بھارتی حملے کے بعد سے ٹرمپ کو پاکستان سے محبت کیوں ہو گئی؟

بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کا فیصلہ پاکستان کو راس آ گیا ہے، اس نے نہ صرف واشنگٹن اور اسلام اباد کے مابین پائی جانے والی دوریاں ختم کر دی ہیں بلکہ انڈیا کو امریکہ سے دور بھی کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ہر دوسرے روز پاکستان کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جگتیں لگاتے اور طنز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے مودی کو تازہ جگت تب لگائی جب انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تیل نکالنے کے معاہدے کے بعد انہیں لگتا ہے کہ مستقبل میں بھارت بھی پاکستان سے ہی تیل خریدے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ ہو چکا ہے جبکہ بھارت کے ساتھ امریکہ کا تجارتی معاہدہ ابھی فائنل نہیں ہو پایا۔ انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات مارچ 2025 سے جاری تھے اور بات چیت کے چار دور مکمل بھی ہو چکے تھے لیکن پھر اچانک اس میں تعطل آ گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس تعطل کی وجہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی ئنگ بنی۔ اسی جنگ کے سبب انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ پڑنا شروع ہوئی۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روز جاری رہنے والی جنگ کا پنگا تب ختم ہوا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی انھوں نے کروائی ہے۔ تاہم انڈیا نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کر دی۔ انڈیا کے انکار کے باوجود صدر ٹرمپ مسلسل اپنا دعویٰ دُہراتے رہے اور پاکستان نے بھی اس دعوے کی تصدیق کی۔ امریکی صدر کے بار بار دعویٰ دُہرانے کے سبب مودی کی حکومت کو انڈیا کے اندر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پچھلے ہفتے جب انڈین پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث شروع ہوئی تو اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت سے امریکہ کے جنگ بندی کے دعوے کے حوالے سے سوالات کیے۔ مودی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک نے انڈیا کو پاکستان کے خلاف جنگ روکنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ لیکن یہ بحث ختم ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹرمپ نے انڈیا پر 25 فی صد تجارتی ٹیرف عائد کرتے ہوئے روس سے پٹرول درآمد کرنے پر بھاری جرمانے کا اعلان کر دیا۔ یاد ریے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کاگہ بہتر تھے اور ایک وقت تو ایسا بھی تھا جب مودی اور ٹرمپ بہت قریب ہو چکے تھے اور ایک دوسرے کو ’مائی فرینڈ‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
گذشتہ برس جب مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں مصروف تھے لہذا مودی اور ٹرمپ کی ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔ تب یہ خبر آئی کہ امریکہ میں انڈیا کے سفیر نے مودی کو ٹرمپ سے نہ ملنے کی صلاح دی تھی کیونکہ انھیں لگ رہا تھا کہ ٹرمپ شاید الیکشن نہیں جیت پائیں گے۔ اسی سبب مودی نے ٹرمپ سے ملاقات نہیں کی اور یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخی کی وجہ بن گئی۔ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف مہم شروع کی تو ابتدا میں ہی ان کا ہدف بنے انڈین تارکینِ وطن۔ سینکڑوں غیرقانونی انڈین تارکین کو واپس انڈیا بھیجا گیا جس کی انڈیا کو توقع نہیں تھی۔ لیکن اس کے بعد جب مودی اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات ہوئی تو مودی نے بات چیت کے دوران یہ معاملہ نہیں اُٹھایا۔ صرف یہی نہیں اس وقت انڈین وزیرِ اعظم نے امریکہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں اور انھیں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
تب صدر ٹرمپ نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مودی دباؤ میں ہیں اور اتنے طاقتور نہیں ہیں جتنے نظر آتے ہیں۔ اسکے بعد جب اس برس مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے اسے ناکوں چنے چبواتے ہوئے نہ صرف بھرپور جوابی حملے کیے بلکہ اس کے رافیل طیارے بھی گرا دیے۔ مجبور ہو کر مودی سرکار کو جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ سے رابطہ کرنا پڑا۔ تاہم جنگ بندی کے بعد بھارت یہ بات تسلیم کرنے سے انکاری ہو گیا کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ سے رابطہ کیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان نے ایک ماسٹر سٹروک کھیلا۔ اسلام آباد نے جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کا کردار تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے امن کے نوبیل انعام کی سفارش کر دی۔ تاہم مودی سرکار مسلسل اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ اس معاملے نے ٹرمپ کو مودی سے مزید دور کر دیا ہے۔
انڈیا اور امریکہ کے مابین اختلافات کیا رخ اختیار کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس برس کے آخر میں کواڈ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کو انڈیا آنا ہے۔ ابھی اس دورے کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس مجوزہ دورے کے بارے میں بھی بے یقینی پیدا ہوگئی ہے۔ یاد ریے کہ مودی جب فروری میں واشنگٹن گئے تھے تو ایک جوائنٹ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے یہ کہہ کر مودی کو ایک طرح سے گھیر لیا تھا کہ امریکہ انڈیا کو ایف-35 جنگی جہاز فروخت کرے گا۔ لیکن بعد میں خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایف-35 کی خریداری کے بارے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔‘ اسکے بعد انڈین فضائیہ کے سربراہ نے بھی کہہ دیا تھا کہ یہ جہاز انڈیا کی علاقائی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس پر اخراجات بھی بہت آتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی ٹرمپ اور مودی کے درمیان تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی ہے۔
