تحریک طالبان نے فوج کو ٹکردینے کیلئے ائیر فورس یونٹ بنالیا

افغان طالبان کی پشت پناہی کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز کیلئے ایک چیلنج بن کر سامنے آنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ’فضائی فورس یونٹ‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے 54سے زائد ڈرون حملوں کے بعد نئی فضائی فورس کی تشکیل کے اعلان کو بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے دفاعی فورس کی تشکیل کے بعدآنے والے دنوں میں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے ’فضائی فورس‘ کے قیام کا اعلان محض علامتی نہیں بلکہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا عملی چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کے بقول ’’اگرچہ ٹی ٹی پی کے پاس روایتی فضائی طاقت موجود نہیں، تاہم ڈرون اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے نگرانی اور محدود حملے ان کی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بن سکتے ہیں، جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کیلئے زمینی آپریشنز کو مزید پیچیدہ بنا دیں گے‘‘
خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کی جانب سے اعلان کردہ نئے انتظامی اور آپریشنل ڈھانچے کے تحت تنظیم نے اپنے دائرۂ کار کو کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان تک وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ایک نام نہاد ’فضائی فورس‘ کے قیام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ خراسان ڈائری کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود بدستور تنظیم کی قیادت کرتے رہیں گے۔ تنظیم نے انتظامی کنٹرول کے لیے دو نئے زون قائم کیے ہیں، جن میں مغربی زون بلوچستان اور سینٹرل زون شامل ہیں، جبکہ تمام ملٹری زونز کی قیادت میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔تنظیم کے مطابق فقیر ایپی کے پڑپوتے احسان اللہ ایپی کو سدرن ملٹری زون کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ہلال غازی سینٹرل ملٹری زون کے نائب سربراہ ہوں گے۔ عظمت اللہ محسود کو پولیٹیکل کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ہے۔شمالی زون، جس میں ملاکنڈ ڈویژن، مردان، ہزارہ، باجوڑ، گلگت بلتستان اور کشمیر شامل کیے گئے ہیں، اس کی قیادت موسیٰ کلیم کو سونپی گئی ہے۔جنوبی زون میں بنوں، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی و جنوبی وزیرستان، جنوبی پنجاب، کراچی اور اندرون سندھ شامل ہیں، جبکہ وسطی زون میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، خیبر، مہمند، کوہاٹ، اورکزئی، کرم، ہنگو اور شمالی پنجاب شامل کیے گئے ہیں۔ مغربی زون میں بلوچستان کو شامل کیا گیا ہے۔گلگت کو مزید دو ذیلی یونٹس، ولایت دیامر اور ولایت داریل، میں تقسیم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ٹی ٹی پی نے مولوی سلیم حقانی کی قیادت میں اپنی نام نہاد ’فضائی فورس‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ ڈرون اسمبلی، الیکٹرانکس اور ورکشاپس کے شعبے کی ذمہ داری حمزہ کو سونپی گئی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق شدت پسند عام کواڈ کاپٹر کے ساتھ مارٹر گولہ یا دیسی ساختہ بم منسلک کرتے ہیں، جس پر نسبتاً کم لاگت آتی ہے۔ ان کے بقول 2025 میں اس طریقۂ واردات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں خطے کی جہادی تنظیموں کو فضائی اہداف کے خلاف کارروائی کا تجربہ رہا ہے، اور ڈرون کا بطور ہتھیار استعمال سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔تاہم اب ٹی ٹی پی کی جانب سے ’فضائی فورس‘ کے قیام کا اعلان حقیقت میں خود کو ایک منظم اور جدید تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق ڈرون اور کواڈ کاپٹر کا استعمال تکنیکی طور پر زیادہ پیچیدہ نہیں، تاہم یہ کم لاگت اور مؤثر ہونے کی وجہ سے شدت پسندوں کے لیے پرکشش ہتھیار بن چکا ہے۔سیکیورٹی ماہرین کے بقول ڈرون حملے کم لاگت لیکن زیادہ نفسیاتی اثر رکھنے والا ہتھیار ہیں۔ڈرون کے ذریعے حملے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں میں خوف پھیلانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’فضائی یونٹ‘ کی تشہیر کے ذریعے ٹی ٹی پی یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں اس اعلان کے عملی اثرات سیکیورٹی صورتحال کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی تنظیمی دستاویزات میں کشمیر کو صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس سے مراد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہے یا بھارت کے زیر انتظام علاقہ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ٹی پی کے دائرۂ کار میں کشمیر کی شمولیت جغرافیائی اور سیاسی خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کے مطابق ٹی ٹی پی کی تنظیم نو دراصل بدلتے ہوئے علاقائی حالات کا ردِعمل ہے۔ افغانستان میں حالات مستحکم ہونے کے بعد ٹی ٹی پی اپنی تنظیم کو صوبائی اور زونل بنیادوں پر پھیلا کر ایک نیٹ ورک کی شکل دینا چاہتی ہے، جس میں کشمیر اور گلگت بلتستان کی شمولیت محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی اور جغرافیائی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔‘‘سیکیورٹی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے اپنے زیر تسلط علاقوں میں کشمیر کا نام شامل کرنا ایک خطرناک اشارہ ہے کیونکہ’اگر ٹی ٹی پی نے واقعی کشمیر کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنایا تو اس کے بین الاقوامی مضمرات ہوں گے، اور اس کے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘
سیکیورٹی ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے مختلف زونز اور شیڈو صوبوں کا اعلان ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد مقامی سطح پر بھرتی، مالی وسائل جمع کرنے اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کو آسان بنانا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں شدت پسندانہ حملوں کی نوعیت مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہے۔
