حکومت کچے کے ڈاکوؤں کو پٹا ڈالنے میں ناکام کیوں؟

 

 

 

سندھ حکومت نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف ایک بار پھر ’میگا آپریشن‘ کا اعلان کر دیا ہے اور حسبِ روایت اس بار بھی اسے ’فیصلہ کُن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ شمالی سندھ میں عشروں سے جاری اغوا برائے تاوان، مسلح گروہوں اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے والے ڈاکوؤں کے خلاف یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچے کے علاقوں میں قائم ڈاکو راج کے خلاف عدلیہ، میڈیا اور عوامی دباؤ ایک بار پھر عروج پر ہے۔جب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شمالی سندھ کے دورے پر ہیں، وکلا برادری کھلے عام بدامنی پر احتجاج کر رہی ہے اور میڈیا میں کچے کے ڈاکوؤں کی ویڈیوز اور بیانات دوبارہ گردش کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سوال یہ نہیں کہ آپریشن کیوں کیا جا رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی واقعی ماضی سے مختلف ہو گی یا پھر یہ بھی گزشتہ کئی اعلانات کی طرح وقتی دباؤ کم کرنے کی ایک اور کوشش ثابت ہو گی؟

ناقدین کے مطابق لاکھوں روپے سر کی قیمت رکھنے والے ڈاکوؤں، اربوں روپے کی غیر رسمی معیشت، سیاسی مصلحتوں، پولیس کی محدود رسائی، سرحدی علاقوں میں پھیلتی جرائم کی زنجیر اور بار بار بدلتی حکمتِ عملی نے کچے کے علاقے کو ریاست کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا رکھا ہے شمالی سندھ کے وہ علاقے جہاں ریاست کی عملداری برسوں سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔تاہم حقیقت یہ ہے گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں قائم حکومتیں، آئی جی پولیس، وزرائے داخلہ اور حتیٰ کہ وفاقی سطح پر بھی متعدد بار ایسے ہی آپریشنز کے اعلانات ہو چکے ہیں، مگر کچے کے علاقے آج بھی اغوا برائے تاوان، مسلح گروہوں اور جرائم کی غیر رسمی معیشت کا مضبوط گڑھ بنے ہوئے ہیں۔

 

کچے کے علاقے میں اغوا برائے تاوان محض ایک جرم نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ’صنعت‘ بن چکا ہے۔ سکھر ہائی کورٹ میں چند سال قبل جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق یہ غیر رسمی معیشت سالانہ تقریباً ایک ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہی مالی طاقت ان گروہوں کو اسلحہ، نقل و حرکت اور ریاستی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گھوٹکی ضلع میں 43 انتہائی مطلوب ڈاکو سرگرم ہیں، جن کے سروں کی قیمتیں دو لاکھ سے لے کر 50 لاکھ روپے تک مقرر ہیں۔ کشمور میں یہ تعداد 79 تک پہنچ جاتی ہے، جہاں ریاض جاگیرانی، سائیں داد، مشکی اور علی جان جیسے نام برسوں سے خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ یہ ڈاکو انفرادی طور پر نہیں بلکہ منظم گینگز کی صورت میں کام کرتے ہیں، جن کے سہولت کار، مخبر اور مالی معاون پورے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔

 

ناقدین کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کو پٹا ڈالنے میں حکومتی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ گرینڈ آپریشن سے قبل مارچ 2023 میں سندھ کابینہ نے پولیس، رینجرز اور فوج کے مشترکہ آپریشن کی منظوری دی، اربوں روپے کے اسلحے کی خریداری ہوئی، اجلاس پر اجلاس ہوئے، مگر عملی طور پر کوئی فیصلہ کن پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ جون 2024 میں صدرِ مملکت نے بھی سکھر میں اجلاس کی صدارت کی اور سرنڈر پالیسی، ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کی تعمیر پر زور دیا، مگر زمینی حقیقت تبدیل نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ہر آپریشن وقتی ہوتا ہے۔ پولیس علاقے کو کلیئر تو کر لیتی ہے، مگر مستقل گرفت قائم نہیں رکھ پاتی۔ جیسے ہی دباؤ کم ہوتا ہے، ڈاکو دوبارہ منظم ہو جاتے ہیں اور دوبارہ سے علاقے میں اپنی کمین گاہیں قائم کر کے پہلے سے زیادہ شدت سے مجرمانہ کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔

آرمی چیف آصف جنجوعہ کی موت قدرتی تھی یا انہیں زہر دیا گیا

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جب تک کچے کے علاقے میں مستقل پولیس سٹیشنز کے قایم کے ساتھ ساتھ خصوصی تربیت یافتہ فورس اور جدید انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا جاتا، ہر آپریشن عارضی ثابت ہو گا۔ ماہرین کے بقول کچے کے مسئلے کا سب سے حساس پہلو  سیاسی مداخلت ہے۔ کچے کے علاقے میں بعض اوقات کارروائیاں اس بنیاد پر محدود کر دی جاتی ہیں کہ فلاں قبیلہ یا علاقہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن اکثر ’سلیکٹیڈ‘ محسوس ہوتے ہیں۔ حکومت اس تاثر کی تردید کرتی ہے، مگر زمینی حقائق اور ماضی کا ریکارڈ اس دعوے کو کمزور بنا دیتا ہے۔ موٹروے اور نیشنل ہائی وے کی حساسیت نے بھی ڈاکوؤں کو ایک اسٹریٹجک برتری دے رکھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ریاست ان شاہراہوں کو ہر صورت چلتا دیکھنا چاہتی ہے، چنانچہ اسی دباؤ کو سودے بازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف سندھ حکومت کی جانب سے جاری ’میگا آپریشن‘ ریاست کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ اگر یہ آپریشن بھی ماضی کی طرح محض طاقت کے استعمال تک محدود رہا توناکام ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کے ساتھ مستقل پولیسنگ، سیاسی مداخلت کے خاتمہ، معاشی ترقی اور سماجی بحالی کو سنجیدگی سے اپنایا گیا تو شاید یہ واقعی فیصلہ کن ثابت ہو سکے۔ بصورت دیگر، چند ماہ بعد ایک نیا آئی جی، ایک نیا وزیر داخلہ اور ایک نیا ’میگا آپریشن‘ پھر خبروں کی زینت بنے گا اور کچے میں قائم ڈاکو راج بدستور ریاست پر بھاری ثابت ہوتا رہے گا۔

 

Back to top button