پاکستان میں فلائٹ آپریشنزکی منسوخی معمول کیوں بن گئی؟

جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے پہلے سے بحران کا شکار پاکستانی ایوی ایشن انڈسٹری کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ خطے کی حالیہ صورتحال کے نتیجے میں جہاں متعدد پاکستانی اور بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنے فلائٹ آپریشنز محدود کر دئیے ہیں، وہیں مختلف ایئرپورٹس پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر معمول بن چکی ہے۔ پیشگی اطلاع کے بغیر پروازوں کی منسوخی اور معطلی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے بین الاقوامی پروازوں کے روٹس کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ خطے کی کشیدی صورتحال کی وجہ سے کئی ایئرلائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے بلکہ آپریشنل اخراجات میں بھی بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔اس کے نتیجے میں جہاں کئی ائیر لائنز نے اپنی پروازیں منسوخ یا محدود کر دی ہیں جبکہ کئی فضائی کمپنیوں نے اپنے خلیجی ممالک اور یورپ کے روٹس ہی مکمل طور پر بند کر دئیے ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے نے بھی موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے بین الاقوامی آپریشنز محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق فضائی ایندھن یعنی جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ایئرلائن کے مالی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی سخت فیصلے کئے گئے ہیں۔ پی آئی اے کے اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بیجنگ اور کوالالمپور کے لیے پروازیں بالترتیب 11 اور 14 اپریل سے معطل کر دی جائیں گی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے علاوہ خلیجی ممالک کے لیے پروازیں اپریل کے آخر تک بند رہیں گی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں محدود کر کے ہفتہ وار 16 کر دی جائیں گی۔ترجمان کے مطابق یہ فیصلے جیٹ فیول کی قیمتوں میں چوتھی بار اضافے کے بعد کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایوی ایشن انڈسٹری میں ایندھن کی قیمتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔پی آئی اے کے مطابق ایندھن کی قیمتوں کا تمام بوجھ مسافروں پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے آپریشنل سطح پر سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ انھی کفایت شعاری اقدامات کے تحت پروازوں کی معطلی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے طلبہ، بینک ملازمین، بزرگ شہریوں، صحافیوں اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو ملنے والی تمام رعایتیں بھی ختم کر دی ہیں۔ اب صرف کم عمر اور نوزائیدہ بچوں کو ہی ٹکٹوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیاستدان ایک دوسرے کو غدار قرار دینا کب بند کریں گے؟
ماہرین کے بقول بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کی وجہ سے فضائی کمپنیوں کی جانب سے پروازوں کی منسوخی اور محدود آپریشن کے باعث مسافروں کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن میں فلائٹ ری شیڈول کرنے میں تاخیر، اضافی اخراجات، بیرونِ ملک ملازمتوں پر اثرات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر خلیجی ممالک جانے والے محنت کش طبقے کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہے، کیونکہ ان کی ملازمتیں وقت کی پابندی سے جڑی ہوتی ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں استحکام نہیں آتا اور ایندھن کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، تب تک فضائی سفر میں اس قسم کی رکاوٹیں جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیشگی منصوبہ بندی کریں اور اپنی پروازوں کے حوالے سے مسلسل معلومات حاصل کرتے رہیں۔ تاہم پی آئی اے اور دیگر ایوی ایشن حکام کو امید ہے کہ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر ہوتے ہیں اور ایندھن کی قیمتیں مستحکم ہو جاتی ہیں، تو متاثرہ روٹس کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق امید ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قیمتیں جلد معمول پر آ جائیں گی، جس کے بعد تمام معطل روٹس بحال کر دیے جائیں گے۔
