حکومت عمران کا فوج مخالف ایکس اکاؤنٹ بند کروانے میں ناکام کیوں؟

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد درخواستیں دائر کیے جانے کے باوجود ٹوئٹر انتظامیہ نے پاکستانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کو اپنی پالیسیوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اکاؤنٹ معطل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔  اس صورتحال نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر حکومت عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کروانے میں یکسر ناکام کیوں ہے؟ مبصرین کے مطابق ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کو مکمل طور پر بند نہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا کمپنی کی خودمختاری، پاکستانی قوانین کی بین الاقوامی سطح پر محدود حیثیت، اور عدالتی و قانونی رکاوٹیں نمایاں ہیں، جن کی وجہ سے حکومت تاحال بانی پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ بند کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا حتمی اختیار پاکستانی ریاست کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے پاس ہے۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے دائرۂ اختیار میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ایکس ایک امریکی کمپنی ہے جو صرف اپنے داخلی ضوابط اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہی کارروائی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی قوانین یا حکومتی احکامات اس کمپنی پر براہِ راست لاگو نہیں ہوتے، جب تک کہ ایکس انتظامیہ خود ان پر عمل کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے پی ٹی اے کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود ٹوئٹر یعنی ایکس انتظامیہ عمران خان کا اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کرنے سے انکاری ہے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کو بند کروانے میں ناکامی بارےاسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت نے گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کروانے کے لیے کمپنی سے تین مرتبہ رابطہ کیا۔  تاہم کمپنی کی جانب سے عمران خان کا اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواستیں تینوں مرتبہ مسترد کر دی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی درخواست 21 اگست 2022 کو دی گئی جس میں پی ٹی اے نے سابق وزیر اعظم کا اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو خط لکھا۔ دوسری مرتبہ 18 اپریل 2024 کو توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست کی گئی جبکہ 27 نومبر 2025 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 47 پوسٹیں بلاک کرنے کے لیے ایکس کو تحریری درخواست دی گئی، تاہم پلیٹ فارم کی جانب سے صرف ایک ٹویٹ بلاک کی گئی جبکہ کمپنی نے باقی حکومتی درخواست مسترد کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین سال کے دوران پی ٹی اے کی جانب سے مجموعی طور پر تین مرتبہ ایکس کو لکھا گیا لیکن مکمل اکاؤنٹ بند کرنے کی کسی بھی درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔

پی ٹی اے نے عدالت کو تحریری طور پر بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن اور مقامی فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایات دی گئیں، تاہم کوئی بھی سوشل میڈیا کمپنی نہ رجسٹر ہوئی اور نہ ہی ان میں سے کسی کا پاکستان میں فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق: ’سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں اور دیگر ممالک کے قوانین کی پابندی کو لازم نہیں سمجھتیں  سوشل میڈیا کمپنیز دوسرے ممالک سے موصول ہونے والی شکایات کو بھی اپنے قوانین کے مطابق دیکھتی ہیں۔ اسی لئے حکومت کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود ٹوئٹر انتظامیہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ مکمل بلاک کرنے سے صاف انکاری ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی درخواستوں پر مسلسل عملدرآمد سے انکار کے بعد وفاقی حکومت نے متعلقہ سوشل میڈیا کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے معاملے پر تعاون نہ کرنے کی صورت میں پاکستان میں متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے یا کم از کم ورچوئل دفاتر قائم کرنے کا پابند بنانے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں مؤثر نگرانی اور قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

Back to top button