امریکی اڈے خلیجی ممالک کے لیے رحمت کی بجائے زحمت کیوں بنے؟

 

 

 

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے خلیجی ریاستوں کے لیے ایک عذاب بن گئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان اڈوں کا بنیادی مقصد خلیجی ممالک کو بیرونی حملوں سے تحفظ دینا تھا لیکن یہ فوجی اڈے نہ صرف خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی وجہ بن گئے بلکہ امریکہ انہیں حملوں سے بچانے میں بھی یکسر ناکام دکھائی دیتا ہے جس کے نتیجے میں ان ریاستوں کی معیشت تباہی کے خدشات سے دوچار ہو گئی ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک میں اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ کیا انہیں ان امریکی اڈوں کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟

 

یاد رہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد فوری اور شدید ردعمل دیتے ہوئے خلیجی ریاستوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش شروع کر دی، جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس صورتحال نے عرب ممالک کو اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، خاص طور پر ان غیر ملکی فوجی اڈوں کے حوالے سے جو انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایران کی جانب سے جاری حملے گزشتہ دو ہفتوں میں شدت اختیار کر چکے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اس دوران 5,000 سے زائد ڈرونز اور میزائل خلیجی ممالک کی طرف داغے گئے، جو اس خطے میں کسی بھی ایک ملک کی جانب سے کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف خلیجی ریاستوں کے سکیورٹی نظام کو چیلنج کیا بلکہ خطے کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ دبئی بنا، جہاں 1,500 سے زائد ڈرونز اور 400 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اگرچہ کئی حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنایا گیا، تاہم متعدد میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دبئی، جو کہ خطے کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے، ان حملوں کے بعد شدید معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ ان حملوں سے پہلے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی تھی اور قیمتیں کئی سال بعد دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی تھیں۔ تاہم ایرانی حملوں کے بعد وہاں کی پراپرٹی مارکیٹ اچانک کریش کر گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی، جسے طویل عرصے سے عالمی سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ غیر شفاف سرمایہ کے لیے بھی محفوظ مقام سمجھا جاتا تھا، ایرانی حملوں کے بعد اپنی کشش کھو رہا ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متزلزل ہوا ہے، جس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری تقریباً رک گئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنے بینک اکاؤنٹس خالی کروا رہے ہیں۔ اس صورت حال کا ایک اہم پہلو افرادی قوت کی نقل مکانی بھی ہے۔ خلیجی ممالک میں روزگار اور کاروبار کے لیے موجود غیر ملکیوں کی بڑی تعداد اب واپسی کی راہ اختیار کر رہی ہے۔ کئی افراد نہ صرف اپنے ممالک واپس جا رہے ہیں بلکہ باقی ماندہ سرمایہ کاری کو بھی سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے مقامی معیشتوں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران کی جڑ میں وہ سکیورٹی نظریہ ہے جس کے تحت امریکہ نے خلیجی ریاستوں میں فوجی اڈے قائم کیے تھے۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ ان اڈوں کے ذریعے وہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری دفاع فراہم کرے گا، جس سے مقامی ممالک کو اپنی فوجی طاقت بڑھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تاہم ایران کے مسلسل حملوں نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے باوجود حملوں کا نہ رکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی کی یہ ضمانت اب مؤثر نہیں رہی۔ اس سے نہ صرف امریکہ کی دفاعی ساکھ متاثر ہوئی ہے بلکہ خلیجی ممالک کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مرتضیٰ خامنہ ای نے اس تناظر میں ایک سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے خلیجی ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود غیر ملکی فوجی اڈے فوری طور پر ختم کریں، کیونکہ ان اڈوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا واضح انتباہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایران کے حملے جاری رہیں گے۔

ایران پر حملے نے ٹرمپ کی صدارت خطرے میں کیوں ڈال دی؟

یہ مطالبہ خلیجی حکومتوں کے لیے ایک مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی سکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف یہی انحصار اب ان کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس حوالے سے بحث شروع ہو چکی ہے کہ آیا موجودہ حکمت عملی واقعی قومی مفاد میں ہے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق غیر ملکی فوجی اڈے، جو کبھی خلیجی ممالک کے لیے دفاعی ڈھال سمجھے جاتے تھے، اب ایرانی اہداف میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی اڈوں کی موجودگی کسی بھی خلیجی ملک کو براہِ راست جنگی دائرے میں لے آتی ہے، جس سے شہری اور معاشی مراکز بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں خلیجی ریاستیں اپنی دفاعی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ ان میں مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، علاقائی تعاون کو فروغ دینا، اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے اختیار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ بحران نہ صرف سکیورٹی بلکہ معاشی اور سیاسی سطح پر بھی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک اب ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ پرانی پالیسیوں کو جاری رکھیں یا ایک نئی، خودمختار اور متوازن حکمت عملی اختیار کریں۔

 

Back to top button