آمدن میں 97فیصد اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے غریب کیوں ہو گئے؟

پاکستان میں گزشتہ پانچ سال کے دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اوسط آمدن میں 97فیصد اضافے کے باوجود پاکستانی عوام مزید غریب ہو گئے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اکنامک سروے کے مطابق 2019 سے 2025 یعنی گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن97فیصد اضافے کے ساتھ 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی ہے جبکہ اس کے برعکس اوسط گھریلو اخراجات 113 فیصد اضافے سے 37 ہزار 159 روپےسے بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آمدن بڑھنے کے باوجود مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ملک بھر میں غربت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ظاہری طور پر یہ ایک خوش آئند خبر محسوس ہوتی ہے کہ اوسطاً پاکستانی گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں، تاہم آمدن کی تقسیم پر نظر ڈالیں تو ایک مختلف اور تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ 2024-25 میں غریب ترین پانچواں طبقہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے ماہانہ کماتا ہے، جبکہ امیر ترین طبقے کی اوسط آمدن 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ہے، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔ شہری علاقوں میں یہ عدم مساوات مزید نمایاں ہے، جہاں امیر ترین گھرانے اوسطاً 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے ماہانہ کماتے ہیں، جبکہ غریب ترین شہری گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم آمدن پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب گزشتہ 5 سال کے دوران اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2018-19 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے بقول آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں حقیقی طور پر غربت میں کتنا اضافہ ہوا ہے ؟ معاشی ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب حقیقی آمدن کے تجزیے میں پوشیدہ ہے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ غریب ہے۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر تقریباً تمام شہری اور دیہی طبقات حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہوا ہے، جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2018-19 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا، جبکہ 2024-25 میں وہی گھرانہ 2018-19 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کی حقیقی آمدن پر آ گیا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو چکا ہے۔
کیا ایران میں خون ریز ہنگاموں کے پیچھے واقعی امریکی ہاتھ ہے؟
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر 2018-19 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلوگرام گندم استعمال کرتا تھا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 2024-25 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلوگرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تقریباً تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 2018-19 میں 15.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 24.4 فیصد ہو گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں؛ جہاں پہلے آمدن کا تقریباً 4 فیصد تعلیم پر خرچ ہوتا تھا، اب یہ گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر اخراجات نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی اضافے کے ساتھ 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں ایک استحصالی معاشی نظام، مسلسل گورننس کے مسائل اور دائمی سیاسی عدم استحکام میں پیوست ہیں۔۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی اور اسے ہر قسم کی سیاسی تبدیلی سے محفوظ بنانا ہوگا۔جب تک ایسا نہیں ہوتا، عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ ق
