکہ انقلاب کہیں راستے میں ‘کی بورڈ’ جنگجوؤں کے کمپیوٹرز سے جھانک رہا ہے۔سال 2025 میں شور اور زور کی کشمکش اپنے عروج پر رہی۔ شور کم ہوا نہ زور۔ البتہ محاذ آرائی آخری حدوں تک ضرور گئی۔ زور نے چیخ کر کہا کہ ’تم ہو کون؟‘ شور نے جواب دیا ’میں ہی تو ہوں،‘ ایسے میں بلھے شاہ کی ’بلھیا کیہ جاناں میں کون‘ کی گردان حکومت کے حصے میں آئی۔ سال بھر زور اور شور ایڈورڈ سے سر ٹکراتے رہے اور ڈیڈ لاک سیاست کے حصے میں آیا۔ پاکستان کی سیاست آج بھی بند گلی میں کھڑی ہے اور راستہ کسی کے پاس نہیں۔ ایک طرف مذاکرات سے انکار تو دوسری طرف اپنی شرائط پر باہر آنے کا اصرار جاری یے۔ مختصرا یہ کہ حالات سے زیادہ واقعات نے ریاست اور تحریک انصاف کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

فیض حمید کی جنرل عاصم منیر سے سزا معافی کی اپیل

عاصمہ شیرازی کے مطابق تحریک انصاف مشکل میں ہے لیکن اگر کوئی یہ بات عمران خان کو بتائے تو وہ سننے کو قطعاً تیار نہ ہوں گے۔ ان کے خیال میں تحریک انصاف اس قدر مقبول جماعت ہے کہ ان کے ایک پیغام پر عوام سڑکوں پر ہوں گے، ڈی چوک تحریر چوک بن جائے گا، حسب منشا حسب توفیق چوراہوں میں لٹکانے کا خواب پورا ہو گا جبکہ ان کی جماعت کا ہر راہنما ’قائد کا ایک اشارہ، حاضر ہے لہو ہمارا‘ کے ساتھ صف اول میں قربانی کے لیے تیار ہو گا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایسے خواب ہر راہنما دیکھتا ہے مگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اسے ساتھی کم اور ناصح زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب  فوج ہے جس کو صرف طاقت کا استعمال آتا ہے سو وہ کرتی ہے۔ فوج کے لیے ڈنڈا ہی واحد حل ہے جو پاور پالیکٹکس کا ہتھیار ہے اور ریاست کو استعمال کرنا خوب آتا ہے۔ اسی لیے ریاست بار بار ایم کیو ایم کے انجام کی مثالیں دیتی نظر آتی ہے۔ آخر بت  تراشنے سے پہلے توڑنے کے گر سیکھے جاتے ہیں، راہنما بنانے والے پاؤں کاٹنے کا ہنر جانتے ہیں اور تو اور، مقبول کو نا معقول اور مشہور کو بے شعور کرنے میں انہیں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔۔۔۔

Back to top button